أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ تَرۡجُفُ الۡاَرۡضُ وَالۡجِبَالُ وَكَانَتِ الۡجِبَالُ كَثِيۡبًا مَّهِيۡلًا ۞

ترجمہ:

جس دن زمین اور پہاڑلرزنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کا بکھرا ہوا ٹیلا بن جائیں گے.

المزمل : ١٤ میں فرمایا : جس دن زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کا بکھرا ہو ٹیلا بن جائیں گے۔

مشکل الفاظ کے معانی

اس آیت میں ” ترجف “ کا لفظ ہے اور ” الرجفۃ “ کا معنی ہے : شدید زلزلہ اور ” کثیبا “ کا معنی ہے : ریت کا بہت بڑا ٹیلا ” مھیلا “ کا معنی ہے۔ ریگ رواں، ریگ سیال، جھڑ کر گرنے والی مٹی اور ریت۔

اللہ تعالیٰ پہاڑوں کے اجراء اور توڑ پھوڑدے گا اور وہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، پھر اس وقت وہ ریت کے بہت بڑے ٹیلے کی طرح ہوجائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو چلائے گا تو وہ رواں دواں ریت کی طرح ہوجائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 73 المزمل آیت نمبر 14