بابری نامہ
____________بابری نامہ___________
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
بابری مسجد 1528عیسوی میں اجودھیا(موجودہ ایودھیا) میں تعمیر ہوئی۔بابر کے کمانڈر میر باقی نے مسجد تعمیر کرائی اور اسے اپنے بادشاہ بابر کے نام سے موسوم کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیر الدین محمد بابر نے ابراہیم لودی اور رانا سانگا کو کراری شکست دے کر سلطنت مغلیہ کی بنیاد رکھی تھی۔
_____بابر کی عمر نے زیادہ وفا نہیں کی، سلطنت کی داغ بیل ڈالنے کے چوتھے سال 1530 میں بابر کا انتقال ہوگیا۔یعنی بھارت میں بابر نے قریب چار سال ہی گزارے۔ان چار سالوں میں بابر نے چار بڑی جنگیں لڑیں جن میں جنگ پانی پت، جنگ خانوا، جنگ چندیری اور جنگ گھاگھرا شامل ہیں، یعنی بابر کے چار سالہ قیام ہند کا اکثر وقت جنگوں ہی میں گزرا، لیکن بابر کی جنگی مہارت نے چار سال ہی میں اسے ایک بڑے رقبے کا بادشاہ بنا دیا تھا۔
________سن 1530 میں بابر کا محض 48 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا، لیکن کسی ہندو راجا نے بھی یہ الزام نہیں لگایا کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔اس زمانے کے کسی ماخذ ومصدر میں بھی اس چیز کا تذکرہ نہیں ہے۔
_______بابر کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں تخت نشیں ہوا۔لیکن دس سال بعد ہی شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو ہرا کر سلطنت پر قبضہ جما لیا، اس طرح تقریباً پانچ سال تک مغل سلطنت ہندوستان سے غائب رہی، اگر بابری مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی ہوتی تو ان پانچ سالوں میں یہ بات ضرور سامنے آتی کیوں کہ مغل راج ختم ہوچکا تھا اور اقتدار مغل حکومت کے دشمنوں کے پاس تھا مگر ان پانچ سالوں میں بھی ایسی کوئی سُن گُن ہندو سماج میں نہیں تھی۔
_________ابتدائی مشکلات اور آزمائشوں سے جوجھنے کے باوجود جلال الدین محمد اکبر نے سلطنت مغلیہ کو طاقت ور بنایا۔سر اٹھانے والے مقامی راجاؤں کو بری طرح شکست دے کر اپنا دبدبہ قائم کیا۔اکبر ہی وہ بادشاہ بنا جس نے باپ دادا کے خلاف جاکر مذہب سے زیادہ سلطنت کو ترجیح دی جس کی بنا پر ہندو راجاؤں کی بیٹیوں سے بغیر قبول اسلام شادیوں کا چلن شروع کیا۔
________اکبر کی دین بیزاری اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب اس نے مذہب اسلام کے مقابلے ایک نیا دین، دین الہی جاری کیا۔اپنی بیوی جودھا بائی کی محبت میں گھر کے اندر مندر بنایا۔ہر صبح جھروکہ درشن کے نام پر بت پرستی شروع کی۔یہی وہ وقت تھا جب اکبر کے دربار میں ہندو راجاؤں، پنڈتوں کو رسوخ اور اونچا مقام ملا۔دربار اکبری کے نو رتنوں میں چار لوگ ہندو تھے، جن میں راجا ٹوڈرمل، راجا مان سنگھ، راجا بیربل اور تنو مشرا عرف تان سین۔ان لوگوں کو دربار اکبری میں نمایاں ترین مقام حاصل تھا اگر واقعی بابری مسجد مندر توڑ کر بنی ہوتی تو ہندو راجاؤں کے لیے اکبر جیسے بد دین سے اپنی بات رکھنا اور مندر کا مطالبہ کرنا سب سے آسان تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایک بھی راجا یا پنڈت نے اس موضوع پر اکبر سے کبھی کوئی شکایت کی نہ مطالبہ کیا، یہاں تک کہ کبھی کسی نے اس بات کا ذکر تک بھی نہیں کیا کہ بابری مسجد مندر کی جگہ بنی ہے، سمجھ نہیں آتا کہ وہ سارے ہندو راجا اور گیانی پنڈت جاہل تھے یا حد سے زیادہ ڈرپوک کہ اکبر جیسے دین بیزار سے بھی یہ بات نہ کر سکے؟
