کیا گستاخ نبی، تصوف کا دوست ہو سکتا ہے؟
کیا گستاخ نبی، تصوف کا دوست ہو سکتا ہے؟
غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی
یہ سوال صرف میرا ہی نہیں آپ کا بھی ہونا چاہیے اور ہر اس انسان کا ہونا چاہیے جو خود کو مسلمان مانتا ہے۔اگر ہم خود کو مسلمان مانتے ہیں تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ ہم اس انسان کا استقبال اور خاطر داری کس طرح کر سکتے ہیں جو سر عام ہمارے آقا پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کرتا ہو۔جس کے دامن پر توہین رسالت کے بڑے بڑے داغ ہوں۔جس نے کھلے عام رسول پاکﷺ کی توہین کرائی ہو۔جو توہین رسالت کو Freedom of expression کہہ کر جائز ٹھیراتا ہو اور گستاخوں کی حمایت کرتا ہو !!
ہمیں پورا یقین ہے کہ جاہل سے جاہل مسلمان بھی ایسے گستاخ رسول سے ملنے کے لیے آمادہ نہیں ہوگا لیکن کیا کہا جائے کہ جس گھنونے کام کی امید ایک جاہل مسلمان سے بھی نہیں کی جا سکتی اسے ایک معروف خانقاہ کے سجادگان نے بڑی فراخ دلی کے ساتھ انجام دے کر نہ صرف کروڑوں مسلمانوں بل کہ صاحب آستانہ کی روح کو بھی تکلیف دینے کا کام کیا ہے۔
________اصل معاملہ کیا ہے؟
ستائیس جنوری رات پونے دس بجے فرانس کا بدنام زمانہ صدر ایمانوئیل میکرون(Emmanuel Macron) دلی کی معروف درگاہ خواجہ نظام الدین اولیا میں پہنچا۔جہاں خدام آستانہ نے بڑے والہانہ انداز میں اس کا استقبال کیا۔مزار پر حاضری کرائی۔ہدیتاً ایک خوب صورت چادر پیش کی۔قوالیوں کی محفل سجا کر مہمان نوازی کی ہر ممکن کوشش کی۔میکرون نے وہاں قریب آدھا گھنٹہ گزارا، اس دورانیے میں سجادگان میں اس سے ہاتھ ملانے اور اس کے ساتھ فوٹو کھنچوانے کی ایک عجیب سی خوشی دکھائی دے رہی تھی۔ہاتھ ملاتے وقت بعض لوگوں کی خوشی دیکھنے لائق تھی، خوشی کے اثرات دل کی کیفیت کو صاف بیان کر رہے تھے۔یہ سارا تماشا اس عظیم بزرگ کے آستانے پر کیا گیا جس نے ساری زندگی بادشاہوں اور امیروں سے ملنا گوارا نہیں کیا۔جو دنیا داروں سے ہمیشہ دور رہا۔جس نے علاؤالدین خلجی جیسے طاقت ور بادشاہ کو منت سماجت کے باوجود اپنی خانقاہ میں آنے کی اجازت نہیں دی۔جس نے اپنے عزیز ترین مرید حضرت امیر خسرو سے علاؤالدین کی سفارش کرنے پر بڑی سنجیدگی سے کہا تھا:
“ترک تم مجھے بہت عزیز ہو لیکن حکمرانوں سے ملنا میرا مزاج نہیں ہے، آئندہ سفارش نہ کرنا۔”
غور کریں!
حضرت نظام الدین اولیا نے ایک مسلم بادشاہ کے لیے بھی اپنے عزیز ترین مرید کی سفارش قبول نہ کی، اسی کے آستانے پر ایک گستاخ رسول کے آنے سے وہ کس قدر ناخوش ہوئے ہوں گے؟
کیا مجاورین آستانہ دنیا سے اتنے بے خبر ہیں کہ انہیں میکرون کی گستاخیوں اور خباثتوں کا علم نہیں ہے۔کیا انہیں معلوم نہیں کہ شارلی ہیبڈو نامی میگزین 2005 سے مسلسل ہمارے آقا ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرتی آئی ہے، میکرون اس کی کھلی حمایت کرتا ہے۔سن 2020 میں سیموئل پیٹی نامی ٹیچر کی گستاخی اور قتل کے بعد اسی میکرون نے انتقامی طور پر سرکاری سطح پر پیرس کی عمارتوں پر وہی گستاخانہ خاکے شائع کرائے اور صاف صاف اعلان کیا تھا:
“ہم ان خاکوں اور تصویروں پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔”
افسوس!
