کیا امام محمد کو امام ابن معین الحنفی نے کذاب کہا
کیا امام محمد کو امام ابن معین الحنفی نے کذاب کہا؟
غیر مقلدین کی طرف سے پیش کردہ جرح کا تحقیقی جائزہ!
ازقلم: اسدالطحاوی
امام ابن عدی، امام عقیلی اور امام خطیب نے امام یحییٰ بن معین سے یہ کلام نقل کیا :
قال ابن معین محمد بن حسن کذاب
اور انہوں نے بغیر دلیل کے اسکو امام محمد بن حسن شیبانی کے ترجمہ میں گھسا دیا جبکہ ان میں سے کسی ناقد کے پاس دلیل نہیں تھی کہ امام ابن معین نے یہ جرح امام محمد بن حسن شیبانی پر کی ہے ؟
کیونکہ امام ابن معین کے اس کلام میں فقط “محمد بن حسن” نام ہے شیبانی یا صاحب ابی حنیفہ کی تصریح نہیں
اور امام ابن معین کے سب سے مقدم شاگرد اور امام ابن معین کی صحبت میں رہنے والے امام محمد بن عباس الدوری نے مکمل ناموں کی تصریح کے ساتھ اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ یہ جرح امام ابن معین نے امام محمد شیبانی پر نہیں کی ہے ۔
جیسا کہ تاریخ ابن معین کتاب میں جب دیکھتے ہیں تو اس نام کے تین راویان ہیں ۔
●》 سمعت يحيى يقول بن زبالة اسمه محمد بن الحسن بن زبالة وكان كذابا ولم يكن بشيء وهو مدني
▪︎الدوری کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے سنا ابن زبالہ جسکا نام محمد بن حسن بن زبالہ ہے یہ کذاب تھا ۔اور یہ کچھ نہیں یہ مدنی ہے
[تاریخ ابن معین بروایت الدوری برقم:1060]
قال يحيى محمد بن الحسن الهمداني ليس بثقة
▪︎ابن معین نے کہا کہ محمد بن حسن ھمدانی یہ ثقہ نہیں
[برقم:1686]
حدثنا يحيى قال محمد بن الحسن بن أبى يزيد يكذب
▪︎الدوری کہتے ہیں مجھے امام یحییٰ بن معین نے کہا کہ محمد بن حسن بن ابی یزید یہ جھوٹا ہے
[برقم:1808]
●》اور اسی کتاب میں امام الدوری نے امام محمد بن حسن شیبانی کے بارے کہا :
▪︎سمعت يحيى يقول محمد بن الحسن الشيباني ليس بشيء
میں نے امام ابن معین سے سنا کہ امام محمد قلیل الروایت ہے
《نوٹ: 》
امام جس راوی پر لیس بشئ کا اطلاق کریں وہ انکے نزدیک قلیل الروایت ہوتا ہے یہ جرح نہیں۔
[برقم:1770]
●》اب امام ابن معین کے دیگر شاگردوں سے بھی تصریحات پیش خدمت ہیں جنکی کتب اب موجود ہین :
وسمعت يحيى يقول: سمعت محمد بن الحسن صاحب الرأي، وسأله رجل، قال: سمعت هذه الكتب من أبي يوسف؟ قال: لا والله، ولكني أعلم الناس بها، وما سمعت منها إلا ” الجامع الصغير
▪︎امام یحییٰ بن معین کہتے ہین میں نے امام محمد بن حسن صاحب ابی حنیفہ سے سنا ان سے ایک بندے نے سوال کیا کہ آپ نے یہ کتب ابی یوسف سے سماعت کی ہے ؟ تو انہوں نے کہا نہیں واللہ لیکن میں (انکے بارے)لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ۔ میں نے ان (ابو یوسف) سے کچھ نہیں سنا سوائے جامع الصغیر کے
[تاریخ ابن معین بروایت ابن محرز برقم:854]
اور امام ابن معین نے تو امام محمد سے خود روایت کرتے تھے تو وہ کیسے انکو کذاب کہہ سکتے ہیں کیونکہ امام ابن معین اپنے نزدیک صرف ثقہ سے روایت کرتے تھ
●》 جیسا کہ امام ابن حجرعسقلانی ایک راوی سعدان بن سعد الليثي. فرماتے ہین :
روى عنه يحيى بن مَعِين.
