بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم۔۔۔ سورة القلم

سورت کا نام

اس سورت کا نام القلم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت کی ابتدائی آیت میں القلم ذکر ہے :

نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ (القلم : ١) نون، قلم کی قسم اور اس کی جو فرشتے لکھتے ہیں

امام بخاری نے اس سورت کا عنوان ” سورة نون والقلم “ قائم کیا ہے۔ ( صحیح البخاری، سورة نون والقلم : ٦٨ )

اسی طرح امام ترمذی نے لکھا ہے : ” باب من سورة ن والقلم “۔ ( سنن ترمذی رقم الباب : ٦٤ )

اور اکثر مفسرین نے اس سورت کا نام رکھا ہے۔

علامہ محمد الماوردی الشافعی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

حسن بصری عکرمہ، عطا اور حضرت جابر نے کہا : یہ سورت مکی ہے، اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” سَنَسِمُہٗ عَلَی الْخُرْطُوْمِ “ (القلم : ١٦) تک کی آیات ملکی ہیں اور اس کے بعد ” لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ “ (القلم : ٣٣) تک کی آیات مدنی ہیں اور اس کے بعد ” یَکْتُبُوْن “ (القلم : ٤٧) تک کی آیات مکی ہیں اور اس کے بعد ” مِنَ الصّٰلِحِیْنَ “ (القلم : ٥٠) تک کی آیات مدنی ہیں اور پھر باقی سورت کی دو آیتیں مکی ہیں۔ (النکت والعیون ج ٦ ص ٥٩، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

ترتیب نزول کے اعتبار سے اس سورت کا نمبر ٢ ہے اور ترتیب مصحف کے اعتبار سے اس کا نمبر ٦٨ ہے۔

حضرت جابر بن زیاد نے کہا ہے : یہ سورت دوسرے نمبر پر نازل ہوئی، یہ سورت ” اقرا باسم ربک ‘ کے بعد نازل ہوئی ہے اور اس سورت کے بعد سورت المزمل اور پھر اس کے بعد سورة المدثر نازل ہوئی ہے اور زیادہ صحیح وہ ہے جو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا پہلے سورت ” اقراء باسم ربک “ نازل ہوئی، پھر وحی کا آنا رک گیا، پھر اس کے بعد سورة المدثر نازل ہوئی اور زیادہ صحیح وہ ہے جو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ پہلے سورت ” اقراء باسم ربک “ نازل ہوئی، پھر وحی کا آنا رک گیا، پھر اس کے بعد سورة المدثر نازل ہوئی اور حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) نے فرمایا : وحی آنے کے رکنے کے بعد سورة المدثر نازل ہوئی اور سورة القلم ” اقراء باسم ربک “ کے بعد نازل ہوئی اور یوں اس کے نزول کا نمبر ٢ ہے۔ ( التحریر و التنویز جز ٢٩ ص ٥٨، تیونس)

سورت القلم کے مشمولات

٭اس سورت کے ابتداء میں حرف تہجی نون مذکور ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ یہ کلام ان ہی حروف سے مرکب ہے جن حروف کو ملا کر تم اپنا کلام بناتے ہو، اگر تمہارا یہ زعم ہے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام ہے تو تم بھی اس کی مثل کلام بنا لائو۔

٭ اس سورت کی ابتداء میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کیا گیا اور مشرکین آپ کی شان میں جو نازیبا کلمات استعمال کرتے تھے، ان پر آپ کو تسلی دی گئی ہے اور آپ کے رنج اور افسوس کا ازالہ کیا گیا ہے۔

٭بعض کافروں نے آپ کی طرف شعر کہنے، جادو کرنے اور دیوانگی اور جنون کی جو نسبت کی تھی اس سے آپ کی براءت فرمائی ہے۔

٭ اس میں دنیا اور آخرت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل اور کمالات کا ذکر ہے۔

٭اس میں قلم اور لکھنے کی فضلیت ہے تاکہ مسلمان قلم اور لکھنے کی طرف متوجہ ہوں اور علوم کو لکھ کر محفوظ کریں۔

٭ابو جہل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ کی مذمت کی گئی ہے اور ان کے متعلق آخرت کی وعید بیان کی گئی ہے۔

٭کفار کا مقابلہ مؤمنین اور متقین کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کفار کے مزعوم اور خود ساختہ خدا ان سے دنیا کا عذاب دور کرسکتے ہیں نہ آخرت کا۔

٭ کفار کو یہ بتایا ہے کہ دنیا میں ان کو جو عیش اور آرام حاصل ہے اور ان کے پاس سرمایہ اور طاقت کی فروانی ہے، یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ راضی ہے، بلکہ یہ استدراج ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو ڈھیل دی ہوئی ہے اور انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کو جو قبول نہیں کیا، اس کی سزا ان کو آخرت میں ملے گی اور اس سلسلہ میں ان کی کسی معذرت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

٭ کفار کا ایک باغ تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے پھلو کو جلا ڈالا، وہ سوئے ہوئے تھے اور آسمانی آگ نے اس کو جلا دیا، اس دنیاوی سزا کا ذکر فرمایا ہے۔

٭ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دین اسلام کو تبلیغ میں جو مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور کفار قریش کی ایذاء رسانی سے جو آپ کو رنج اور ملال ہوتا یہ اس پر آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس معاملہ میں آپ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جیسا اقدام حضرت یونس (علیہ السلام) نے کرلیا تھا اور وہ اپنی قوم پر غضب ناک ہو کر اللہ تعالیٰ سے اذن مخصوص کے لیے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

اس مختصر تعارف اور تمہید کے بعد میں اللہ تعالیٰ کی امداد پر توکل کرتے ہوئے اس سورت کا ترجمہ اور اس کی تفسیر شروع کر رہا ہوں۔ اے میرے رب ! مجھے اس ترجمہ اور تفسیر میں حق اور صواب پر قائم رکھیں اور باطل اور نا صواب سے مجتنب رکھیں۔

آمین یا رب العلمین !۔۔ غلام رسول سعیدی غفرلہٗ ۔۔ ٦ صفر ١٤٢٦ ھ/ مارچ ٢٠٠٥ ء