مِّمَّا خَطِٓيْئٰتِهِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا ۙ فَلَمۡ يَجِدُوۡا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡصَارًا سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 25
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مِّمَّا خَطِٓيْئٰتِهِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا ۙ فَلَمۡ يَجِدُوۡا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡصَارًا ۞
ترجمہ:
سو ان کو ان کے سنگین گناہوں کی وجہ سے ہی غرق کیا گیا پس فوراً ان کو آگ میں جھونکا گیا تو انہوں نے اللہ کے مقابلہ میں اپنا کوئی مددگار نہ پایا
تفسیر:
نوح : ٢٥ میں فرمایا : سو ان کو ان کے سنگین گناہوں کی وجہ سے ہی غرق کیا گیا پس فوراً ان کو آگ میں جھونکا گیا تو انہوں نے اللہ کے مقابلہ میں اپنا کوئی مددگار نہ پایا۔
عذاب قبر کا ثبوت اور اس پر شبہات کے جوابات
اس آیت میں ” مما خطیئتھم “ میں جار مجرور معمول مقدم ہے اور اس کا عامل ” اغرقوا “ مؤخر ہے اور تقدیم ” ماحقہ التاخیر “ مفید حضر ہے، اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ کیا ہے : سو ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے ہی غرق کیا گیا۔
نیز اس آیت میں فرمایا ہے :” اغرقوا فادخلوا نارا “ اور ” فاء “ تعقیب علی الفور کے لیے آتی ہے، اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ کیا ہے ( ان کو) غرق کیا گیا پس فوراً ان کو آگ میں جھونکا گیا۔
منکرین عذاب قبر کہتے ہیں کہ قوم نوح کے کافروں کی قبریں کہاں بنی تھیں جو اس سے عذاب قبر مراد لیا جائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عذاب قبر کی بحث میں قبر سے مراد معروف قبر نہیں ہوتی یعنی گڑھا کھود کر اس سے میت کو دفن کیا جائے اور اس کے اوپر اونٹ کی کوہان کی شکل میں مٹی کو برابر کیا جائے بلکہ اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں انسان مرنے کے بعد رہے خواہ وہ جگہ دریا ہو یا سمندر ہو یا کسی درندہ کا پیٹ ہو۔
منکرین عذاب قبر کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں ” فادخلوا نارًا “ کا یہی معنی نہیں ہے کہ ان کو فوراً آگ میں جھونک دیا گیا، بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ قیامت کے بعد ان کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا، رہا یہ کہ یہ تو مستقبل میں ہوگا اور اس آیت میں ماضی کا صیغہ ہے، جس کا معنی ہے، ان کو آگ میں جھونک دیا گیا، اس کا جواب یہ ہے کہ جس کام کا مستقل میں تحقیق اور وقوع یقینی ہو، اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے، گویا وہ کام ہوگیا، جیسے قرآن مجید میں ہے :
وَ نَادٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ (الاعراف : ٤٤) اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا۔
یہ بھی ماضی کا صیغہ ہے، حالانکہ یہ پکارنا قیامت کے بعد آخرت میں ہوگا مگر چونکہ اس کا وقوع اور تحقیق یقینی ہے، اس لیے اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کیا گیا، اسی طرح زیر بحث آیت میں بھی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی کے صیغہ کا مضارع کا معنی کرنا مجاز ہے اور بلا ضرورت شرعی قرآن مجید کے کسی لفظ کو مجاز پر محمول کرنا جائز نہیں ہے، رہا ” وَ نَادٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ “ الاعراف : ٤٤) تو اس آیت کا معنی اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا، جب تک ماضی کو مستقبل کے معنی میں نہ لیا جائے اور ” اغرفوا فادخلوا نارا “ میں اس لفظ کو ماضی کے معنی میں ہی برقرار رکھ کر معنی صحیح ہے اور اس سے مراد قبر کی آگ ہے، لہٰذا اس آیت کو ” ونادی ٰ اصحاب الجنۃ “ پر قیاس کرنا درست نہیں ہے۔
منکرین عذاب قبر کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ جو شخص پانی میں ڈوب جاتا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی لاش کئی کئی دن تک سطح آب پر پڑی رہتی ہے، اس صورت میں یہ کہنا کس طرح صحیح ہوگا کہ اس کو آگ جلا رہی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کا شخص اس کے اجزاء اصلیہ سے عبارت ہے اور اجزاء اصلیہ انسان کے وہ اجزاء ہیں جو اس کی پیدائش سے لے کر موت تک اس میں برقرار رہتے ہیں، انسان کا جسم گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور وہ اجزاء اس میں مشترک رہتے ہیں، انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم کا وزن چار پونڈ ہوتا ہے اور جوانی میں اس کا جسم کا وزن ڈیڑھ سو سے دو سو پونڈ تک ہوتا ہے اور بڑھاپے میں اس کا وزن ایک سو پونڈ سے ڈیڑھ سو پونڈ تک رہ جاتا ہے، اسی طرح بیماری اور صحت کے اعتبار سے بھی اس کا وزن گھٹتا بڑھتا رہتا ہے، پھر ہم کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ یہ وہی انسان ہے جو چار پونڈ کا پیدا ہوا تھا، اور اجزاء اصلیہ کے علاوہ اس کے جسم کے تمام ادوار میں اور کوئی چیز مشترک نہیں ہوتی، روح کا تعلق بھی ان ہی اجزاء اصلیہ کے ساتھ ہوتا ہے اور مرنے کے بعد انسان خواہ دریا میں ہو یا درندہ کے پیٹ میں ہو، اللہ تعالیٰ اس کے اجزاء اصلیہ کو باقی رکھتا ہے اور ان ہی اجزاء پر عذاب اور ثواب کا ترتب ہوتا رہتا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 25