أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَالِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا قِبَلَكَ مُهۡطِعِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

پس ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ یہ آپ کی طرف بھاگے آرہے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف بھاگے آ رہے ہیں۔ دائیں بائیں سے گروہ در گروہ۔ کیا ان میں سے ہر شخص کو یہ توقع ہے کہ اس کی نعمت والی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ ہرگز نہیں ! بیشک ہم نے ان کو اس چیز سے بنایا ہے جس کو وہ جانتے ہیں۔ ( المعارج : ٣٩۔ ٣٦)

مشرکین کے اس زعم کا رد کہ ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا

مشرکین مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں آ کر گروہ در گروہ بیٹھ جاتے تھے اور آپ کو گھیر لیتے تھے، وہ آپ کے ارشادات سن کر مذاق اڑاتے تھے، اور کہتے تھے : جس طرح ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے ہیں کہ مسلمان جنت میں داخل ہوں گے تو ہم ان سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، تب یہ آیتیں ان کے ردل میں نازل ہوئیں۔

المعارج : ٣٦ میں ” مھطعین “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : گردن دراز کر کے دوڑتے ہوئے۔ ابو مسلم نے کہا : ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ منافق تھے، یہ آپ کے پاس بیٹھے رہتے تھے اور دوڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپن کفر کی طرف بھاگتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ظاہر نہیں ہے بلکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ لوگ مشرکین مکہ تھے کیونکہ سورة المعارج مکی ہے اور مکہ میں منافقین نہیں تھے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 70 المعارج آیت نمبر 36