أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا لَـكُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰهِ وَقَارًا‌ ۞

ترجمہ:

تم اللہ کی عظمت و جلالت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم اللہ کی عظمت و جلالت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ؟ حالانکہ اس نے تم کو بہ تدریج پیدا کیا ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان اوپر تلے پیدا کیے ہیں۔ اور ان میں چاند کو روشن فرمایا اور سورج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا ہے۔ پھر تم کو اسی زمین میں لوٹائے گا، اور ( دوبارہ) تم کو نکالے گا۔ اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا۔ تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلتے پھرتے رہو۔ (نوح : ٢٠۔ ١٣)

اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور تقویر اور اللہ تعالیٰ کو کسی کے پاس سفارشی بنانے کا عدم جواز

نوح : ١٣ میں ” وقار “ کا لفظ ہے، اس کا معنی تعظیم ہے :” وترقروہ “ ( الفتح : ٩) کا معنی ہے : تم اس کی تعظیم کرو، اس آیت کا معنی ہے، تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال سے ڈرتے کیوں نہیں یعنی تمہارے حال سے یہ کیوں ظاہر نہیں ہوتا کہ تم اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور توقیر کرنے والے ہو، اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور تقویر اور اس کی ہیبت اور جلال سے ڈرنے کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے۔

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! لوگ پریشان ہوگئے، بچے ضائعہو گئے، اموال کم ہوگئے اور مویشی ہلاک ہوگئے، آپ ہمارے لیے اللہ سے بارش کی دعا کیجئے، ہم اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفیع بناتے ہیں اور اللہ کو آپ کے حضور میں شفیع بناتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم پر افسوس ہے ! کیا تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھنے لگے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافی دیر تک سبحان اللہ، سبحان اللہ پڑھتے رہے، حتیٰ کہ آپ کے اصحاب کے چہروں پر ملال کے آثار ظاہر ہوئے، پھر آپ نے فرمایا : تم پر افسوس ہے ! تم پر افسوس ہے ! اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کو شفاعت ( سفارش) کرنے والا نہیں بنایا جاتا، اللہ کی شان اس سے بھی بہت بلند ہے، تم جانتے ہو اللہ کیا ہے ؟ بیشک اس کا عرش سات آسمانوں کے اوپر اس طرح ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں کو گنبد کی طرح بنایا اور بیشک وہ چر چر کررہا ہے جس طرح سوار کے بوجھ سے سواری چرچر کرتی ہے۔ ( امام ابو دائود نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ یحییٰ بن معین، علی بن مدینی اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس کی موافقت کی ہے۔ ) سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٢٦، مشکوٰ رقم الحدیث، ٥٧٢٧ )

امام ابو سلیمان الخطابی المتوفی ٣٨٨ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گنبد کی مثال بنا کر جو دکھائی اور عرش کے چر چر کرنے کا ذکر فرمایا، یہ اس کم فہم اعرابی کو سمجھانے کیلیے تھا اور آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کیا ہے ؟ اس کا معنی ہے : کیا تم اللہ کی عظمت اور اس کے جلال کو جانتے ہو ؟ اور سواری کے چرچر کرنے کی مثال سے آپ کا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو عرش بھی برداشت نہیں کرسکتا، اور اس مثال کو بتانے سے یہ مراد ہے کہ جس کی اتنی عظیم شان اور جلالت قدر ہو اس کو کسی کے پاس سفارشی بنانا جائز نہیں ہے۔ ( معالم السنن ص ٩٦۔ ٩٤، دارالمعرفہ، بیروت) ۔

علامہ حسین بن محمد الطبی المتوفی ٧٤٣ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے پاس سفارشی بنایا جائے، اور آپ کا بار بار سبحان اللہ پڑھنا اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اسکے خوف کی وجہ سے تھا اور اللہ تعالیٰ کی ذات کی اس سے تنزیہ اور برأت کے لیے تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے پاس سفارش کرنے والا بنایا جائے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گنبد کی مثال جودی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو دلوں میں بٹھانا مقصود ہے اور یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اس کے منافی ہے کہ اس کو کسی کے پاس سفارشی بنایا جائے۔

