أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ تَوۡبَةً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّكَفِّرَ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيُدۡخِلَـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ ۚ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَ تۡمِمۡ لَـنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَـنَا‌ ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو، یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تم سے تمہارے گناہوں کو مٹا دے اور تم کو ان جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، جس دن اللہ نہ نبی کو شرمدنہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو، یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تم سے تمہارے گناہوں کو مٹا دے، اور تم کو ان جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، جس دن اللہ نہ نبی کو شرمندہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا، وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے ( التحریم : ٨)

” توبۃ النصوح “ کی تعریف میں مفسرین کے اقوال

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٤٧ ھ لکھتے ہیں :

’ ’ التوبۃ النصوح “ کے حسب ذیل معانی ہیں :

(١) حضرت عمر، حضرت ابی بن کعب اور حضرت معاذ (رض) نے کہا : ” التوبۃ النصوح “ یہ ہے کہ بندہ جس گناہ سے توبہ کرے پھر دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ لوٹے۔

(٢) حسن بصری نے کہا : بندہ پچھلے گنتا ہوں پر نادم ہو اور یہ عزم مصمم کرے کہ وہ دوبارہ اس گناہ کو نہیں کرے گا۔

(٣) سعید بن جبیر نے کہا : وہ توبہ مقبولہ ہے اور توبہ کے قبول ہونے کی تین شرائط ہیں : ١۔ توبہ قبول نہ ہونے کا خوف ہو۔ ب۔ توبہ قبول ہونے کی امیدہو۔ ج۔ اور دائمی اطاعت کرے۔

(٤) القرظی نے کہا : اس توبہ میں چار چیزیں ہیں : زبان سے استغفار ہو، بدن سے گناہ کو اکھاڑ پھینکے، دل سے دوبارہ نہ کرنے کا اظہار ہو اور برے کاموں کو ترک کر دے۔

(٥) سفیان ثوری نے کہا : اس کی چار علامتیں ہیں : قلت، علت، غربت اور ذلت۔

(٦) الواسطی نے کہا : یہ تو بہ کسی عوض کی وجہ سے نہ ہو، جو شخص دنیا میں گناہ کرتا ہے اس کا مقصد اپنی خواہش پورا کرنا ہے، اور جو شخص اس گناہ سے توبہ کرتا ہے اس کا مقصد اپنی آخرت سنوارتا ہے، تو یہ اپنے نفس کے لیے توبہ ہے، اللہ کے لیے نہیں ہے۔

(٧) الرقاق المصری نے کہا : یہ لوگوں کے غضب کیے ہوئے حقوق واپس کرنا ہے اور لوگوں سے کی ہوئی زیادتی کو معاف کرانا ہے اور ہمیشہ اطاعت کرنا ہے۔

(٨) ذوالنون نے کہا : اس کی تین علامتیں ہیں : کم باتیں کرنا، کم کھانا اور کم سونا۔

(٩) شقیق نے کہا : یہ اپنے نفس کو بہت ملامت کرنا ہے اور ہمیشہ گناہ پر نادم رہتا ہے۔

(١٠) جنید نے کہا : گناہ کو اس طرح بھول جائے کہ پھر کبھی اس کو یاد نہ کرے کیونکہ جس کی توبہ صحیح ہوتی ہے وہ اللہ سے محبت کرتا ہے اور جو اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس کے ماسوا کو بھول جاتا ہے۔

(١١) فتح الموصلی نے کہا : اس کی تین علامتیں ہیں : نفسانی خواہش کی مخالفت کرنا، زیادہ رونا اور بھوک اور پیاس کو برداشت کرنا۔

(١٢) کلبی نے کہا : دل سے نادم ہونا، زبان سے استغفار کرنا، گناہ کو اکھاڑ دینا، اور مطمئن ہونا کہ وہ دوبارہ گناہ نہیں کرے گا۔

(١٣) بعض نے کہا : جب گناہ یاد آئے تو اس پر ندامت طاری ہو اور وہ اس گناہ پر استغفار کرے۔

(الکشف و البیان ج ٩ ص ٣٥١، ٣٥٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اس سے مراد یہ ہے کہ انسان برے کاموں پر انتہائی نادم ہو اور دوبارہ وہ برے کام نہ کرے۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٥٧٣، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمدمال کی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جس گناہ سے آدمی توبہ کر رہا ہے وہ یا تو اللہ کا حق ہوگا یا بندوں کا حق ہوگا، اگر وہ اللہ کا حق ہے مثلاً نماز کو ترک کرنا تو اس کی توبہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوگی جب تک نادم ہونے کے ساتھ ساتھ ترک کی ہوئی نماز کو ادا کرے، اور اگر اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو تو وہ اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کر دے اور اگر اس نے کسی پر زنا کی نہمت لگائی ہے تو اپنے آپ کو حد قذف کے لیے پیش کر دے اور اگر اس سے قصاص کو معاف کردیا گیا تو اس کا نادم ہونا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا اخلاص سے ارادہ کرنا، اس کی توبہ کے لیے کافی ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ دیت کی پیش کش کرے۔ اور اگر اس نے شراب پی ہے یا زنا کیا ہے اور قاضی کے سامنے جرم پیش ہونے سے پہلے اس نے توبہ کرلی ہے تو حد جاری ہونے سے وہ پاک ہوجائے گا اور اگر قاضی کے سامنے اس کا مقدمہ پیش نہیں ہوا اور اس نے تنہائی نادم ہو کر اخلاص سے توبہ کرلی تو یہ کافی ہے، اور اگر اس کا گناہ بندوں پر ظلم کرنا ہے تو اس کی توبہ اس وقت صحیح ہوگی جب وہ اس بندہ کا حق لوٹا دے گا اور اگر وہ اس پر قادر نہ ہو تو یہ عزم کرے کہ جب وہ اس پر قادر ہوگا اس کا حق واپس کر دے گا، اور اگر اس نے کسی بندہ کو نقصان پہنچایا ہے تو اس سے معافی مانگ لے اور اس پر استغفار کرے، جب وہ شخص معاف کر دے گا تو اس کا گنا کہ ساقط ہوجائے گا اور اگر اس نے کسی بندہ کو ناحق مارا پیٹا ہے یا اس کو گالی دی تو اس سے معاف کرے، وہ شخص معاف کر دے گا تو اس کا گناہ ساقط ہوجائے گا۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ١٨ ص ١٨٥، ١٨٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس کے بعد فرمایا : یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تم سے تمہارے گناہو کو مٹا دے، اور تم کو ان جنتیوں میں داخل کر دے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں۔

