“مرتدہ شبنم شیخ ممبئی کی حقیقت”

وطن عزیز میں مسلم مخالف طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں میں سے کچھ ایسے افراد کو تیار کیا جا رہا ہے جو مسجد میں نماز بھی پڑھیں اور مندر میں پوچا بھی کریں,عید بھی منائیں ,ہولی بھی کھیلیں اور ہندو لڑکا سے شادی بھی کریں۔ان کو سچا محب وطن مسلم قرار دیا جا رہا ہے اور جو اسلام پر مکمل عمل پیرا رہے اور کفریہ و شرکیہ اقوال و افعال سے دور رہے وہ ان کی نظر میں متشدد مسلمان ہے!

“فیورک” تنظیم کا نام آپ نے سنا ہوگا اسی کے افکار ونظریات کو زمین پر اتارا جا رہا ہے اور ممبئی کی رہنے والی ” شبنم شیخ ” اور بنارس کی رہنے والی مسلم مہیلا فاؤنڈیشن کی فاؤنڈر “نازنین انصاری ” کو دیکھ سکتے ہیں یہ دونوں عید بھی مناتی ہیں ,ہولی بھی کھیلتی ہیں,نماز بھی پڑھتی ہیں اور پوجا و آرتی بھی کرتی ہیں اور شبنم شیخ بالکل ڈانس کرتی تھی ,ٹک ٹاک ,یوٹیوب پر ناچ گانے پر مشتمل ویڈیو بناتی تھی پھر ایک لڑکا ایشور شرما کے ساتھ گھومنے لگی اور اس کے اپنے آپ کو “سناتنی مسلم لڑکی” مسلم و ہندو دونوں بن کر یعنی “مخنث اور اکبر کی دین الہی پر عاملہ ” کی شکل میں مارکیٹ میں اور گوبر بھگتوں کی نظر میں چھا گئی اور اس طرح پیسے کمانے لگے اور پھر اس ٹرک پر آج تک عمل کر رہی ہے! یہ ایک آزاد لڑکی ہے اور ہر مرتبہ ایک نئے لڑکا کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ان دونوں کی طرح مسلمانوں کی شکل میں کچھ مرد و خواتین بھی بھولے بھالے اور اسلامی عقیدہ و نظریہ سے نا آشنا لوگوں کو چند دنیاوی و ذاتی مفادات کا لاچ دے “فتنہ ارتداد” کا شکار بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور شہد دکھا کر زہر پلانے کی کوشش کر رہے ہیں ! در اصل یہ ” مسلم راشٹریہ منچ,شدھی تحریک اور آریہ تحریکوں ” کے ملازم ہیں۔اور میڈیا کے ذریعے ان کو پکا سچا مسلم و مسلمہ بناکر کو ہائی لائٹ کرایا جا رہا ہے۔ذرا بدنام زمانہ مرتدہ شبنم شیخ کو دیکھ لیں کہ جب سے یہ ممبئی سے ایودھیا چلی ہے تب سے میڈیا والے اس کو ایسے دیکھا رہے ہیں کہ جیسے ” چین سے جنگ جیت کر آ رہی ہو !” آپ بارہا سنتے ہوں گے کہ فلاں جگہ فلانہ مسلمہ ہندو لڑکا سے مندر یا کورٹ میں شادی کرلی اور ہندو بن گئی یہ سب جانے انجانے, بالواسطہ اور بلا واسطہ مذکورہ تنظیموں سے جڑے افراد کے رابطے میں پیار و محبت کے نام پر آ کر تبدیلی مذہب کر رہی ہیں۔ ان لوگوں کا فتنہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے ۔!

ہمارے یہاں مفتیوں اور قاضیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔لیکن فتنہ ارتداد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور مسلم معاشرہ بے عمل ہوتا جا رہا ہے اور دین سے دور ہوتا جا رہا ہے !

ان حضرات سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ چالیس پچاس مسلم گھروں کے لیے مفتی و قاضی بن جائیں اور ان کو گود میں لے کر ان کی دینی تعلیم و تربیت کریں تاکہ ان کو کوئی گمراہ نہ کر سکے۔

✍محمد عباس الازہری