“مجمع الزوائد و منبع الفوائد” کا تعارف، اسلوب اور خصوصیات
“مجمع الزوائد و منبع الفوائد” کا تعارف، اسلوب اور خصوصیات
✍️ابو ھریرہ محمد منور الحنفی العطاری
۱_“مجمع الزوائد” کا پورا نام “مجمع الزوائد و منبع الفوائد” ہے۔
۲_اس کو امام علی ابن ابو بکر الہیثمی (735ھ – 807ھ) نے تصنیف کیا۔
۳_طبع: دار الکتب العلمیہ بیروت سے ۱۲ ضخیم جلدوں میں شائع ہے جس کی آخری دو جلدیں معجم کی ترتیب سے احادیث کی فہرست پر مشتمل ہیں۔
۴_اس میں احادیث کی تعداد 18 ہزار 776 ہے۔
۵__مزے کی بات یہ ہے کہ امام ہیثمی نے “مجمع” میں احادیث جمع کیں ان پر کلام بھی کیا ہے جیسے رواہ الطبرانی و رجالہ رجال الصحیح، رجالہ کلھم ثقات، رجالہ موثقون، فیہ فلاں متکلم فیہ، فیہ فلاں کذبہ فلاں، فیہ فلان متروک وغیرہ ذلک لیکن یاد رہے یہ کسی سند کی صحت کے لیے مکمل حکم نہیں۔
۶_کبھی مکمل حکم بھی لگا دیتے ہیں جیسے حدیث حسن، سندہ صحیح وغیرہ ذلک۔
۷_امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں (۱)مسند احمد(۲)مسند ابی یعلی(۳)مسند بزار (۴)معجم طبرانی کبیر(۵)اوسط(۶)صغیر ان چھ کتب سے وہ حدیثیں لی ہیں کہ جو صحاح ستہ میں نہیں تھیں۔
۸_اقول:اگر آپ صرف یہ دو کتب تجرید صحاح ستہ اور مجمع الزوائد مکمل پڑھ لیں تو گویا آپ نے کم وقت میں ان 12 کتب کی تمام احادیث نظر سے گزار لی سبحان اللہ العظیم۔
اللہ پاک ہمیں حدیث و محدثین کے فیضان سے وافر حصہ عطا فرمائے آمین بجاہ طہ و یس۔