توبہ کرنے سے گناہوں کا معاف ہونا

یعنی اگر تم سچی توبہ کرلو اور اس کا معیار یہ ہے کہ جس گناہ سے تم نے توبہ کی ہے پھر دل میں تم اس گناہ کو کرنے کا منصوبہ بنائو اور اس کی طرف رغبت نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور تم کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مثل ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٥٠، المعجم الکبیر ج ٢٢ ص ٣٠٦، حلیۃ الاولیاء ج ١٠ ص ٣٩٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک بندہ گناہ کرتا ہے، پھر جب وہ اپنے گناہ کو یاد کرتا ہے تو اپنے کیے ہوئے پر غمگین ہوتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے پر غمگین ہے تو اس کو معاف فرما دیتا ہے۔

(مجمع الزوائد رقم الحدیث : ٧٥٢١، حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند میں ایک راوی دائود بن المجمر ضعیف ہے)

اس کے بعد فرمایا : جس دن اللہ نہ نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا، وہ کہیں گے : اے ہما رے رب ! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے، اور ہمیں بخش دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

مرجئہ کا اس پر استدلال کہ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کی ضرورت نہیں اور اس کا رد

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نبی کو اور ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا، اس آیت میں کفار اور فساق پر تعریض ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن رسوا کرے گا، اور اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عزت اور وجاہت کا اظہار ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کے دن شرمندہ نہیں ہونے دے گا کہ آپ کی شفاعت کو مسترد کر دے اور مومنین کی مدح ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دائمی عذاب دے کر رسوا نہیں کرے گا۔

مرجئہ نے اس آیت سے اپنے مؤقف پر استدلال کیا ہے کہ ایمان لانے کے بعد گناہوں سے بچنے اور نیک عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اگر مؤمنوں کو دوزخ میں داخل کر کے عذاب دیا جائے تو وہ رسواہوں گے، قرآن مجید میں ہے :

رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ (آل عمران : ١٩٢) اے ہمارے رب ! بیشک تو نے جس کو دوزخ میں داخل کیا اس کو تو نے رسوا کیا۔

اور التحریم : ٨ کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو رسوا نہیں کرے گا، پس ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو دوزخ میں داخل نہیں کرے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ دائمی عذاب کے لیے دوزخ میں داخل کرے گا وہ ان کو رسوا کرے گا اور گناہ گار مؤمنوں کو اللہ تعالیٰ عارضی طور پر تطہیر کے لیے دوزخ میں داخل کرے گا اس لیے وہ رسوا نہیں ہوں گے، دوسرا جواب یہ ہے کہ التحریم : ٨ میں مطلقاً مؤمنوں کے لیے نہیں فرمایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان مؤمنوں کے لیے فرمایا ہے جو نبی کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور وہ صحابہ کرام ہیں اور ان سے اللہ تعالیٰ نے عاقبت حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے اور وہ مطلقاً دوزخ میں داخل نہیں ہوں گے۔

قیامت کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت کے خلاف سید مودودی کی نقل کردہ ضعیف روایت اور اس کا رد

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ( یا مت کے دن) اللہ نبی کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا ( کہ آپ کی شفاعت مسترد کر دے۔ )

لیکن سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس کے بر خلاف ایک ضعیف روایت استدلال میں پیش کی ہے :

ابن ماجہ نے اس سلسلہ میں جو حدیث نقل کی ہے وہ بڑے ہی درد ناک الفاظ میں ہے، اس میں حضور فرماتے ہیں :

خبردار رہو ! میں تم سے آگے حوض پر پہنچا ہوا ہوں گا، اور تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں کے مقابلہ میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا، اس وقت میرا منہ کالا نہ کرنا۔ الحدیث (ابن ماجہ کتاب المناسک) (تفہیم القرآن ج ٦ ص ٤٩٤)

یہ روایت جس میں ” لا تسودوا وجھی “ میرا منہ کالا نہ کرنا کے الفاظ ہیں، غایت درجہ کی ضعیف ہے اور کسی محدث نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے۔ یہ الفاظ صرف ابن ماجہ میں ہیں :

ڈاکٹر بشار عواد معروف اس حدیث کی سند کی تحقیق میں لکھتے ہیں :

اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس کی سند کا ایک راوی زافر بن سلیمان الایادی ہے، وہ اس روایت میں متفرد ہے، اس سے زیادہ ثقہ والوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ( حاشیہ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٠٥٧ )

قرآن مجید تو فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ نبی کو شرمندہ نہیں ہونے دے گا اور سید مودودی اس روایت کو نقل کر رہے ہیں :” تم میرا منہ کالا نہ کرنا “ جو روایت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت میں قرآن مجید کی کتنی آیات ہیں۔

وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی (الضحیٰ : ٥) عنقریب آپ کا رب آپ کو اس قدر عطاء فرمائے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے

عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (بنی اسرائیل : ٧٩) عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا

تبیان القرآن سورۃ نمبر 66 التحريم آیت نمبر 8