امام نسائی کے نزدیک ترک رفع الیدین کا موقف اور اس پر اہل حدیث حضرات کے اعتراض کا جواب

ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی

 

یہ موصوف۔۔۔۔۔ ہیں لگتا ہے انکا دن رات کا اوڑھنا اور بچھوڑنا فقط مسلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام ہے اور میں کئی سالوں سے موصوف کو فقط اسی موضوع پر ہی لکھے پایا ہے جب بھی نظر پڑی ۔ موصوف کی ایک تحریر پر نظر پڑی جس پر ہم نے کمنٹ میں موصوف کو بتایا کہ امام نسائی کے نزدیک ترک رفع الیدین کا موقف ثابت ہے اور وہ اس کے ترک اور رخصت دونوں موقف کے قائل تھے جس پر موصوف نے ہم کو اپنی ایک پرانی تحریر پر مطلع کرایا جسکو پڑھ کر میں حیران ہوا کہ جس بندے کا سارا دن اور رات ایک ہی کام یعنی مسلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر ابحاث کرنا ہو اور وہ اتنی کچی اور بے تکی اور منہج و اسلوب سے ہٹی ہوئی باتیں کیسے کر سکتا ہے ؟

یا تو وہ یہ سمجھتا ہوگا کہ جو بھی وہ لکھ دیتا سب اسکی بات من و عن مان لینگے

یا

جو اس نے لکھا ہوگا فقط مقابلہ بازی اور ہارجیت والے فتنے کی نظر ہو گیا ہوگا

یا

موصوف جان بوجھ کر خود غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ہم اس پر کوئی اپنی رائے نہیں دیتے اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے

 

خیر امام نسائی علیہ رحمہ کے تعلق سے موصوف کی جو مختصر تحریر پڑھی ہم پہلے اسکو من وعن نقل کرتے ہیں اور ساتھ میں موصوف کا علمی محاسبہ کرینگے اور اللہ کےفضل سے اعتدال کا دامن نہیں چھوڑینگے ۔

تو موصوف لکھتے ہیں :

امام نسائی ؒ کے قائم کردہ باب سے کیا رفع یدین کا نسخ ثابت ہوتا ہے ؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے رفع یدین کی احادیث کو پہلے نقل کیا ہے اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو بعد میں نقل کیا ہے اور اس روایت پر ترک اور رخصت کے ابواب قائم کیے ہیں،لہٰذا رفع یدین منسوخ ہے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اصول ہی سرے سے باطل ہے کیونکہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ”رکوع میں کیا پڑھنا چاہئے ؟ ” اس کے متعلق چھ مختلف ابواب قائم کئے ہیں پھر سب سے آخر میں یہ باب قائم کیا ہے:

”باب الرخصۃ في ترک الذکر فی الرکوع ” رکوع میں کچھ نہ پڑھنا ۔

دیکھئے سنن نسائی ( جلد ١ص ٣٥٠ مترجم، درسی نسخہ جلد ١ص ١٦١ قبل حدیث: ١٠٥٤)

تو کیا کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ رکوع کی تمام تسبیحات منسوخ ہیں ؟ !

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

موصوف نے جو مثال دی ہے امام نسائی ؒ سے کہ انہوں نے رکوع میں تسبیحات کے پہلے چھے ابواب قائم کیے اور اسکے تحت روایات نقل کی ہیں اور اخر میں انہوں نے ” باب الرخصۃ في ترک الذکر فی الرکوع” کا قائم کیا ہے ۔ اور موصوف اس پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں کہ ”کیا کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ تمام تسبیحات منسوخ ہیں ؟!”

 

اب موصوف کے اس اعتراض پر ہمارے چند نکات درج ذیل ہیں !

