انجینئیرز کے فالوورز کے لیے لمحہ فکریہ!!

انجینئیر کے نعرے مارنے اور بظاہر اپنے آپکو علمی کتابی کہنے والوں کی 70 فیصد اکثریت رافضیوں اور پھر تفضیلیوں کی ہے۔

اب انجنئیر مرزے کے وہ چاہنے والے نوجوان جو اہلسنت کے مسالک میں سے تھے۔

جن میں سے کچھ بریلوی جماعت سے انکے مزاروں اور پیروں فکیروں کے ڈراموں اور استمداد و استغاثہ کے بگڑے ہوئے امور سے تنگ آ کر مرزے کو فالو کیا

دیوبندیوں مسلک کے کچھ جوان تصوف و ترک رفع الیدین کے مسلہ اور اپنے بزرگوں کے مشہور عجیب کرامتوں کے دفاع سے تنگ آکر گئے۔

اور اہل حدیث مسلک کے کچھ لوگ امام حسن و حسین و اہلبیت کے قلیل ذکر اور یزید کے مسلہ پر تصلب کے سبب تنگ آکر گئے۔

لیکن ان تین مسالک کے نوجوانوں میں ان درجہ ذیل مسائل پر کوئی اختلاف و پریشانی نہ تھی۔

1. تمام صحابہ کے عادل و راشد ہونے پر

2۔ تمام صحابہ کے مشاجرات کے امور میں سکوت کرنے پر

3. تمام جنگوں میں حضرت علی کو حق پر اور حضرت معاویہ کو فقط خطائے اجتہادی پر ماننے پر

4.حضرت معاویہ کا ہمیشہ ذکر خیر کرنے پر انکے ساتھ اماں عائشہ و حضرت طلہ و زبیر رضی اللہ عنہما کے فضائل کے قائل ہونے پر۔

5.رافضی شیعوں کے دائرہ اسلام سے خروج کے سلسلے میں امت کے اجماع قائم ہونے پر

6. حضرت ابو بکر و عمر کو افضل بعد از انبیاء ہونے پر۔

لیکن مرزے کی وہ اکثریت فالوورز جو پہلے سے ہی رافضی و تفضیلی تھے وہ اپنی پہچان چھپا کر مرزے کے سٹوڈینٹس بن گئے۔

اور جو مرزے کے سنی سٹوڈینٹس تھے ان کو اپنے ساتھ ورغلا کر

مرزے کے فالوورز کو فقط ان درج مسلہ پر لگا دیا۔

1. حضرت معاویہ کے ذکر خیر کو دشمنی اہلبیت سمجھنا

2.حضرت علی کو تمام صحابہ سے افضل بلکہ “کنگ میکر” سمجھنا۔

3. اماں عائشہ و حضرت طلہ و زبیر کو باغی کہنا۔

4.حضرت معاویہ کو “ماموں” کہنا اور انکے جنگ کرنے کے امر کو مشکوک سمجھنا انکی نیت پر شک کرنا۔
بلکہ حضرت معاویہ کو حضرت علی کا مبغض بنا کر معاذ اللہ انکو دل میں منافق تصور کرنا۔

5حضرت معاویہ کی بیعت جع حسنین کریمین نے کی۔ جسکا اعلان۔ نبی کریم اپنی زندگی میں فرما گئے تھے اس فرمان رسول کو پس پشت دال کر  اس عظیم بیعت و صلح کو بغیر دلیل و اسناد کے  منسوخ بنا لینا ، کہ کہیں پھر حضرت معاویہ کی شان کا پہلو نہ نکلے۔

اسکے علاوہ مرزا صاحب فالوورز باقی انہی پرانے جماعتی مسائل میں بحث کرتے ہیں جو اہلسنت کے مسالک مناظروں اور سٹیجوں پر کرتے ہیں

یعنی صوفیاء کو نشانہ بنانا

جبکہ علمی کتابی کیا کرتے ہیں؟
متفقہ علیہ صوفیاں کی طرف منسوب واقعہ کو بنیاد بنا کر یہ کہنا “بابے تے شے کوئی نہیں”