( الکاشف عن حقائق السنن ج ١٠ ص ٣٢٩، ادارۃ القرآن، کراچی، ١٤١٣ ھ)

ملا علی بن سلطان القاری المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

آپ کے بار بار سبحان اللہ پڑھنے پر آپ کے اصحاب کے چہرے اس لیے متغیر ہوگئے تھے کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات سے غضب ناک ہوئے ہیں کہ اس اعرابی نے اللہ تعالیٰ کو آپ کی جناب میں سفارشی بنایا، سو وہ آپ کے غضب سے خوف زدہ ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے ان کے چہرے متغیر ہوگئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی ہیبت کی وجہ سے بار بار سبحان اللہ پڑھا اور آپ نے جو گنبد کی مثال دی ہے، اس سے مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی شان اور عظمت اس سے بلند ہے کہ اس کو کسی کے پاس سفارشی بنایا جائے۔ (مرقاۃ المفاتیج ج ٩ ص ٧٢٢۔ ٧٢٠، ملخصا، المکتبہ الحقانیہ، پشاور)

شیخ عبد الحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ لکھتے ہیں :

بدرستی شان اینست کہ طلب شفاعت کردہ نمے شود بخدا برہیچ یکے و وسیلہ گرفتہ ئمے شود اور ا، امر خدا و قدر و مرتبہ اوبزرگترست ازاں کہ وسیلہ سازند او انزد کسے۔ ( یعنی نہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے پاس سفارش کرنے والا بنایا جائے، نہ کسی کے سامنے اللہ تعالیٰ کا وسیلہ پیش کیا جائے۔ ) (اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٦١، تیج کمار، لکھنؤ، ہند)

مفتی احمد یار خاں کا یہ لکھنا کہ اللہ تعالیٰ کو سفارشی بنانا، جائز ہے اور اس پر مصنف کا تبصرہ

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ ” واستغفرلھم “ ( آل عمران : ١٥٩) کی تفسیر میں اس حدیث کے بر خلاف لکھتے ہیں :

بڑا چھوٹے سے سفارش کرسکتا ہے، دیکھو اللہ تعالیٰ نے رب ہو کر اپنے حبیب سے خطا کاروں کی سفارش فرمائی، مگر اس کا نام سفارش ہوگا نہ کہ شفاعت ہوگا، لہٰذا رب تعالیٰ کو شفیع نہیں کہہ سکتے، وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں رب تعالیٰ کو آپ کی بارگاہ میں شفیع لات ہوں تو سرکار اس پر بہت ناراض ہوئے، اس کی یہی وجہ تھی، لہٰذا وہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔ ( تفسیر نعیمی ج ٤ ص ٢٩١۔ ٢٩٠، مکتبہ اسلامیہ، لاہور، نور العرفان ص ١١١، ادارہ کتب اسلامیہ، لاہور)

مفتی احمد یار خاں نعیمی (رح) نے شفاعت اور سفارش میں فرق کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو شفیع نہیں بنا سکتے لیکن سفارش کرنے والا بنا سکتے ہیں لیکن یہ فرق صحیح نہیں ہے، شفاعت اور سفارش ایک ہی چیز ہے، جس چیز کو عربی میں شفاعت کہتے ہیں اسی چیز کو اردو میں سفارش کہتے ہیں، اعلیٰ حضرت قدس سرہ ٗ نے شفیع کا ترجمہ سفارشی کیا ہے، سنن ابو دائود کی زیر بحث کی تشریح میں لکھتے ہیں :

جو بات عظمت شان ِ الٰہی کے خلاف ہو، اسے سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ برتائو ہوتا ہے، حالانکہ سفارشی ٹھہرانے کو یہ بات کہ اس کا مرتبہ اس سے کم ہے، جس کے پاس سفارش لائی گئی، ایسی صریح لازم نہیں جسے عام لوگ سمجھ لیں، و لہٰذا وہ صحابی اعرابی (رض) بآن کہ اہل زبان تھے، اس نکتے سے غافل رہے۔ (الامن و العلیٰ ص ١٦٧، شبیر برادرز، لاہور ٩٦ ١٣ ھ)

خود مفتی احمد یار خاں (رح) نے بھی شفیع کا ترجمہ سفارشی کیا ہے، سنن ابو دائود کی زیر بحث حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں۔

