فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Thursday، 25 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا ۞
ترجمہ:
پس میں نے ان سے کہا : تم اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے۔
نوح : ٢١۔ ١٠ میں فرمایا : ( نوح نے کہا :) پس میں نے ان سے کہا : تم اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے۔ اٰلایات
خوش حالی کے حصول کے لیے اور استغفار کی فضلیت میں آیات، احادیث اور آثار
امام رازی فرماتے ہیں کہ مقاتل نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بہت طویل عرصہ تک حضرت نوح کی تکذیب کی، اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان سے بارش کو روک لیا اور چالیس سال تک ان کی عورتیں بانجھ ہوگئیں، ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی، پھر اس سزا کے تدراک کے لیے انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : تم اپنے شرک اور کفر پر اپنے رب سے توبہ کرو اور اپنے گناہوں کو معافی مانگو، تمہارا رب تمہارے اوپر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا۔
اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرنے سے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرنے سے اللہ عزوجل کی رحمت اور وسعت اور کشادگی حاصل ہوتی ہے اور اس پر حسب ذیل آیات دلالت کرتی ہیں :
وَلَوْ اَنَّ اَہْلَ الْقُرٰٓی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ (الاعراف : ٩٦)
اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے رہتے تو ہم ان کے اوپر آسمان اور زمینوں کی برکتیں کھول دیتے۔
وَلَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَ کَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ (المائدہ : ٦٦ )
اور اگر یہ لوگ تورات اور انجیل کو قائم کرتے اور اس کو قائم کرتے جو ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے تو یہ اپنے اوپر سے کھاتے اور اپنے نیچے سے۔
وَّاَنْ لَّوِاسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰـہُمْ مَّآئً غَدَقًا۔ (الجن : ١٦)
اور اگر یہ لوگ راہ راست پر سیدھے چلتے تو ہم ان کو ضرور بہت وافر پانی پلاتے۔
وَمَنْ یَّتَّقِ اللہ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِب (الطلاق : ٢۔ ٣)
اور جو شخص اللہ سے ڈرتا رہتا ہے، اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دیتا ہے۔ اور اس کو وہاں سے روزی دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
امام ابن مردویہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت سلمان فارضی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے بہت زیادہ استغفار کیا کرو کیونکہ اللہ نے تم کو استغفار کی اسی لیے تعلیم دی ہے کہ وہ تم کو بخشنا چاہتا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٨ ص ٢٦٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کو استغفار کی توفیق دی گئی، وہ مغفرت سے محروم نہیں ہوگا کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے :” فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ “ (نوح : ١٠)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابلیس نے اپنے رب عزوجل سے کہا : تیری عزت اور جلال کی قسم ! میں جو آدم کو اس وقت تک گمرہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسموں میں روحیں ہیں، تب اس کے رب نے فرمایا : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! میں ان کی مغفرت کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔ ( مسند حمد ج ٣ ص ٦٧۔ ٤١۔ ٢٩، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٣٩٩۔ ١٢٧٣)
حضرت زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کا صحیفہ ٔ اعمال اس کو خوش کرے وہ بہت زیادہ استغفار کرے۔
( المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٨٤٣، اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں، مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٧٥٧٩)
امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) لوگوں کو نماز استسقاء پڑھانے کے لیے نکلے، آپ نے استغفار کرنے کے اوپر اور کچھ زیادہ نہ کیا حتیٰ کہ آپ واپس آگئے، لوگوں نے کہا : ہم نے آپ کو بارش کی طلب کے لیے دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا : میں نے حاجت برآری کے ان آلات سے بارش کو طلب کیا ہے جن سے بارش ہوتی ہے، پھر یہ آیات پڑھیں :
اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْط اِنَّـہٗ کَانَ غَفَّارًا۔ یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا۔ (نوح : ١٠۔ ١١)
تم اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش نازل فرمائے گا۔
الربیع بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حسن بصری سے قحط سالی کی شکایت کی، اس سے حسن نے کہا : اللہ سے استغفار کرو، پھر دوسرا شخص آیا، اس نے ان سے فقر کی شکایت کی، حسن نے اس سے بھی کہا : اللہ سے استغفار کرو، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ان سے کہا : آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بیٹا دے، انہوں نے اس سے بھی کہا : تم اللہ سے استغفار کرو، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ان سے کہا : آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بیٹا دے، انہوں نے اس سے بھی کہا : تم اللہ سے استغفار کرو، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے شکایت کی کہ میرے باغات خشک ہوگئے ہیں، حسن نے اس سے بھی کہا : تم اللہ سے استغفار کرو، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے شکایت کی کہ میرے باغات خشک ہوگئے ہیں، حسن نے اس سے بھی کہا : تم اللہ سے استغفار کرو، ہم نے ان سے کہا : آپ کے پاس مختلف لوگ مختلف شکایات لے کر آئے اور آپ نے سب کو استغفار کرنے کا حکم دیا، حسن بصری نے کہا : میں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کی، میں نے قرآن مجید کی ان آیات سے استدلال کیا ہے کہ جب حضرت نوح نے اپنی قوم سے کہا : تم اپنے رب سے معافی مانگو، وہ بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہے، وہ تم پر موسلاد ھار بارش نازل فرمائے گا، اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لیے باغات اگائے گا اور تمہارے لیے دریا بہائے گا۔ (نوح : ١٢۔ ١٠)
انسان چاہتا ہے کہ آخرت کے اجر وثواب کے علاوہ اس کو دنیا میں بھی آرام اور راحت نصیب ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرو، تم کو معافی بھی ملے گی اور دنیا کی راحت بھی نصیب ہوگی، استغفار کرنے سے بارش ہوگی، مال و دولت اور اولاد میں اضافہ ہوگا، کھیتوں اور باغات کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور تمہارے لیے دریا رواں دواں ہوجائیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام بنیادی اور اصولی نعمتیں استغفار کرنے سے حاصل ہوتی ہیں، سو ہمیں چاہیے کہ ہم بہ کثرت استغفار کیا کریں تاکہ ہماری ہر حاجت پوری ہو، اس لیے ہمارے امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے کہ بارش کی طلب میں اصل چیز اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا ہے اور نماز استقامت لازمہ نہیں ہے، سنت مشروعہ ہے، یعنی یہ نماز بھی پڑھنی چاہیے لیکن اصل چیز اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 10