تاج الفقہاء محدث حیدرآبادی
ایک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی ۔۔۔۔ حضرت شیخ الحدیث و التفسیر مولانا احمد میاں برکاتی بقضائے الٰہی رحلت کر گئے ۔۔۔۔۔ انَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ ۔۔۔۔ آپ رئیس الافتاء ، دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد سندھ تھے ۔۔۔ آپ بڑے علمی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے ۔۔۔ آپ کے والد گرامی حضرت شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی رحمہ اللہ کی گراں قدر خدمات عالمی افق پر معروف ہیں اور ان کی کتاب ۔۔۔ ہمارا اسلام ۔۔۔۔ عالمی شہرت کی حامل عظیم فقہی انسائیکلوپیڈیا ہے جو اختصار اور جامعیت کے حوالے سے اپنی نظیر خود ہے ۔۔۔ حضرت مولانا مفتی احمد میاں برکاتی کا پایہ تحقیق بہت مضبوط تھا ۔۔۔ انہوں نے متعدد کتابوں کے عربی زبان سے قومی زبان اردو میں تراجم کیے ۔۔۔ کئی کتابیں لکھیں ۔۔۔ ہزاروں طلباء کو علم دین پڑھایا ۔۔۔۔ ان کا دارالعلوم اور ہزاروں طلباء ان کی بہترین یادگار ہیں ۔۔۔۔ اللہ تعالی ان کی قبر کو روشن و کشادہ فرمائے اور ان کی خدمات عالیہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول عطا فرمائے
گرامی قدر ڈاکٹر مشاہد رضوی نے فوری طور پر ایک مضمون اپنی آئی ڈی سے اپلوڈ کیا ہے آپ بھی دیکھیں ۔۔۔۔
تاج الفقہاء محدث حیدرآبادی
مفتی احمد میاں برکاتی علیہ الرحمہ
(29 دسمبر 1951ء / 4 اپریل 2024ء)
قبلہ آغا جان مفتی اعظم سندھ و بلوچستان ،تاج الفقہاء، نقیب البرکات، الحاج الحافظ القاری علامہ مفتی احمد میاں برکاتی محدث حیدرآبادی کی پیدائش 29 ستمبر 1951ء، 27 ذوالحجہ 1370ھ میرپور خاص سندھ میں ہوئی ، آپ کا اسم گرامی غلام محی الدین خان لودھی عرف احمد میاں برکاتی ، کنیت : ابو حماد (تمام شاگرد مریدین اور خاندان کے سب بچے آپ کو ’’آغاجان ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں) ،
آپ احمد میاں برکاتی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ شاعری سے بھی رغبت ہے حافظ تخلص ہے۔ آپ کے والد مفتی اعظم پاکستان خلیل العلماء مفتی محمد خلیل خاں قادری برکاتی بانی مرکز اہلسنت ام المدارس دارالعلوم احسن البرکات ہیں ۔
والد گرامی مفتی محمد خلیل خاں سے دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد، میں حصول علم کا آغاز کیا ، نیز حفظ قرآن سے فراغت گیارہ سال کی عمر میں اسی مدرسے میں ہوئی ۔ 1966ء میں دارالعلوم امجدیہ کراچی میں داخلہ لیا اور حضرت علامہ محمدحسن حقانی علیہ الرحمۃ ، مفتی سید شجاعت علی قادری علیہ الرحمۃ، حضرت قاری مصلح الدین صدیقی قادری علیہ الرحمۃ ، حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ ﷲ علیہ اور ممتاز المحدثین حضرت علامہ عبد المصطفیٰ ازھری رحمۃ ﷲ علیہ سے کتب درسِ نظامی اور کتب حدیث پڑھیں ۔ دورۂ حدیث حضرت علامہ ازھری صاحب اور حضرت مفتی محمد وقار الدین صاحب علیھم الرحمۃ والرضوان سے کیا ۔
1973ء میں دارالعلوم امجدیہ کراچی سے سند فراغت عطا ہوئی ۔ 1974ء میں مفتی محمد خلیل خاں نے دارالعلوم احسن البرکات حیدرآبا د سے خصوصی طور پر سند حدیث اور سند قرآن عطا فرمائی ۔
مفتی صاحب کی قابلیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہےکہ 1982ء میں آپ واحد شخص تھے جو قاضی کے امتحان میں پاس ہوئے ۔ 1982ء میں لاہور سے قاضی کورس کا امتحان دیا ، جس میں کراچی سینٹر سے 55 علماے کرام نے شرکت کی اور صرف ایک (یعنی مفتی صاحب ) نے قاضی کورس کا امتحان پاس کیا ۔