یعنی ہم لوگ بارگاہ الٰہی میں آپ کو شفیع بناتے ہیں کہ آپ کی دعا سے وہ ہم پر بارش بھیجے، اور آپ کی بارگاہ میں اللہ تعالیٰ کو شفیع اور سفارشی بناتے ہیں کہ آپ سے ہماری شفاعت و سفارش کرے کہ آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں گویا آپ کی دعا کا شفیع اللہ تعالیٰ اور بارش کے شفیع آپ ہوں۔ ( مراۃ المناجیح ج ٧ ص ٥٩٩)

مفتی احمد یار خاں کے اس ترجمہ سے واضح ہوگیا کہ شفیع اور سفارشی کا ایک ہی معنی ہے۔

اور اس حدیث کی تشریح میں مفتی احمد یار خاں لکھتے ہیں :

سفارش کو شفاعت اس لیے کہتے ہیں کہ سائل حاکم کے سامنے اکیلا پیش ہونے کی ہمت نہیں کرتا، تو اس حاکم کے کسی منظور و مقبول کے ساتھ مل کر حاکم کے سامنے پیش ہوتا ہے، بہر حال شفیع سے حاکم کا افضل و اعلیٰ ہونا ضروری ہے، اگر خدا تعالیٰ کو شفیع کہا جائے تو لازم آوے گا کہ کوئی اور اس سے اعلیٰ ہے جس کے دربار میں خدا تعالیٰ سے سفارش کرا لی گئی، چونکہ یہ بہت باریک بات تھی، اسی لیے اس شخص کو نہ تو کافر کہا گیا نہ اس سے توبہ کرائی گئی۔ ( مرات المناجیح ج ٧ ص ٦٠٠ نعیمی کتب خانہ، گجرات)

مفتی احمد یار خاں نعیمی اہل سنت کے بہت عظیم عالم دین تھے، ان کی بہت خدمات ہیں، میرے دل میں ان کی بہت محبت ہے، لیکن میرے دل میں اللہ عزوجل کی عظمت و جلالت اس سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ کی قدر اور شان واضح کرنے کے لیے یہ وضاحت کی تاکہ ” تفسیر نعیمی “ اور ” نور العرفان “ میں ” واستغفرلھم “ ( آل عمران : ١٥٩) کی تفسیر پڑھ کر نوجوان علماء اللہ تعالیٰ کو حضور کی بارگاہ میں سفارشی نہ کہنے لگیں۔

اللہ تعالیٰ کی تعظیم اس کو وسیلہ بنانے کے منافی ہے

نیز مفتی احمد یار خاں نعیمی (رح) نے اس حدیث کی شرح کے آخر میں یہ بھی لکھا ہے :

اللہ کے نام کے وسیلہ سے بندوں سے مدد مانگا درست ہے، ہم کہا کرتے ہیں : اللہ کے واسطے یہ دے دو ، اللہ کے نام کا صدقہ دے دو ، کہا جاتا ہے :” شیئ اللہ “۔ ( مرات المناجیح ج ٧ ص ٦٠٠)

مفتی احمد یار خاں نعیمی کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے، انہوں نے یہ بھی صحیح نہیں لکھا، اللہ کی بارگاہ میں کسی مقرب کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے، لیکن اللہ کا وسیلہ کسی کی بارگاہ میں پیش کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ ہم ابھی شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی عبارت سے بتا چکے ہیں، اور عوام کے اقوال سے استدلال کرنا درست نہیں، استدلال تو قرآن مجید کی آیات، احادیث، آثار صحابہ اور اقوال فقہاء سے کیا جاتا ہے اور ” شیاء للہ “ کی فقہاء نے یہ تاویل کی ہے کہ ” شیئاً اکراما للہ “ اللہ کی تکریم اور تعظیم کے لیے کچھ دو ۔ ( الفتاویٰ الخیر یہ علیٰ ہامش تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ ج ٢ ص ٢٨٢، المکتبۃ الحبیبیہ، کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہٗ کی بھی یہی تحقیق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے حضور وسیلہ بنانا جائز نہیں ہے، وہ لکھتے ہیں۔

