أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّلَا وَلَدًا ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہمارے رب کی بزرگی بہت بلند ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ بیٹا

تفسیر:

الجن : ٣ میں فرمایا : اور بیشک ہمارے رب کی بزرگی بہت بلند ہے، اس نے کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ بیٹا۔

” جد “ کا معنی

اس آیت میں یہ الفاظ ہیں :” وانہ تعالیٰ جد ربنا “ لغت میں ” جد “ کا معنی ہے۔ عظمت اور جلال۔ حضرت انس (رض) نے جب سورة البقرۃ اور سورة آل عمران کو حفظ کرلیا تو انہوں نے کہا : ” جد فی عیوننا “ ہماری آنکھوں میں اس کی عظمت اور جلالت بھر گئی اور مکا معنی غنا بھی ہے، حدیث میں ہے :

لا ینفع ذالجد منک الجد : تیرے مقابلہ میں کسی بزرگ کی بزرگی یا کسی غنی کا غنا فائدہ نہیں دے گا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٣٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩٣، سنن ابو دئود رقم الحدیث : ٥٠٥، سنن نسائی الحدیث : ١٣٤٠، مسند احمد رقم الحدیث : ٨٢٠٧، دارالفکر)

یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز سے غنی ہے تو نہ اس کے بیٹے کی حاجت ہے نہ بیوی کی ضروت ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 3