تیرے بابے تے شئی ای کوئی نہیں ؟
تیرے بابے تے شئی ای کوئی نہیں ؟
امت محمدیہ کے صالحین و علماء کو یہ گالی نکالنے کا رواج ڈال کر دینِ اسلام کی کونسی بڑی خدمت کی ہے ؟
اللہ کریم نے اگر منصب دیا اور بڑی نعمتوں میں سے زبان کی نعمت عطا فرمائی اور بولنے کی وقت عطا کی ہے
تو کیا اس زبان سے امت مسلمہ اور صالحین کی آبرو ریزی کرینگے ؟
زبان شخصیت کی آئینہ دار ہوتا ہے برتن سے وہی چھلکتا ہے جو اس کے اندر موجود ہے
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم
ﷺ نے فرمایا
جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔
اگر ذرا برابر بھی شرم و حیا ہو کہ آخرت میں اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو پھر اہل اللہ پہ بدکلامی کے دروازے کھولنے سے انسان کو ڈرنا چاہیے انکی عزت و حرمت کو اس زبان سے پامال نہیں کرنا چاہیے
حضور مولی علی شیر خدا رضی اللہ تعالی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی ل ع ن ت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہو گی
( صحیح بخاری:
-(440
عام مسلمان کی حرمت کا یہ حال ہے تو مخصوص و متعین و مقبول بزگوں کی آبرو ریزی کرنا کتنا بڑا جرم ہے
انکئ تذلیل کرنا اور تضحیک کر کے اترانا اور ہنسنا ؟
اخلاف رکھنا اور بیان کرنا اس کے بھی کچھ آداب ہیں اور اصول ہیں لیکن بدزبانی اور بدکلامی اور امت محمدیہ کے بزرگوں کو گالی دیکر کونسا اختلاف کرتے ہیں ؟
نبی کریم ﷺ نے زبان کے استعمال کے بہت راہنمائی فرمائی اور اس گوشت کے اس ایک لوتھڑے کو سنبھالنے کا حکم ارشاد فرمایا
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز (زبان) اور اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرمگاہ) کی حفاظت کی ضمانت دیدے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں
زبان کی حفاظت اور شرمگاہ کی حفاظت پہ جنت عطا ہوتی ہے
اگر آپ نے شرمگاہ کی حفاظت تو کر لی مگر زبان کی ہی حفاظت نہ کر سکے اور اس سے عام مسلمان تو کیا جو امت محمدیہ کے مقبول لوگ ہیں ان پہ زبان درازی کرتے ہو لع ن و ط عن کے تیر پھینکتے رہے
تو پھر آپ میں اور ان میں جو شرم گاہ کی حفاظت نہیں کرتے کوئی فرق نہیں رہے گا آپکی زبان اور انکی شرمگاہ برابر ہو گی
جن بزرگوں کو صبح شام آپ نے پڑھنے کا ٹھیکہ لیا ہے اور کہتے ان کے نام پہ دکانداریاں ہیں انہی کے نام پہ آپ کی بھی دکانداری ہے
اور وجہ شہرت بھی فقط بزرگان دین کی عیب جوئی اور ان پہ سب و شتم کے علاوہ اگر کچھ اور ہے تو بیان کریں
ابن ماجہ شریف کی مشہور حدیث پاک ہے
حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ پاک اس کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے
اور عیوب پہ پردہ ڈالنے کا حکم مگر ان ہستیوں پہ وہ عیب داغتے ہو جو ان میں موجود نہیں تھے
جبکہ اللہ کریم نے فرمایا عیب تلاش کرنے سے ہی منع فرمایا ہے اور خرابی و ہلاکت بیان فرمائی انکی جو منہ پہ عیب لگائیں
یہ تحریر پہلی قسط کا پہلا حصہ ہے اور دعوت فکر ہے ان بھائیوں کے لیے جنہوں نے بے ادبی اور بے باکی کو بہادری و حق و دینی خدمت سمجھ لیا ہے
یہ اللہ اور اس کے پیارے حبیب کریم ﷺ کے احکامات اور شریعت کے آداب کی خلاف ورزی ہے بغاو ت ہے
اللہ کریم ہمیں دینِ متین کی صحیح معنوں میں سمجھ عطا فرمائے اور اس عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے
امین اللھم امین
✍🏻 دعاگو ! سید عقیل بن اسد قادری
11 – 04 – 2024
Bradford UK