حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں سے ایسی احادیث بیان کرو جن کو وہ سمجھ لیں کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے؟
علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ اس کے تحت لکھتے ہیں: اس سے حضرت علی کی مراد یہ ہے کہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو ، اس کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ جو چیز ان کے نزدیک غیر معروف ہو اس کو چھوڑ دو۔(نعمة الباری 1/483)

خطباء و واعظین کی طرف سے عوام الناس میں ایسی ایسی روایتیں بیان کردی جاتی ہیں جن کا کوئی منہ سر ہی نہیں ہوتا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نوجوان دین سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں ، اور مرزے انجینئر جیسے فتنے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں آج کے نوجوان کے دل و دماغ میں بہت سے سوال ہیں ، وہ اسلام پر چلنا چاہتا ہے لیکن رستہ آسان چاہتا ہے ۔لہذا آسان فہم گفتگو کریں ، نچوڑ بیان کریں مُستند بیان کریں ، تیاری کرکے بیان کریں ۔ مطالعہ بڑھائیں خود محنت کیا کریں ۔
ایک جگہ جمعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو امام صاحب سادہ لوح عوام کے سامنے بعض فقہی مسائل پر کلام فرمارہے تھے عوام کے سامنے ائمہ اربعہ کے اختلافات رکھ رہے تھے ، بعض دفعہ تو یہ بھی کہا: اس مسئلہ میں شیخین(امام محمد و امام ابو یوسف) کا امام اعظم سے اختلاف ہے اُن کا مذہب یہ ہے ۔
فلاں مسئلہ میں امام شافعی کا مذہب یہ ہے ۔
فلاں میں امام احمد کا یہ ہے
فلاں نے اس کو ترجیح دی ہے ۔
میرے ہاس ایک حدیث ہے اگر آپ ایسا بھی کرلیتے ہیں تو اس حدیث کی رو سے جائز ہے ایسے ہی خواہ مخواہ مولویوں نے سختی کررکھی ہے۔۔۔۔۔۔

عوام کی جانے بلا کہ ائمہ اربعہ کون ہیں
اگر وہ جان بھی لیں تو یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ان کا تو آپس میں ہی اختلاف ہے کوئی کچھ کہہ رہا ہے کوئی کچھ ۔۔۔لہذا وہ مسلک اہل سنت سے دور ہوکر غیر مقلدیت کے گڑھے میں جاگرے گا یا مرزے کی گود میں جابیٹھے گا اور پھر کہے گا کہ “بابے تے شے ای کوئی نئیں “

لہذا عوام اہل سنت پر مہربانی فرمائیں آپ پاکستان کے صوبے پنجاب میں بیٹھے ہیں ان کے آگے صرف فقہ حنفی بیان کریں اور بس روز مرہ کے پیش آنے والے مسائل ڈسکس کریں ۔ فقہ شافعی فقہ حنبلی و مالکی کے کون سا لوگ سامنے بیٹھے ہیں جو آپ ائمہ اربعہ کے اختلاف بیان کررہے ہیں ۔ہاں کوئی پوچھے یا ضرورت پڑنے پر ائمہ کی آراء بیان کردیں ۔ ورنہ کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
پہلے کے لوگ سادہ بھی تھے اور پکے بھی کیونکہ مولوی حضرات سادی اور سیدھی باتیں کرتے تھے ۔لوگوں کی عقلوں کے مطابق گفتگو کریں ۔ شعر و شاعری فضائل و مناقب کے ساتھ بزرگوں کی سیرت بھی بیان کریں ۔
آپ کو زیادہ علم تنگ کررہا ہے تو اسلام کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کریں ۔
ماں باپ ، بہن بھائیوں ،گھر والوں پڑوسیوں کے حقوق پر کلام کریں ۔ معاشرے کی اصلاح پر بات کریں ۔عاش و معاشرت پر بولیں لوگ شوق سے سُنیں گے بھی اور ان شاءالله یاد بھی رکھیں گے اور عمل بھی کریں گے ۔

باتیں تلخ لگی ہوں تو معذرت لیکن بعض خطباء کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سُن کر بڑا دکھ ہوتا ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی کا جدید دور ہے آپ نوجوانوں کو پہلے پکے مسلمان بنائیں پھر انہیں بزرگوں کی کرامتیں بھی سنائیں، یہ چپ چاپ سُنیں گے اور مذاق نہیں اڑائیں گے ۔

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری
26/4/24ء