_______بادشاہ اکبر سے جہاں گیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے تک سلطنت مغلیہ پوری آن بان اور دبدبے کے ساتھ چلتی رہی۔حضرت اورنگ زیب کے انتقال [1707] کے بعد مغل اقتدار کمزور ہوتا گیا یہاں تک کہ 1803 میں ہندوستان پر انگریز قابض ہوگیے، بس علامتی طور پر بادشاہت باقی رہی۔آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر[1862ء] کی زندگی ہی میں 1857 میں مغل سلطنت کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔اس خاتمے تک بھی کسی ایک ہندو مؤرخ نے بابری مسجد پر کوئی دعویٰ کیا نہ مندر ہونے کا کوئی قضیہ سامنے آیا۔حالانکہ اس وقت تک بابری مسجد کو بنے ہوئے تقریباً 334 سال ہوچکے تھے۔
8 رجب المرجب 1445ھ
20 جنوری 2024 بروز ہفتہ
*______________بابری نامہ_____________*
قسط دوم
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
____________مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر [1542-1605ء] تمام مغل بادشاہوں میں سب سے زیادہ لبرل اور آزاد خیال واقع ہوا تھا۔کچھ اس کی ناخواندگی اور کچھ درباری علما کے نفاق، حرص اور طمع نے اسے مذہب بیزار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔اکبر کے تبدیلی مزاج میں اس کی چوتھی بیوی ہرکھا بائی(یہی خاتون جودھا بائی کے نام سے مشہور ہے) نے بھی اہم رول ادا کیا۔ہرکھا بائی آمیر کے راجا بھارمل سنگھ کی بیٹی تھی۔یہی وہ خاتون ہے جو اکبر کے نکاح میں آنے کے باوجود ہندو دھرم پر ہی قائم رہی، جس کی بنیاد پر اکبر کا رجحان ہندو مذہب اور بت پرستی کی جانب بھی بڑھتا گیا۔ہندو مذہب میں دل چسپی کے باعث اکبر نے ہندوؤں کے مقدس گرنتھ راماین اور مہابھارت کا فارسی زبان میں ترجمہ کرایا۔دربار میں مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کو عہدے دئے۔ہندوؤں کی خوش نودی کی خاطر جزیہ کا قانون ختم کیا۔ہرکھا بائی[جودھا بائی] کی محبت میں شہنشاہ اکبر اس قدر فریفتہ تھے کہ انہوں نے گائے کا گوشت تک کھانا چھوڑ دیا تھا۔
________اکبر ہی کے زمانے میں ہندو مذہب کے دو بڑے فاضل اور اعلی درجے کے مذہبی مزاج رکھنے والے افراد موجود تھے، ایک تان سین [1500-1589] تھے جو اکبر کے نو رتنوں میں شامل تھے جب کہ دوسرے سور داس [1478-1583] تھے جو ایک معروف موسیقار اور شری کرشن کے بڑے بھکت تھے۔تانسین کی طرح بادشاہ اکبر سورداس کے بھی بڑے مداح تھے۔یہاں تک کہ صرف سورداس کے بھجن سننے کے لیے متھرا تک کا سفر کیا اور سورداس کو بڑے انعام واکرام سے بھی نوازا۔ہندو مذہب میں اکبر کی غیر معمولی دل چسپی اور ہندو باباؤں سے اکبر کی مثالی وابستگی کے باوجود کسی ایک ہندو رشی مُنی نے کبھی بھی یہ شکایت نہیں کہ آپ کے دادا بابر نے ہمارے بھگوان رام کا جنم استھان توڑ کر مسجد بنائی ہے۔اگر کسی ہندو بابا نے جھوٹ موٹ بھی یہ شکایت کی ہوتی تو اکبر جیسا بادشاہ پہلی فرصت میں بابری مسجد ہندوؤں کو سونپ دیتا، لیکن تانسین سے لیکر سورداس تک، مان سنگھ سے لیکر بیربل تک سارے ہندو راجا اور پنڈت خاموش تھے، اس کا مطلب صاف ہے کہ ان کی نگاہ میں ایسا کوئی معاملہ سرے سے تھا ہی نہیں جس کی شکایت وہ اکبر سے کرتے۔