أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَيۡكُمۡ كَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ رَسُوۡلًا ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا جو تم پر گواہ ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجا جو تم پر گواہ ہے، جس طرح ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجا۔ پس فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کو سخت گرفت سے پکڑ لیا۔ اگر تم نے اس کا انکار کیا تو تم اس دن کے عذاب سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔ آسمان اس کی شدت سے پھٹ جائے گا اور اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ بیشک یہ ( آیات) نصیحت ہیں، سو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ کو اختیار کرلے۔ ( المزمل : ١٩۔ ١٥)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے تشبیہ دینے کی توجیہ

ان آیات میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور ان کو ایمان نہ لانے پر انواع و اقسام کے عذاب سے ڈرایا ہے۔

اس جگہ یہ سوال ہے کہ ان آیتوں میں خصوصیت کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ کیوں ذکر فرمایا ہے ؟ کسی اور نبی اور رسول کا قصہ کیوں نہیں ذکر فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل مکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت کم حیثیت اور معمولی انسان سمجھتے تھے اور آپ کی تحقیر کرتے تھے کیونکہ آپ ان ہی کے درمیان پیدا ہوئے تھے اور پلے بڑھے تھے، جیسا کہ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہت کم حیثیت اور معمولی انسان سمجھتا تھا، کیونکہ حضرت موسیٰ اسی کے شہر میں پیدا ہوئے تھے، اسی کے گھر میں انہوں نے پرورش پائی تھی، جیسا کہ فرعون نے کہا تھا :

اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا (الشعرائ : ١٨) فرعون نے کہا : کیا ہم نے آپ کے بچپن کے زمانہ میں آپ کی پرورش نہیں کی تھی۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے : ” جو تم پر گواہ ہے “ اس کی کیا ضرورت ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت کے دن ان کے کفر اور ان کی تکذیب کی گواہی دیں گے۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ آپ کے گواہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ دنیا میں حق کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بیان فرماتے ہیں کہ جس کفر پر وہ قائم ہیں وہ باطل ہے، کیونکہ گواہ اپنی گواہی سے حق کو بیان کرتا ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ المزمل : ١٦ میں ” وبیل “ کا لفظ ہے، اس کا کیا معنی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ” وبیل “ کا معنی ہے : ثقیل اور غلیظ، اسی وجہ سے سخت پاداش کو ” وابل “ کہا جاتا ہے، یعنی ہم نے فرعون کو شدید گرفت میں پکڑ لیا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 15