تدریسی خدمات:
(۱)مدرس و نائب مفتی دارالعلوم امجدیہ کراچی 1974ء تا 1976ء ،
(۲)مدرس و ناظم تعلیمات و مفتی احسن البرکات ، حیدرآباد 1976ء تا 1985ء ،
(۳) شیخ الحدیث و پرنسپل و مفتی اعلیٰ دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد 1985ء تا دم حیات،
(۴)پرنسپل احسن البرکات اورینٹل کالج ، 1989ء تا دم حیات ،
(۵) پرنسپل جامعہ خلیلیہ برکاتیہ ، حیدرآباد، 1988ء تا دم حیات
بیعت و خلافت:
حضرت والد گرامی نے بچپن میں ہی پیر خانہ امام احمد رضا ، خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ (انڈیا) میں حضرت تاج العلماء اولاد رسول مفتی سید محمد میاں قادری برکاتی، سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کرایا تھا ۔ اس وقت عمر تقریباً ایک سال یا کم ہوگی ۔ 22جمادی الاخریٰ 1399ھ مطابق 1979ء حضرت تاج العلماء کے ۲۴ ویں سالانہ عرس کے موقع پر حیدرآباد میں علما ومشائخ کے اجتماع میں حضر ت والد گرامی نے سلسلہ قادریہ برکاتیہ اور چاروں سلاسل کی خلافت و اجازت سے نوازا اور تمام اعمال و اوراد جو انہیں حضرت ’’تاج العلماء ‘‘ اور’’ حضرت مفتی اعظم ہند حضرت مولانا محمد مصطفیٰ رضا خان ‘‘ رحمۃ ﷲ علیہما سے عطا ہوئے ، مرحمت فرمائے ۔ 3 مارچ 1986ء 21 جمادی الاخریٰ 1406ھ کو مرشد اعظم ہند احسن العلماء حضرت مولانا مفتی سید مصطفیٰ حیدرحسن میاں شاہ صاحب برکاتی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ نے جو پاکستان تشریف لائے تھے درگاہ حضرت سید سخی عبد الوہاب شاہ جیلانی علیہ الرحمۃ کے صحن میں ، خلیل العلماء ، حضرت مفتی محمد خلیل خاں برکاتی کے مزار مبارک کے پائنتی علماء و مشائخ کے اجتماع میں مارہرہ مطہرہ کے خصوصی وظائف کے ساتھ خلافت واجازت ، سلاسل اربعہ سے نوازا ۔ 28 جمادی الاولیٰ 1404ھ ، ۹ فروری 1986ء کو حضرت مفتی اختر رضا خاں قادری ازھری مدظلہ نے والد گرامی کے عطا کردہ خلافت نامہ پر ہدیہ تبریک رقم فرمایا ۔3 ربیع الآخر 1417ھ ، 18اگست 1996ء بروز پیر ، فقیہ الہند ، شارح بخاری ، ’’برکاتی مفتی ‘‘، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ دارالعلوم احسن البرکات تشریف لاکر مجمع علماء میں ، اپنی دستار اتار کر ،’’آغا جان‘‘کے سر پر باندھی اور بعدہ سلسلہ عالیہ رضویہ نوریہ مصطفویہ کے اوراد و ظائف اور النورو البھا ء کے سلاسل کی اجازت عطا فرمائی ۔
مفتی احمد میاں برکاتی صاحب کی تصنیفی و ادبی خدمات :
آپ نے تدریسی امور کے علاوہ تصنیفی خدمات انجام دیں جس میں تقریباآپ نے 25 کتب تحریر فرمائیں ۔ اور کچھ تصانیف زیر قلم ہیں ۔
(۱) اسلام اور عصری ایجادات(رسول ﷲ کی سچی خبریں) (عربی سے ترجمہ )۱۹۷۲ء میں مکمل کیا یہ ترجمہ قسط وار ماہنامہ ’’ترجمان اہلسنت‘‘ کراچی اور ماہ نامہ استقامت، کانپور میں مکمل شائع ہوا۔
(۲)ادب پارے (عربی ترجمہ )یہ رسالہ کراچی یونیورسٹی میں ایم ۔ اے عربی کے نصاب میں شامل ہے ۔
(۳)شرح منہاج العربیہ برائے بی ۔ اے
(۴)ملفوظات مشائخ مارہرہ ، علاوہ ازیں مختلف موضوعات پر تقریباً دس ۱۰ رسائل ترتیب دیے جو سب چھپ چکے ہیں
(۵)موت سے لحد تک
(۶)ثواب زیارت فاتحہ
(۷)نعتیہ دیوان ’’برکات محل ‘‘
(۸)رسول اور نائبین رسول ‘‘(شخصیات پر مشتمل ہے )
(۹)برکات حدیث ( چالیس سے زائد احادیث کی شرح اور ریڈیو کی تقاریر
(۱۰)تنویر برکات ، مضامین متفرق اور ریڈیائی تقاریر ،
(۱۱)تذکرہ سید حسن میاں ،
(۱۲) مفتی اعظم سندھ
(۱۳)میر اہلسنت علامہ سردار احمد علیہ الرحمۃ
(۱۴) شادی کے مسائل (زیر قلم
(۱۵)کندہ نقوش کے خواص ،
