أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَوۡلَاۤ اَنۡ تَدٰرَكَهٗ نِعۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُوۡمٌ‏ ۞

ترجمہ:

اگر ان کے رب کی طرف سے نعمت ان کا تدراک نہ کرتی تو وہ ضروری وصف مذمومیت کے ساتھ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے

تفسیر:

القلم : ٥٠۔ ٤٩ میں فرمایا : اگر ان کے رب کی طرف سے نعمت ان کا تدراک نہ کرتی تو وہ ضرور وصف مذمومیت کے ساتھ چٹیل میدان میں ڈال دیئے جاتے پس ان کے رب نے ان کو عزت والا بنادیا اور صالحین میں سے کردیا۔

حضرت یونس (علیہ السلام) پر نعمت کے تدراک کی تفصیل اور ان کے مذموم نہ ہونے پر دلائل

اس آیت میں فرمایا ہے : اگر ان کے رب کی طرف سے نعمت ان کا تدراک نہ کرتی، یعنی ان کی اجتہادی خطاء کی تلافی نہ کرتی، ان کی اجتہادی خطا یہ تھی کہ انہوں نے یہ گمان کیا تھا کہ اگر وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر اللہ تعالیٰ سے اجازت لیے بغیر چلے گئے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جب کہ نبی پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مسلسل رابطہ رکھے، لیکن ان پر جو اللہ عزوجل کی نعمت تھی، اس نے ان کی اس اجتہاد خطا کا تدراک کردیا، اس نعمت کی متعدد تفسیریں ہیں، ضحاک نے کہا : اس سے مراد نبوت ہے، ابن جبیر نے کہا : اس سے مراد ان کی سابقہ عبادات ہیں، ابن زید نے کہا : ان کا یہ پکارنا ہے :” لَّآ اِلٰـہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ “ (الانبیاء : ٨٧) ابن بحر نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ان کو مچھلی کے پیٹ سے نکالنا ہے اور بعض نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا ان کو توبہ کی توفیق دینا اور ان کی توبہ قبول فرمانا ہے، پھر فرمایا : اگر ان پر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان کو مذموم حالت میں کھلے میدان میں ڈال دیا جاتا، حضرت ابن عباس نے فرمایا : لیکن ان پر اللہ کی نعمت تھی اس لیے ان کو غیر مذموم حالت میں بہت کمزوری اور لاغری کے ساتھ کھلے ہوئے میدان میں ڈال دیا گیا۔

اس آیت میں ” العمراء “ کا لفظ ہے، ایسا کھلا ہوا میدان جس میں نہ پہاڑ ہوں اور نہ درخت ہوں، ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر ان پر اللہ سبحانہٗ کا فضل نہ ہوتا تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے اس پر دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے۔

فَلَوْلَآ اَنَّـہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ ۔ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الصافات : ١٤٣۔ ١٤٤ )

(پس اگر وہ تسبیح کرنے والے نہ ہوتے تو وہ ضرور قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پسندیدہ اور مختار بنا لیا اور ان کو صالحین میں سے کردیا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وحی کا رابطہ بحال کردیا اور ان کے حق میں ان کی دعا اور ان کی قوم کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرمائی۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نعمت ان کے شامل حال نہ ہوتی تو وصف مذمومیت کے ساتھ ان کو چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا لیکن جب کہ ان کو یہ نعمت حاصل تھی تو ان کو وصف مذمویت کے ساتھ چٹیل میدان میں نہیں ڈالا گیا اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر اللہ کی نعمت ان کو حاصل نہ ہوتی تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے، پھر ان کو وصف مذمومیت کے ساتھ چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا، لیکن چونکہ انہیں اللہ کی رحمت حاصل تھی اس لیے ایسا نہیں ہوا۔

ایک سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مذموم ہونے کا ذکر فرمایا ہے، کیا یہ ان کے گناہ کرنے کی دلیل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے : بلکہ اس آیت میں ان کے مذموم نہ ہونے کا ذکر ہے کیونکہ فرمایا : اگر ان کو اللہ کی نعمت شامل نہ ہوتی تو وہ مذموم ہوتے، اور چونکہ ان کو اللہ کی نعمت شامل تھی اس لیے وہ مذموم نہ تھے، دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے مذمومیت سے مراد ترک افضل ہو کیونکہ ابرار کی نیکیاں بھی مقربین کے نزدیک گناہ کے حکم میں ہوتی ہیں۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦١٧١، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 49