پھر کہنا “نبی کے سامنے (کوئی بھی مخصوص صحابی کا نام لگا کر کہنا) شے کوئی نہیں۔

پھر حضرت معاویہ کا نام پر کہنا علی کے سامنے شے کوئی نہیں۔

لیکن انکی منافقت کا تب پتہ چلتا ہے جب سے کہا جائے کہ یہ بات بھی ٹھیک ہے؟
کہ “نبی اکرم کے سامنے حضرت علی شے کوئی نہی”
(استغفار)

لیکن یہ کبھی یہ جملہ نہیں کہینگے۔
جو سیدھے سادھے سںی  مرزا صاحب کے فالوورز ہونگے وہ یہ جملہ بول دینگے۔
جو تقیہ باز کھٹمل ہونگے وہ کبھی نہ کہینگے۔

اسی دوران یہ بھی بات قابل غور ہے کہ جن مسائل کو بنیاد بنا کر مرزا صاحب اہلسنت کے ہر فرقہ پر طعن کرتا ہے۔

انہی سب امور میں کفر تک غلو شیعو کی جماعت میں ہے۔
لیکن ان پر رد برائے نام ہے کہ بس کوئی طعنہ مارے تو کلپ ایک آدھ دکھا دیا جائے۔۔

الغرض مرزا نے 70 فیصد مسائل میں رافضیت کو تقویت دی۔
اور وہ تقویت اہلسنت میں پہلے سے مشہور مسائل پھر سے نئے بنا کر  عام کالج و یونیورسٹیوں کے لڑکوں کو رافضیت کے مسلہ پر چلا دیا۔

مرزا کا نصف سے زیادہ لٹریچر اور ویڈیوز مشاجرات صحابہ جنگ جمل و صفین حضرت معاویہ کی مذمت وغیرہ پر ہے۔

مرزا صاحب کے فالوورز ہمیشہ بس حضرت معاویہ پر لڑتت نظر آئیں گے۔

کہ دین و ایمان کا مسلہ بس یہی جنگیں و کربلا تھیں۔

جب آپ سیع نظر سے دیکھنگے تو معلوم ہوگا کہ
فتنہ رافضیت و تفضیلیت  کو پھر سے مرزا کی شکل میں لاونچ کیا گیا تھا جسکا  اصل مقصد مشاجرات صحابہ پر اہلسنت کے جوانوں کو گمراہ کرنا تھا۔

لیکن اسکا ٹائم مکمل ہو گیا اور اسکے جیسے تفضیلی پیروں کا بھی۔

فتنے کے مقابل اللہ نے اہلسنت میں حضرت سیدنا معاویہ کے دفاع کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا کہ 1000 سال رافضیوں کو حضرت معاویہ پر اعتراضات بنانے میں لگے۔

اور
اہلسنت ںمنے صرف 5 سالوں میں  ان سب پروپیگنڈہ کا دلائل سے منہ توڑ جواب دیے اور دیتے جا رہے ہیں۔
بلکہ حضرت معاویہ کے دفاع میں دلائل کی ترتیب و تحقیق کا ایسا نیا مضبوط سلسلہ چلا ہے۔

کہ کھٹمل پریشان ہو گئے کہ ہمارو جو چرن فقط “محبت اہل بیت’ کے لیبل میں چلتا تھا نئے نوجوانوں نے ان کھٹمل کی مٹی پلید کر دی۔
اب تحقیقی
الزامی
اسنادی
حوالے سے حضرت معاویہ کی
شان
انکی عظمت
انکی فراغ دلی
انکی سیاست
اانکے جہاد
اور اسلام کو نئی فتوحات کے ساتھ بلندیوں پر لے جانے والے اس صحابی کی وہ خدمات سامنے آگئی ہے لوگوں کے
جو پہلے تھوڑی ماند پڑ گئئ تھی۔

پہلے دفسع حضرت معاویہ میں تھڑموڑے ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے کچھ لوگ
لیکن اب تو گرج برج کر دفاع کرنے کا جذبہ۔ پیدا ہو گیا ہے۔

مرزے اور کھٹمل کا وقت اب زیادہ نہیں رہا یہ مکمل ایکسپوز ہونے کے در پر ہے۔

آپ کچھ وقت کے لیے کچھ لوگوں کو بیو قوف بنا سکتے ہیں لیکن  ہمیشہ کے لیے نہیں۔

دعاگو اسد الطحاوی

http://www.asadaltahawi.com