أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًا‏ ۞

ترجمہ:

اور نوح نے دعا کی : اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ

تفسیر:

نوح : ٢٧۔ ٢٦ میں فرمایا : اور نوح نے دعا کی : اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ بیشک اگر تو نے انہیں چھوڑا تو یہ تیرے بندوں کو گمر اہ کریں گے اور ان سے صرف بدکار کافر پیدا ہوں گے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو کیسے معلوم ہوا کہ ان کافروں کی جو اولاد پیدا ہوگی وہ بدکار کافر ہی ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو اس علم اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور تجربہ سے ہوا، رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد تو وہ یہ ہے :

اَنَّـہٗ لَنْ یُّـؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ (ھود : ٣٦) بیشک آپ کی قوم میں سے جو ایمان لا چکے ہیں ان کے علاوہ ہرگز کوئی اور ایمان نہیں لائے گا۔

اور تجربہ کا معاملہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال رہے اور اس طویل عرصہ میں صرف اسی (٨٠) لوگ ایمان لائے، باقی اپنے کفر پر ڈٹے رہے، اور وہ اپنی اولاد کو نصیحت کرتے تھے کہ ان کی بات نہ سننا، یہ بہت بڑے جھوٹے ہیں، اور جب وہ شخص مرجاتا تو وہ اپنی اولاد کو ایسی ہی نصیحت کرتا تھا اور ان کی نسل در نسل میں جو بھی پیدا ہوتا تھا وہ بدکار کافر ہی ہوتا تھا۔ اس آیت کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ اے اللہ ! تیرے علم اور تیری تقدیر میں یہ مقرر ہے کہ ان کی اولاد میں سب سے کافر اور بدکار ہی ہوں گے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 71 نوح آیت نمبر 26