رَبِّ اغۡفِرۡلِىۡ وَلِـوَالِدَىَّ وَلِمَنۡ دَخَلَ بَيۡتِىَ مُؤۡمِنًا وَّلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا تَبَارًا سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 28
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رَبِّ اغۡفِرۡلِىۡ وَلِـوَالِدَىَّ وَلِمَنۡ دَخَلَ بَيۡتِىَ مُؤۡمِنًا وَّلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا تَبَارًا ۞
ترجمہ:
اے میرے رب ! مجھے معاف فرما اور میرے ماں باپ کو اور زمین کو جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا اور تمام ایمان والے مردوں اور تمام ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں میں صرف ہلاکت کو زیادہ فرما ؏
تفسیر:
نوح : ٢٨ میں فرمایا : اے میرے رب ! مجھے معاف فرما اور میرے ماں باپ کو اور ان کو جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہوا، اور تمام ایمان والے مردوں اور عورتوں کو اور ظالموں میں صرف ہلاکت کو زیادہ فرما۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا پر اعتراضات کے جوابات
حضرت نوح (علیہ السلام) کے والد کا نام لمک بن متو شلخ اور ان کی والدہ کا نام ہے شخمی۔ ( روح المعانی ٢٩ ص ١٣٨)
اور حضرت نوح کے والدین مومن تھے، کیونکہ کافر کے لیے دعا کرنا جائز نہیں ہے یا اس سے مراد ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) تک ان کے سلسلہ ٔ نسب کے تمام آباء اور امہات
حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے لیے دعا کی، تاکہ یہ ظاہر ہو کہ انسان سب سے زیادہ خود اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا محتاج ہے، پھر اپنے والدین کے لیے دعا کی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بعد انسان پر سب سے زیادہ احسان اس کے والدین کا ہے، اس کے بعد تمام مؤمنین کے لیے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا یہی طریقہ ہے، حضرت نوح نے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی طریقہ سے دعا کی ہے۔
اپنے، اپنے والدین اور تمام مؤمنین کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے لیے ہلاکت کی دعا کی اور فرمایا : اور ظالموں میں صرف ہلاکت کو زیادہ فرما۔
افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ ہرحال میں کفار کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے، اسی وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس خلاف اولیٰ دعا پر پہلے ہی اپنے لیے مغفرت کی دعا کی، کیونکہ آپ نے ان کے لیے ہلاکت کی دعا اس لیے کی تھی کہ وہ آپ کو ایذاء پہنچاتے تھے اور آپ کے پیغام کو قبول نہیں کرتے تھے، اس لیے ان کے خلاف دعا کرنا بہ ظاہر ان سے انتقام لینا تھا، اسی وجہ سے میدان حشر میں بھی جب لوگ حضرت نوح سے شفاعت کے طالب ہوں گے تو وہ گریز فرمائیں گے۔
اس مقام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا سے ان کی قوم کے کافروں پر جو طوفان آیا، اس کے نتیجہ میں بچے بھی غرق کردیئے گئے حالانکہ وہ مکلف نہ تھے، اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :
(١) طوفان آنے سے چالیس سال یا نوے سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو بانجھ کردیا تھا، اس لیے طوفان کے وقت ان کو کوئی نابالغ اولاد نہ تھی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کے ہاں اولاد پیدا ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ضروری قرار دیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں اور جب انہوں نے استغفار نہیں کیا تو ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی، جیسا کہ اس آیت میں سے ظاہرہوتا ہے :
پس میں نے ان سے کہا : تم اپنے رب سے استغفار کرو ( الیٰ قولہ تعالیٰ ) وہ مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ ( نوح : ١٢)
اس آیت کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ استغفار نہیں کریں گے تو انکے ہاں اولاد نہیں ہوگی اور جب انہوں نے اللہ کی طرف رجوع نہیں کیا تو ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی، س لیے طوفان سے پہلے کوئی نابالغ بچہ نہیں تھا۔
(٢) اگر بالفرض طوفان سے پہلے بچے ہوں تو وہ طوفان ان کے لیے طبعی موت کا سبب بنا اور وہ ان کے حق میں عذاب نہیں ہوا۔
سورت نوح کی تفسیر کا اختتام
اللہ تعالیٰ کا بےحد، حساب شکر ہے کہ آج ٨ ربیع الاولی ١٤٢٦ ھ/١٨ اپریل ٢٠٠٥، بروز پیر بعد از نماز عصر سورة نوح کی تفسیر مکمل ہوگئی، اے میرے رب ! جس طرح آپ نے اس سورت کی تفسیر مکمل کرا دی ہے، قرآن مجید کی باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دے، اور میری، میرے والدین کی، میرے اساتذہ کی اور احباب کی اور قارئین کی اور تمام مؤمنوں کی مغفرت فرما۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النیین شفیع المذنبین قائد الغر المحجلین و علیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ و ذریاتہ وامتہ اجمعین۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 28