کوئی اور کرتا نہ کرتا لیکن اکبر کی بیوی ہرکھا بائی ضرور اکبر سے یہ کام کراتی کہ جو بیوی اکبر سے گائے کا گوشت چھڑا سکتی تھی وہ اپنے مندر کا مطالبہ کیوں نہیں کر سکتی تھی؟
_________________اکبر ہی کے زمانے میں مشہور ہندو رشی سوامی تلسی داس [1511-1623ء] بھی موجود تھے۔تلسی داس سوروں ضلع کاس گنج کے رہائشی تھے۔تلسی داس ہی نے شری رام چندر کی سوانح عمری(Biography) لکھنے کا بیڑا اٹھایا۔اس کام کا آغاز تلسی داس نے ایودھیا ہی میں کیا۔سن 1554 عیسوی میں راماین لکھنا شروع کی۔دو سال سات مہینے چھبیس دن میں یہ کام مکمل ہوا اور 1556 عیسوی میں یہ کام مکمل ہوگیا۔اسی گرنتھ کا نام “رام چرت مانس” ہے اور عوامی طور پر اسے راماین کے نام سے جانا جاتا ہے۔راماین سات کانڈ [ابواب] پر مشتمل ہے، لیکن کسی ایک باب میں بھی تلسی داس جیسے رام بھکت نے اس بات کا صراحت تو کیا، اشاروں میں بھی ذکر نہیں کیا کہ بابری مسجد رام جنم استھان اور مندر توڑ کر بنائی گئی ہے۔جب کہ اس وقت بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہی ہوئے تھے، اگر واقعی مسجد مندر توڑ کر بنی ہوتی تو تلسی داس اس حادثہ کا ذکر اپنی کتاب میں ضرور کرتے۔چھبیس سال کا زمانہ کوئی بڑا زمانہ نہیں ہوتا کہ لوگ پوری طرح بھول جائیں، خصوصاً ایسے حادثات کو تو لوگ صدیوں تک نہیں بھولتے، تو تلسی داس جیسے رام بھکت گیانی پنڈت سے یہ امید کون کر سکتا ہے کہ وہ اس حادثہ کو بھول گیے ہوں گے یا مغل بادشاہ کے خوف سے چھوڑ دیا ہوگا؟ وہ بھی اکبر جیسا بادشاہ، جو ہندو مذہب کے بہت قریب اور اسلام سے بہت دور تھا۔تلسی داس کا اس اہم معاملے پر کچھ نہ لکھنا ہی اس بات کو صاف کر دیتا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ تاریخ میں ہوا ہی نہیں تھا۔
_________جس زمانے میں بابری مسجد تعمیر ہوئی اس وقت تلسی داس کی عمر تقریباً 17 سال رہی ہوگی، کیوں کہ تلسی داس 1511 عیسوی میں پیدا ہوئے جب کہ بابری مسجد 1528 عیسوی میں تعمیر ہوئی اس حساب سے تعمیر مسجد کے وقت تلسی داس کی عمر سترہ سال بنتی ہے۔سترہ سال کا لڑکا اتنا ناسمجھ نہیں ہوتا کہ اتنے بڑے حادثے کی اسے خبر ہی نہ ملی ہو۔1554ء میں تلسی داس نے راماین لکھنا شروع کی، اس وقت تلسی داس 43 سال کے پختہ عمر شخص تھے جب کہ بابری مسجد کو بنے ہوئے 26 سال ہوچکے تھے۔اس وقت یقیناً ایودھیا میں ایسے سیکڑوں لوگ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے بابری مسجد کو بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا، اگر واقعتاً مسجد رام مندر توڑ کر بنی ہوتی تو وہ لوگ تلسی داس سے اس واقعے کا ذکر ضرور کرتے اور تلسی داس اسے راماین میں ضرور لکھتے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے سند رہے، لیکن کسی ہندو نے ایسا کہا نہ تلسی داس نے ایسا لکھا، کیوں کہ ایسا کچھ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔بابری مسجد نہایت دیانت داری کے ساتھ ایک صاف ستھری زمین پر بغیر کسی مندر کو توڑے تعمیر ہوئی جس پر اس عہد کے ہندو پنڈتوں اور ہندو عوام کی خاموش گواہی بھی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے۔
9 رجب المرجب 1445ھ
21 جنوری 2024 بروز اتوار