مِّنَ اللّٰهِ ذِى الۡمَعَارِجِؕ سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Sunday، 21 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مِّنَ اللّٰهِ ذِى الۡمَعَارِجِؕ ۞
ترجمہ:
وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو آسمانی سیڑھیوں کا مالک ہے
تفسیر:
المعارج : ٣ میں فرمایا : وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو آسمانی سیڑھیوں کا مالک ہے۔
” معارج “ کا لغوی اور عرفی معنی
اس آیت میں ” المعارج “ کا لفظ ہے یہ ” معرج “ کی جمع ہے ” معرج “ کا معنی ہے : اوپر چڑھنے کا آلہ یعنی سیڑھی، اور اوپر چڑھنا، بلندی اور فضلیت کو متضمن ہے، اس لیے اس کا معنی ہے : جو بلند درجات، فضائل اور نعمتوں کا مالک ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد آسمان کی سیڑھیاں ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد فرشتوں کی سیڑھیاں ہیں، کیونکہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ المعارج سے مراد بالا خانے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جنت میں اپنے اولیاء کے لیے بالا خانے بنائے ہیں، اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ المعارج سے مراد قرب کے درجات ہیں، جن کی کیفیت نامعلوم ہے، ان درجات پر انبیاء، ملائکہ اور اولیاء فائز ہوتے ہیں اور وہ مقبولیت کے درجات ہیں، پاکیزہ کلمات اور اعمال صالحہ ان کی طرف چڑھتے ہیں، یا دو نفوس قدسیہ جنت کے درجات میں پہنچتے ہیں، حدیث میں ہے :
حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سو درجات ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان زمین اور آسمان جتنا فاصلہ ہے، اور فردوس جنت کا سب سے بلند درجہ ہے اور اسی سے جنت کی چار نہریں نکلتی ہیں اور اس کے اوپر عرش ہے، پس جب تم اللہ سیس وال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔
( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٣١، مسند احمد ج ٥ ص ٣١٦)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بےاہل جنت اپنے اوپر بالا خانے والوں کو دیکھیں گے جیسا کہ وہ اس روشن ستارے کو دیکھتے ہیں جو مشرقی یا مغربی افق میں ہوتا ہے، کیونکہ اہل جنت میں درمیان فضلیت کے درجات ہوتے ہیں، مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آیا یہ انبیاء (علیہم السلام) کی منازل ہیں، جن میں ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں جاسکے گا ؟ آپ نے فرمایا : کیوں نہیں ! جس ذات کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ( اس میں وہ لوگ بھی ہوں گے) جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٥٦ : صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٣١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٠٩، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٨٣٣، مسند احمد ج ٥ ص ٣٤٠ )
حضرت ابن مسعود نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : آسمان میں معارج ( سیڑھیاں) ہیں، کیونکہ فرشتے ان پر چڑھتے ہیں۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 3