(۱۶) طب مصطفیٰ (زیرقلم )
(۱٧) حدائق برکات ،
(۱٨) تذکرہ مشائخ برکاتیہ
(١٩) ملفوظات مشائخ مارہرہ
دارالعلوم احسن البرکات میں درس نظامی کا آغاز 1955 ء میں ہوا اور 1965 ء میں دورۂ حدیث کا پروگرام طے ہوا، خلیل العلماء کے وصال کے بعد مفتی احمد میاں برکاتی صاحب کی سرپرستی میں آج تک جاری و ساری ہے۔ آپ 1985 سے اب تک ھزاروں فتوی تحریر و تصدیق فرما چکے ہیں۔ اب آپ کے فتاوی پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔
اس وقت آپ کے زیر سرپرستی 2200 سے زائد طلبہ و طالبات احسن البرکات اور اس کی متفرق شاخوں میں علم دین حاصل کررہے ہیں۔ آپ آج بھی ملکی و غیر ملکی سفر دین کی تبلیغ و اشاعت کیلئے فرماتے ہیں غیر ملکی دوروں میں آپ انڈیا ۔ بنگلہ دیش۔شام شریف ۔ عراق ۔ ماریشس و دیگر مقامات پر تشریف لے جاچکے ہیں جبکہ مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ 24 مرتبہ حاضر ہوچکے ہیں۔ آپ ملک پاکستان و ماریشس میں خصوصا سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ نوریہ رضویہ خلیلیہ کا کام فرمارہے ہیں آپ کے مریدین کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے ، اس کے علاوہ آپ نے 53 کے علماء و مشائخ کو سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ خلیلیہ کی خلافت و اجازت سے بھی نوازا ۔
والد گرامی خلیل العلماء کا علمی سرمایہ منظر عام پر لانے میں تگ و دو محنت کی ، اور سچے وارث ہونے کا پورا پورا حق ادا کیا ۔
آپ کے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہیں۔
1۔مفتی حماد رضا برکاتی ( آپ مفتی، عالم، حافظ، قاری ہیں۔ )
2۔انجینئر حسان رضا برکاتی ( آپ کمپیوٹر کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور پرائیوٹ جوب کرتے ہیں )۔
3 انجینئر نعمان رضا برکاتی ( آپ کمپیوٹر کے شعبہ سے وابستہ ہیں پرائیویٹ کمپنی میں برسر روز گار ہیں
4 ۔ علامہ جواد رضا برکاتی الشامی ( آپ عالم ، حافظ ، قاری ، نعت خواں ہیں اور تخصص بھی کررہے ہیں )۔
آپ کے داماد مولانا ڈاکٹر حافظ سید عطاء بخاری برکاتی (عالم ، حافظ، قاری، ہیں اور اس وقت کیڈٹ کالج گھوٹکی میں تدریس اسلامیات کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ نے حال ہی میں خلیل ملت کی شخصیت پر جامعہ سندھ جامشورو سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی )۔
مناصب:
* مہتمم و شیخ الحدیث و رئیس دارالافتاء دارالعلوم احسن البرکات حیدرآباد پاکستان۔
* سرپرست اعلی احسن البرکات کی متفرق 16 شاخیں۔
* پرنسپل ۔احسن البرکات اورینٹل کالج حیدرآباد ۔
* چیف ایگزیکٹو ۔برکاتیہ ماڈل اسکول حیدر آباد ۔
* سرپرست اعلی دائرہ برکات اسلامی انٹرنیشنل۔
* سرپرست اعلی دربار احسن البرکات ماریشس
* بزم رضا حیدرآباد ۔
* ممبر مرکزی مجلس شوری تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان۔
وفات :
دورِ حاضر میں آپ کا شمار اکابر علماے اہل سنت میں ہوتا ہے، آج 24 رمضان المبارک 1445ھ مطابق 4 اپریل 2024ء بروز جمعرات آپ کے صاحبزادے علامہ جواد رضا برکاتی الشامی نے یہ جاں کاہ خبر سنائی کہ آج قبلہ آغا جان اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے ، اناللہ واناالیہ رٰجعون!
آپ کی وفات دنیاے اہل سنت کا عظیم خسارہ ہے، اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور جملہ لواحقین، متوسلین ،معتقدین اور مریدین کو صبر جمیل عطا فرمائے ، آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم!
۔۔ ملک محبوب الرسول قادری
