أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ تَسۡئَـلُهُمۡ اَجۡرًا فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

کیا آپ ان سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں جو یہ تاوان سے دبے جا رہے ہیں

تفسیر:

القلم : ٤٧۔ ٤٦ میں فرمایا : کیا آپ ان سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں جو یہ تاوان سے دبے جا رہے ہیں۔ یا ان کے پاس علم غیب ہے جس کو وہ لکھ رہے ہیں۔

آپ جو ان کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں تو اس دعوت کو قبول کرنا ان پر کیوں دشوار ہو رہا ہے، آپ ان سے اس دعوت کے عوض کوئی مال تو نہیں مانگ رہے پھر یہ کیوں بدک رہے ہیں، بلکہ اگر یہ اس دعوت کو قبل کر کے ایمان لے آئیں تو ان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی اور کامرانی حاصل ہوگی۔

کفار جو آپ کے رسول ہونے کا انکار کررہے ہیں، ان کا یہ انکار کس بنیاد پر ہے، کیا ان کو غیب کا علم ہے یا ان پر وحی نازل ہوئی ہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول نہیں ہیں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : غیب سے اس آیت میں مراد لوح محفوظ ہے تو کیا جن چیزوں میں یہ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں ان کو انہوں نے لوح محفوظ میں پڑھ لیا ہے اور اس سے ان کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ یہ آپ سے افضل ہیں اور آخرت میں ان کا اجر وثواب مسلمانوں کے اجر وثواب کی مثل ہوگا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 46