سَاَلَ سَآئِلٌ ۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Sunday، 21 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سَاَلَ سَآئِلٌ ۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ ۞
ترجمہ:
ایک طلب گار نے روز قیامت کے عذاب کا مطالبہ یا جو واقع ہونے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ایک طلب گار نے روز قیامت کے عذاب کا مطالبہ کیا جو واقع ہونے والا ہے۔ اور کافروں سے اس ( عذاب) کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے۔ وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو آسمانی سیڑھیوں کا مالک ہے۔ فرشتے اور جبریل اس کی طرف چڑھتے ہیں، وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ سو آپ صبر جمیل فرمایئے۔
( المعارج : ٥۔ ١)
کفار کا عذاب قیامت کو طلب کرنا
” سئل “ کی تفسیر میں دو قول ہیں : ایک تفسیر یہ ہے کہ اس کا معنی طلب کرنا ہے اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس کا معنی سوال کرنا ہے، راجح پہلا قول ہے۔
المعارج : ٢۔ کی تفسیر میں سعید بن جبیر نے کہا : وہ طلب گار النضربن الحارث بن کلدۃ تھا، اس نے کہا تھا : اگر یہ عذاب برحق ہے تو ہم پر پتھر باسا، قرآن مجید میں ایک اور جگہ اس کا ذکر ہے :
وَاِذْ قَالُوا اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الانفاق : ٣٢)
اور جب کافروں نے کہا : اے اللہ ! اگر اس قرآن کا نزول تیری طرف سے حق ہے ( تو ہمارے انکار پر) ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہم پر درد ناک عذاب لے آ۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کی روایت نہیں کیا، اور علامہ ذہبی نے کہا ہے : یہ حدیث امام بخاری کی شرط کے موافق صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٣ ص ٤٩ طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٣٨٥٤، المتکبۃ العصریہ، بیروت، ١٤٢٠ ھ السنن الکبریٰ ج ١٠ ص ٣١٢، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
حسن اور قتادہ نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اور آپ نے مشرکین کو عذاب سے ڈرایا تو مشرکین نے ایک دوسرے سے کہا : ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کرو کہ یہ عذاب کس پر واقع ہوگا کہ کب واقع ہوگا ؟ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٠١٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
امام رازی نے کہا ہے کہ یہ رسائل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے، آپ نے کفار کے عذاب کو جلد طلب کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ عذاب ان پر واقع ہوگا اور اس عذاب کو ان سے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے، اور اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سو آپ صبر جمیل فرمایئے، اس میں یہ دلیل ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ عذاب کب واقع ہوگا، اس کو اللہ تعالیٰ نے صبر جمیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٣٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 1