أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الۡاِنۡسِ يَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الۡجِنِّ فَزَادُوۡهُمۡ رَهَقًا ۞

ترجمہ:

اور بیشک انسانوں میں سے چند لوگ جنات میں کچھ لوگوں کی پناہ طلب کرتے تھے، اس سے جنات کی سرکشی زیادہ ہوگئی

تفسیر:

الجن : ٦ میں فرمایا : ( جنات نے کہا :) اور بیشک انسانوں میں سے چند لوگ جنات کی پناہ طلب کرتے تھے، اس سے جنات کی سرکشی زیادہ ہوگئی

اس آیت کی حسب ذیل تفسیریں کی گئی ہیں :

(١) حسن بصری اور ابن زیاد وغیرہ ہما نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مسافر کسی اجنبی وادی میں پہنچتا تو کہتا : میں اس وادی کی قوم کے جاہلوں کے شر سے اس وادی کے رب کی پناہ میں آتا ہوں، پھر اس وادی میں صبح تک رہتا۔

(٢) مقاتل نے کہا : سب سے پہلے جن لوگوں نے جنات کی پناہ طلب کی تھی وہ اہل یمن تھے، پھر بنو حنیفہ، پھر یہ شرک تمام عرب میں پھیل گیا، پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے جنات سے پناہ طلب کرنا چھوڑ دیا اور اللہ کی پناہ کو طلب کرنا شروع کردیا۔

(٣) کردم بن ابی السائب نے کہا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ابتدائی دور تھا، میں اپنے والد (رض) کے ساتھ مدینہ گیا، ہم نے رات ایک بکریوں کے چرواہے کے ساتھ گزاری، جب آدھی رات ہوگئی تو ایک بھیڑیا آیا اور بکری کے بچہ کو اٹھا کرلے گیا، اس چرواہے نے پکارا : اے وادی میں رہنے والے ! میں تیری پناہ میں ہوں، پھر ایک منادی پکارا : اے بھیڑیے ! اس بکری کے بچے کو چھوڑ دے، پھر وہ بکری کا بچہ دوڑتا ہوا آگیا اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر وحی نازل کی تھی۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٩ ص ١١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام رازی نے لکھا ہے کہ : جب زمانہ ٔ جاہلیت میں قحط پڑجاتا تو مشرکین کسی شخص کو سرسبز زمین کی تلاش میں بھیجتے، پھر اس کو جس جگہ پانی اور گھاس ملتی تو وہ وہاں اپنے گھر والوں کو بلا لیتا، پھر جب وہ وہاں پہنچ جاتے تو وہ بلند آواز سے پکارتے : اے اس وادی کے رب ! ہم اس وادی کی آفات اور بلیات سے تیری پناہ میں آتے ہیں اور ان کی مراد اس وادی کے رب سے جنات ہوتے تھے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٦٦٨ )

اس آیت میں ” رھفا “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : خطاء اور گناہ۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور قتادہ نے کہا کلام عرب میں ” رھق “ کا معنی ہے : بڑے بڑے گناہوں کا احاطہ کرنا۔ مجاہد نے کہا : انسانوں نے جنات کی پناہ میں آ کر ان کی سرکشی میں اور اضافہ کیا۔ سعید بن جبیر نے کہا : ” رھق “ کا معنی کفر ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ سبحانہ ٗ کو چھوڑ کر جنات کی پناہ طلب کرنا کفر اور شرک ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 72 الجن آیت نمبر 6