أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّهُمۡ عَصَوۡنِىۡ وَاتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهٗ وَوَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا‌ ۞

ترجمہ:

نوح نے کہا : اے میرے رب ! انہوں نے میری حکم عدولی کی اور انہوں نے ان کی پیروی کی جنہوں نے ان کے مال اور اولاد میں نقصان کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نوح نے کہا : اے میرے رب ! انہوں نے میری حکم عدولی کی اور انہوں نے ان کی پیروی کی جنہوں نے ان کے مال اور اولاد میں نقصان کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا۔ اور انہوں نے بہت بڑی سازش کی۔ اور انہوں نے کہا : تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور رسواع اور بغوث اور یعوق اور نسر کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ اور بیشک انہوں نے بہت لوگوں کو گم راہ کردیا۔ ( نوح : ٢١۔ ٢٤ )

کفار نوح کی حضرت نوح (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں

اس سے پہلی آیتوں میں یہ بتایا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی، اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل پیش کیے اور ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی دعوت کا کیا جواب دیا۔

نوح : ٢١ میں یہ بتایا ہے کہ ان کی قوم نے نہ صرف یہ کہ ان کی حکم عدولی کی بلکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ان کے مخالفوں کی اطاعت کی، جو لوگ حضرت نوح کی نبوت کے منکر اور مخالف تھے اور بت پرستی کے داعی تھے، جن کی اطاعت ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی تھی، وہ ان کے دنیا میں کسی کام آسکتے تھے نہ آخرت میں، جن کی دوستی اور اطاعت سے ان کو سوائے نقصان کے اور کچھ حاصل نہ تھا، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم حضرت نوح کو چھوڑ کر ان کی اطاعت کرتی تھی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 21