جو میکرون توہین رسالت پر اتنا کھلا اسٹینڈ رکھتا ہے اس کی عزت افزائی کرتے ہوئے کسی سجادے ہاتھ نہیں کپکپائے۔
جس نے ہمارے نبی کی شان میں بدترین گستاخیاں کیں اور کرائیں، اسی سے ہاتھ ملاتے کسی کو شرم نہ آئی۔
سجادگان میں ایک بھی ایسا غیرت مند نہیں نکلا جو میکرون کی آمد کی مخالفت کر پاتا۔
کسی ایک نے بھی نبی پاک کی محبت میں میکرون سے اس کی گستاخیوں پر کوئی باز پرس نہیں کی۔
ایک گستاخ رسول دندناتا ہوا آیا اور خدام آستانہ کو فرانس کی دعوت کا ٹکڑا ڈال کر ان کی حمیت وغیرت کو روندتا ہوا چلا گیا۔
تصوف کا بے جا استعمال________
تصوف اسلام ہی کا ایک حصہ ہے، اسلام ہے تو تصوف ہے اسلام نہیں تو تصوف بھی نہیں، لیکن ان دنوں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے مانو تصوف اسلام سے الگ کوئی اور چیز ہے۔اسی لیے وہ لوگ جن کا اسلام سے ادنی سا بھی تعلق نہیں محض مزاروں کی حاضری یا محفل قوالی میں شرکت کی بنیاد پر صوفی یا تصوف دوست کہلاتے ہیں۔اسی trick کا استعمال ایمانوئیل میکرون نے بھی کیا اور اہل خانقاہ اس کے فریب میں آگیے اور ایک گستاخ رسول کی عزت افزائی جیسا گھناؤنا کام کر بیٹھے۔
کاش انہیں احساس ہوتا ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کا گستاخ ہے وہ خواجہ نظام الدین کا معتقد کیسے ہو سکتا ہے؟
حضرت نظام الدین نسباً سید ہیں،آپ کا شجرہ نسب بنت رسول اللہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تک پہنچتا ہے، یعنی آپ خون کے اعتبار نبی پاک ﷺ کے نواسے ہوتے ہیں، کیا کوئی نواسہ اپنے نانا کے گستاخ سے ملنا پسند کرے گا؟
جن سجادگان نے میکرون کی حاضری کرائی کیا وہ آستانہ محبوب الہی پر یہ آواز لگا سکتے ہیں کہ؛
خواجہ نظام الدین! آپ کے نانا جان ﷺ کی برہنہ تصویریں بنانے والا میکرون آپ کی بارگاہ میں آیا ہے اس کی حاضری قبول فرمائیں!!
کیا سجادگان کسی ایسے انسان سے ملنا پسند کریں گے جو ان کے سگے ماں باپ کے ننگے کارٹون بنا کر دنیا بھر میں وائرل کر دے؟
اگر نہیں تو سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا حضور کا مقام ہمارے ماں باپ سے کم ہے؟
تصوف گنگا ندی نہیں ہے کہ ایک ڈبکی لگائی اور سارے گناہ صاف!
تصوف وخانقاہ کو واشنگ مشین نہ بنائیں کہ ایک حاضری میں توہین رسالت جیسے گناہ بھی دھل جائیں۔
تصوف تزکیہ قلب کا نام ہے لیکن جس دل میں توہین رسالت کی گندگی جمع ہو ایسے لوگ ہزاروں مزاروں پر بھی حاضری دے ڈالیں تب بھی صاف نہیں ہوسکتے۔
کہتے ہیں علاؤالدین خلجی نے پہچان چھپا کر خانقاہ نظام الدین میں آنا چاہا تو حضرت محبوب الہی دلی چھوڑ کر اپنے مرشد کی خانقاہ پاک پٹن چلے گیے تھے۔علاؤالدین خلجی صاحب ایمان اور عقیدت مند تھا لیکن میکرون مسلمان ہے نہ عقیدت مند، اس کے آنے کا سن کر اگر محبوب الہی مرشد کے بجائے مدینہ پہنچ گیے اور اپنے نانا جان سے آنے کی وجہ بتا دی تو…………؟؟؟
یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تُو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقِ خانقاہی
19 رجب المرجب 1445ھ
31 جنوری 2024 بروز بدھ