۱۔کیا امام نسائی نے آخر میں جوباب قائم کیا ہے کیا اس میں امام نسائی کا دعویٰ تسبیحات کے نسخ پر ہے یا رخصت پر ہے ؟

۲۔ نسخ اور رخصت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ نسخ امور کو کرنا جائز نہیں ہوتا جبکہ جن امور میں رخصت ہو انکو کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز ہوتا ہے

۳۔ کیا امام نسائی جب کسی مسلے میں رخصت کا باب قائم کریں تو کیا وہ عمل انکے نزدیک منسوخ ہوتا ہے یا فقط اس میں رخصت ہوتی ہے ؟

 

اب ہم موصوف کے لکھے گئے الزامی اعتراض کا جواب بالکل ہی مختصر مگر انکے ہی گھر سے دینگے !

 

جیسا کہ رکوع میں تسبیحات میں رخصت کی روایت جس پر امام نسائی نے اپنا باب باندھا ان پر موصوف کےمحدث جنکو انکی جماعت ” شيخ حافظ محمد امين حفظہ الله” کہتے ہیں وہ اس روایت پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

´رکوع میں دعا نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان۔`

مصنف رحمہ اللہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رکوع اور سجدے میں تسبیحات فرض نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث میں ان کا ذکر نہیں۔ اگر اتفاقاً یا نسیاناً رہ جائیں تو نماز ہو جائے گی، البتہ قصدا نہ چھوڑی جائیں لیکن اہل علم نے سجدے اور رکوع کی تسبیحات بربنائے دلیل واجب قرار دی ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 631] نیز عدم ذکر عدم وجود کو مستلزم نہیں۔ جس شخص سے تسبیحات اتفاقاً یا نسیانا رہ جائیں، وہ نماز کے آخر میں سجود سہو کرے گا۔

[تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب السہو کا ابتدائیہ فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1054]

 

تو موصوف نے جو یہ کہا تھا کہ کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ رکوع میں تسبیحات کی رخصت (جسکو موصوف منسوخ سمجھ رہے تھے) مان سکتا ہے ؟

تو عرض ہے بالکل امام نسائی کے نزدیک سجود میں تسبیحات کی رخصت جائز تھے وہ مجتہد تھے انکے نزدیک مسلہ ایسا ہی تھا یہ بات تو مسلم ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسکے بعد موصوف نے اگلی ایک مثال دی !

لکھتے ہیں:

اسی طرح امام نسائی رحمہ اللہ نے سنن النسائی ( جلد ١ص ٣٧١ تا ٣٧٦ ، درسی نسخہ ج١ص١٦٨۔١٧٠، قبل ح ١١٢٢۔ ١١٣٧) میں سجدہ کی چودہ مختلف دعاؤں کے ابواب قائم کئے ہیں اور سب سے آخر میں یہ باب قائم کیا ہے: ” باب الرخصۃ فی ترک الذکر فی السجود ” ( سنن النسائی ص ٣٧٧ جلد ١، درسی نسخہ جلد ١ص ١٧٠ قبل حدیث ١١٣٧)

تو کیا پھر سجدہ کی تمام تسبیحات بھی منسوخ ہیں؟!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

موصوف نے یہاں بھی وہی روش اختیار کی ہے امام نسائیؒ نے جس امر پر رخصت کا اطلاق کیا ہے موصوف نے رخصت کے امر کو نسخ بنا کر الزامی اعتراض بنا دیا جبکہ امام نسائی کے نزدیک واقعی ہی سجود میں تسبیحات کی رخصت تھی جیسا کہ انہوں نے اس باب میں روایت لے کر آئے اور اسی مسلہ پر بھی انکے شیخ حفظہ اللہ صاحب تبصرہ کرتے ہیں

 

´رکوع میں دعا نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان۔`

مصنف رحمہ اللہ(امام نسائی) نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رکوع اور سجدے میں تسبیحات فرض نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث میں ان کا ذکر نہیں۔ اگر اتفاقاً یا نسیاناً رہ جائیں تو نماز ہو جائے گی، البتہ قصدا نہ چھوڑی جائیں لیکن اہل علم نے سجدے اور رکوع کی تسبیحات بربنائے دلیل واجب قرار دی ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھنے کا حکم ہے۔ [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 631] نیز عدم ذکر عدم وجود کو مستلزم نہیں۔ جس شخص سے تسبیحات اتفاقاً یا نسیانا رہ جائیں، وہ نماز کے آخر میں سجود سہو کرے گا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو کتاب السہو کا ابتدائیہ)۔

[ فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1054]

 

اب اس پر دوبارہ سے ہم کو روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے کہ انکے گھر کے لوگ بھی متفقہ طور پر یہ ابواب امام نسائی کا فقہی موقف ہی سمجھتے ہیں

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد موصوف نے اپنی طرف سے ایک اعتراض بنا کر اس پر الزامی اعتراض داغ دیا جبکہ میرے علم میں ایسا موقف کسی کا بھی نہیں کہ امام جو آخری حدیث روایت کریگا تو وہی اسکا موقف ہوگا جیسا کہ موصوف لکھتا ہے

 

”اور اگر اصول یہی ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ جس حدیث کو سب سے آخر میں نقل کریں وہ ناسخ ہوتی ہے اور پہلی احادیث منسوخ ہوتی ہیں تو عرض ہے ”

 

اس پر ہم اتنا ہی کہنگے کہ یہ اعتراض اتنا بے تکا ہے اس پر ہم اپنے ہاتھ تھکانے سے معذکرتے ہیں !!!!!

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب آتا ہے مسلہ رفع الیدین پر امام نسائی کا موقف

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

امام نسائی کے ابواب کی صرف ترتیب کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا بلکہ انکے باب میں تصریح کو بھی مد نظر رکھا جائے گا کیونکہ باب میں جب تصریح واضح ہو مصنف کی طرف سے تو پھر دوسری راہ ہی نہیں بنتی ہے

اب امام نسائی کا رفع الیدین کے ابواب دیکھا جائے تو انکی ترتیب و تصریح درج ذیل ہیں !

 

امام نسائی کا اس مسلہ پر جو پہلے باب قائم کرتے ہیں وہ تصریحا یوں ہے

 

بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلرُّكُوعِ حِذَاءَ فُرُوعِ الأُذُنَيْنِ

باب: رکوع کے لیے دونوں ہاتھ کانوں کی لو کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔

 

اسکے بعد امام نسائی اگلا باب قائم کرتےہیں :

بَابُ : تَرْكِ ذَلِكَ

باب: تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔

 

اسی طرح کتاب تطبیق میں وہ باب پھر سے قائم کرتے ہیں :

كتاب التطبيق

کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل

بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ

باب: رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان

 

پھر اسکے بعد اگلا باب قائم کرتے ہیں

کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل

َبابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ ذَلِكَ

باب: رفع یدین نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔

 

[سنن نسائی ]

 

معلوم ہوا امام نسائی کے نزدیک کاندھوں اور کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھانا دونوں طرح سے روایت کے اعتبار سے ثابت ہے

اور پھر

اسکا ترک بھی ثابت ہے

 

اور کتاب تطبیق میں انہوں نے خاص مسلہ رکوع میں جاتے آتے رفع الیدین کو نہ کرنے کی رخصت کی دلیل بنائی ہوئی ہے یعنی رفع الیدین نہ کرنا بھی ثابت ہےامام نسائی کے نزدیک

 

اب اس میں کونسی سائنس روکٹ ہے اور ایسی ہی کیا ہڈ دھرمی انسان اپنا لے کہ امام نسائی کے نزدیک انکے اس موقف ہی کا انکار کردے ۔۔۔ جبکہ امام نسائی نے اپنی سنن مجتبیٰ میں اپنے نزدیک فقط صحیح روایات کا التزام کیا تھا اور کسی بھی ترک رفع الیدین پر کوئی نکیر ہی نہیں کی تو اسکے بعد اہل حدیث حضرات کو احناف کو مسلہ ھذا میں منفرد بنانے کی ناکام کوشش کرنا فقط نادانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔۔۔

 

تحریر:اسد الطحاوی