یہی حال استعانت و فریاد رسی کا ہے کہ ان کی حقیقت خاص بخدا اور بمعنی وسیلہ توسل و توسط غیر کے لیے ثابت اور قطعاً روا، بلکہ یہ معنی تو غیر خدا ہی کے لیے خاص ہیں، اللہ عزوجل وسیلہ وتوسل و توسط بننے سے پاک ہے، اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہوگا اور اسکے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے کہ یہ بیچ میں واسطے بنے گا، و لہٰذا حدیث میں ہے : جب اعرابی نے حضور پر نور صلوات اللہ تعالیٰ و سلامیہ علیہ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف شفیع بناتے ہیں اور اللہ عزوجل کو حضور کے سامنے شفیع لاتے ہیں، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سخت گراں گزرا، دیر تک سبحان اللہ فرماتے رہے پھر فرمایا :

ویحک انہ لا یستشفع باللہ عل یاحد، شان اللہ اعظم من ذلک۔ رواہ ابودائود عن جبیر بن مطعم (رض) ۔

ارے نادان ! اللہ کو کسی کے پاس سفارشی نہیں لاتے ہیں کہ اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے ( اسے ابو دائود نے جبیر بن مطعم (رض) سے روایت کیا۔ )

( الیٰ قولہ) ایک بیوقوف وہابی نے کہا تھا :

وہ کیا ہے جو نہیں ملتا خدا سے جسے تم مانگتے ہو ولیاء سے

فقیر غفر اللہ تعالیٰ لہ ٗ نے کہا :

توسل کر نہیں سکتے خدا سے اسے ہم مانگتے ہیں اولیاء سے

یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ خدا سے توسل کر کے اسے کسی کے یہاں وسیلہ و ذریعہ بنایئے، اس وسیلہ بننے کو ہم اولیائے کرام سے مانگتے ہیں کہ وہ دربارِ الٰہی میں ہمارا وسیلہ و ذریعہ و واسطہ قضائے حاجات ہوجائیں۔

( فتاویٰ رضویہ ج ٢١ ص ٣٠٤۔ ٣٠٣، رضا فائونڈیشن، لاہور، ١٤٢٣ ھ)

اللہ اور رسول چاہے کہنا موھم بےادبی ہے، اللہ پھر رسول چاہے، کہنا چاہیے

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں تو اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے مجھے اور اللہ کو برابر ( اور ایک درجہ میں) کردیا ہے، بلکہ جو صرف اللہ چاہے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٣٤٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢١١٧، عمل الیوم واللیلۃ للنسائی رقم الحدیث : ١٩٨٨، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٣٠٠٦، سنن کبریٰ ، للبیہقی ج ٣ ص ٢١٧، مسند احمد ج ١ ص ٢١٤ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٩، رقم الحدیث ١٨٣٩، مؤسستہ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ شعیب الارنووط نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح لغیرہ ہے۔ )

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا : میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھ سے کسی اہل کتاب نے کہا : تم اچھے لوگ ہو اگر تم یہ نہ کہا کرتے جو اللہ چاہے اور جو محمد چاہے، ( یہ سن کر) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں بھی تمہارے اس جملہ کو ناپسند کرتا تھا، تم یوں کہا کرو : جو اللہ چاہے، پھر جو محمد چاہے۔

(تاریخ کبیر للبخاری ج ٤ ص ٣٦٤، مسند البزارج ٧ ص ٢٥٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢١١٨، عمل الیوم واللیلۃ للنسائی رقم الحدیث : ٩٨٤، الاسماء والصفات للبیہقی ص ١٤٣، مسند احمد ج ٥ ص ٣٩٣ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٨ ص ٣٦٤ رقم الحدیث : ٢٣٣٣٩، مؤسستہ الرسالہ، بیروت، ١٤٢١ ھ شعیب الارنووط نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ )

حضرت قتیلہ (رض) نے کہا کہ ایک یہودی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہا : تم لوگ اللہ کا شریک بناتے ہو اور شرک کرتے ہو، تم کہتے ہو : جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، اور تم کہتے ہو : کعبہ کی قسم ! تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ جب وہ قسم کھانے کا ارادہ کریں تو کہیں : رب کعبہ کی قسم ! اور یوں کہیں : جو اللہ چاہے پھر جو آپ چاہیں۔ ( سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٧٨٢، عمل الیوم واللیلۃ للنسائی رقم الحدیث : ٩٨٧۔ ٩٨٦)

ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی یوں کہے کہ اللہ اور رسول چاہے تو یہ شرک نہیں ہے کیونکہ عربی میں وائو اور اردو میں اور برابری کے لیے نہیں آتا، اس لیے آپ نے ابتداء میں صحابہ کو اس سے منع نہیں کیا لیکن بعد میں جب یہودیوں نے اس پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا : میں بھی اس کلام کو ناپسند کرتا تھا اور اس کو خلاف ادب قرار دے کر فرمایا : تم یوں کہا کرو : اللہ چاہے پھر آپ چاہیں، تاکہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں مساوات اور برابری کا وہم بھی نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کلام سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں براری کا وہم بھی ہو اس سے احتراز لازم ہے

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ان احادیث کی شرح میں فرماتے ہیں :

جب اس یہودی خبیث نے جس کے خیالات امام الوہابیہ کے مثل تھے، اعتراض کیا اور معاذ اللہ شرک کا الزام دیا، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے کریم کا زیادہ رجحان اسی طرف ہوا کہ ایسے لفظ کو جس میں احمق بد عقل مخالف جائے طعن جانے دوسرے سہل لفظ سے بدل دیا جائے کہ صحابہ کرام کا مطلب تبرک و توسل برقرار رہے اور مخالف کج فہم کو گنجائش نہ ملے، مگر یہ بات طرز عبادت کے ایک گونہ آداب سے تھی، معنا ًتو قطعاً صحیح تھی، لہٰذا اس کافر کے بکنے کے بعد بھی چنداں لحاظ نہ فرمایا گیا، یہاں تک کہ طفیل بن سخیرہ (رض) نے وہ خواب دیکھا اور رویائے صادقہ القائے ملک ہوتا ہے، اب اس خیال کی زیادہ تقویت ہوئی اور ظاہر ہوا کہ بارگاہ عزت میں یہی ٹھہرا ہے کہ یہ لفظ مخالفوں کا جائے پناہ ٹھہرا ہے، بدل دیا جائے جس طرح رب العزت جل جلالہ نے ” راعسا “ کہنے سے منع فرمایا تھا کہ یہود و عنودا سے اپنے مقصد مردود کا ذریعہ کرتے ہیں اور اس کی جگہ ” انطرنا “ کہنے کا ارشاد ہوا تھا، ولہٰذاخواب میں کسی بندہ صالح کو اعتراض کرتے نہ دیکھا کہ یوں تو بات فی نفسہ محل اعتراض نہ ٹھہرتی بلکہ خواب بھی دیکھا تو انہیں یہود و نصاریٰ اس امام الوہابیہ کے خیالوں کو معترض دیکھا تاکہ ظاہر ہو کہ صرف دہن دوزی مخالفان کی مصلحت داعی تبدیل لفظ ہے، اب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اللہ و رسول چاہیں تو کام ہوگا، بلکہ یوں کہو کہ اللہ پھر اللہ کا رسول چاہے تو کام ہوگا، ( پھر) کا لفظ کہنے سے وہ تو ہم مساوات کہ ان وہابی خیال کے یہود و نصاریٰ یا یوں کہیے کہ ان یہودی خیال کے وہابیوں کو گزرتا ہے، باقی نہ رہے گا : ” الحمد للہ علی تواتر الائہ والصلاۃ والسلام علی انبیائہ “ اہل انصاف و دین ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تقریر منیر کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر القا ہوئی کیسی واضح و مستنیر ہے، ان احادیث کو ایک مسلسل سلک گوہر میں منظوم کیا اور تمام مدارج و مراتب مرتبہ بحمد اللہ تعالیٰ نورانی نقشہ کھینچ دیا، الحمد للہ کی یہ حدیث فہمی ہم اہل سنت ہی کا حصہ ہے، وہابیہ وغیرہم بد مذہبوں کو اس سے کیا علاقہ ہے۔ ” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم۔ والحمد للہ رب العلمین “۔

(الامن والعلیٰ ص ١٨٧۔ ١٨٦، شبیر برادرز، لاہور، ١٣٩٦ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 13