قلت: ويكفيه رواية ابن مَعِين عنه.
▪︎ان سے امام ابن معین نے روایت کیا ہے اور میں (عسقلانی)کہتا ہوں کہ ان سے ابن معین کا روایت کرنا ہی انکی (توثیق) کے لیے کافی ہے
[لسان المیزان برقم:3371]
تو معلوم ہوا امام ابن معین نے امام محمد بن حسن سے انکا جامع الصغیر کے بارے قول روایت کرکے بتا دیا کہ انکے نزدیک وہ ثقہ تھے
●》اور امام دوری نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ امام ابن معین نے امام ابو یوسف کی جامع الصغیر مکمل امام محمد کے پاس بیٹھ کر لکھی تھی ۔جیسا کہ وہ فرماتے ہیں :
حدثني الحسن بن محمد بن الحسن الخلال قال أنبأنا علي بن عمرو الجريري أن أبا القاسم علي بن محمد بن كاس النخعي حدثنا عبد الله بن العباس الطيالسي قال نبأنا عباس الدوري قال سمعت يحيى بن معين يقول كتبت الجامع الصغير عن محمد بن الحسن
▪︎امام الدوری کہتے ہیں امام ابن معین کو کہتے سنا کہ میں نے امام محمد بن حسن سے الجامع الصغیر (مکمل کتاب) لکھی ہے
[تاریخ بغداد وسندہ صحیح]
¤تو امام ابن معین نے نہ صرف امام محمد بن حسن سے لکھا ہے بلکہ ان سے روایت بھی کیا ہے جیسا کہ اوپر ثبوت پیش کیا ہے
اور امام ابن معین تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد و امام ابی یوسف کا دفاع کرتے تھے اور ناقدین کے بارے کہتے تھے کہ جرح کرنے میں حق سے تجاوز کرگئے اور انصاف سے کام نہیں لیا ان پر کلام کر کے
جیسا کہ انکا سب سے مقدم شاگرد الام الدوری روایت کرتا ہے :
حدثنا عبد الرحمن بن يحيى، ثنا أحمد بن سعيد، ثنا أبو سعيد بن الأعرابي، ثنا عباس بن محمد الدوري قال: سمعت يحيى بن معين يقول: «أصحابنا يفرطون في أبي حنيفة وأصحابه» فقيل له: أكان أبو حنيفة يكذب؟ فقال: «كان أنبل من ذلك»
▪︎امام الدوری کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین کو کہتے سنا کہ ہمارے ساتھی (ناقدین) امام ابو حنیفہ اور اور انکے اصحاب (ابو یوسف و محمد ) پر جرح میں حد سے تجاوز کرتے تھے ان سے پوچھا گیا کہ کیا ابو حنیفہ جھوٹ بولتے تھے ؟ تو امام ابن معین نے کہا انکا مقام اس سے بلند و بالا تھا کہ وہ جھوٹ بولیں (تم کو یہ سوال کرنے کی حاجت ہی نہیں ہونی چاہیے )
[جابع بیان العلم وسندہ صحیح]
¤خلاصہ تحقیق¤
پس ثابت ہوا کہ امام ابن عدی ، امام عقیلی و امام خطیب اور امام دارقطنی نے امام ابن معین سے محمد بن حسن نامی دوسرے راوی پر کذب کی جرح کو امام محمد شیبانی بنا دیا تعصب یا فحش خطاء کے سبب جبکہ امام ابن معین کے شاگردوں کی کتب میں ناموں کی تصریح موجود ہے یہ جرح دیگر رواتہ پر تھی۔
اور امام محمد سے تو امام ابن معین نے مکمل کتاب لکھی بلکہ ان سے روایت بھی کیا ہے۔
اسد الطحاوی✍