تحریکِ پاکستان میں علمائے دیوبند کا کردار
*تحریکِ پاکستان میں علمائے دیو بند کا کردار* 👇
تحریک پاکستان میں بعض علمائے دیوبند کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اِ ن میں مولانا اشرف علی تھانوی(1943-1863ء)، مولانا شبیر احمد عثمانی(1949-1886ء) اورمفتی محمد شفیع(1976-1897ء) سر فہرست ہیں۔ دیگر علمائے دیوبند کی پاکستان مخالفت کے پیشِ نظر، اِن علما ئے دیوبند کی پاکستان کی حمایت، سیاسی نکتہ نگاہ سے غنیمت تھی۔ تاہم علماء دیوبند کی بھار ی اکثریت نے ہندوؤں کے شانہ بشانہ انڈ ین نیشنل کانگریس (قیام1885ء)،جمعیت علمائے ہند(قیام1919ء) اور دیگر تنظیموں کی چھتری تلے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی مخالفت میں بھر پور حصہ لیا۔ بقول ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ”دو چار علماء کے علاوہ دیوبندیوں کا باقی ماندہ حصہ تو ہندوؤں میں بالکل مدغم ہوچکا تھا“ (دو قومی نظریہ کے حامی علماء، صفحہ20)۔
دار العلوم دیوبند کے ممتاز عالم مولانا حسین احمد مدنی نے مسلم لیگ میں شرکت کو حرام کو قرار دیا(ڈاکٹر ایچ بی خان، تحریک پاکستان میں علماء کا سیاسی و علمی کردار، الحمد اکادمی کراچی، 1995ء صفحہ342)۔ دار العلوم دیوبند کو بحیثیت ادارہ پاکستان کی مخالفت میں بھر پور طور پر استعمال کیا گیا۔ بقول مفتی محمد شفیع ”دیوبند میں کانگریسی مزاج پختہ ہوتا چلا گیا“ (انٹر ویو مفتی محمد شفیع، اردو ڈائجسٹ لاہور، جولائی1968ء صفحہ28)۔
پاکستان مخالفت مہم میں اسلامی شعائر کی پامالی سمیت پاکستان، قائد اعظم اور اُن کے حامیوں کے بارے میں ایسے گندے اور نا زیبا الفاظ استعمال کیے گئے جو دین کے نام لیواؤں کے منصب کے یکسر منافی تھے۔ اس بے ہودہ فحش مہم میں علامہ شبیر احمد عثمانی کو بھی نہیں بخشا گیا(مکا لمتہ الصدرین)۔ علامہ شبیر احمد عثمانی بیان کرتے ہیں ”آج دارالعلوم نہ صرف ہنود کا مداح ہے بلکہ ان کے رنگ میں بہت کچھ رنگا جا چکا ہے“(حیات شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی، تالیف فیض الانبالوی و شفیق صدیقی، ادارہ پاکستان شناسی لاہور، 2002ء صفحہ59 بحوالہ دبدبہ سکندری5نومبر1945ء)۔
پاکستان کو پلیدستان، خاکستان، خونخوار سانپ، پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو سور کھانے والے، مسلم لیگ میں شرکت کو حرام اور قائد اعظم کو کافرِ اعظم قرار دیا گیا(تخلیق پاکستان میں علماء اہلسنت کا کردار، صفحہ102)۔ جماعت اسلامی کے مولانا سید ابو الاعلی مودودی جیسے سنجیدہ شخص نے مطالبہئ پاکستا ن کو بَکر ی کی بولی قرار دیا (سیاسی کشمکش حصہ سوم، صفحہ99)۔ جماعت اسلامی کے اپریل 1947ء کے اجلاس منعقدہ پٹنہ میں کانگریس کے ہندو راہ نما گاندھی جی دو خواتین کے ہمراہ بنفسِ نفیس شریک ہوئے اور اجلاس میں کی جانے والی تقریر پر مسرت کا اظہار کیا(رودادِ جماعت اسلامی حصّہ پنجم، شائع کردہ شعبہ نشرو اشاعت جماعت ِاسلامی، ملتان روڈ لاہور،1992ء صفحہ251)۔
مولانا اشرف علی تھانوی کے سوانح نگار پروفیسر احمد سعید لکھتے ہیں ”مسلمانوں نے مندروں میں جاکر دعائیں مانگیں۔ وید کو الہامی کتاب تسلیم کیا گیا۔ رامائن کی پوجا میں شرکت کی گئی۔ مسلمانوں نے اپنے ماتھے پر تلک لگائے۔ گنگا پر پھول اور بتاشے چڑھائے گئے۔ بار بار اس بات کا اعلان کیا جاتا کہ ”گاندھی مستحق نبوت تھا“ اور یہ کہا گیا کہ ”اگر نبوت ختم نہ ہوتی تو گاندھی نبی ہوتا۔ گائے کی قربانی موقوف کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں اور سب سے غضب یہ کیا کہ دہلی کی جا مع مسجد میں منبر رسول پر ایک متشدد اور متعصب ہندو شردھانند سے تقریر کروائی گئی“ ّ (پروفیسر احمد سعید، حصول ِ پاکستان، الفیصل تاجران کتب، لاہور، 1996ء صفحہ123)۔
ممتاز محقق اور قائد ِ اعظم اکیڈمی کے سابق ایکٹنگ ڈائریکٹر خواجہ رضی حیدر تحریک پاکستان میں ”دارالعلوم دیوبند“ کی عدم شرکت کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں ”8جون 1936ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مرکزی پارلیمنٹری بورڈ کے اجلاس لاہور میں ہوئے۔ ان اجلاسوں سے مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید نے بھی خطاب کیا اور انہوں نے کہا کہ دیوبند کا ادارہ اپنی تمام خدمات لیگ کے لیے پیش کردے گا بشرط یہ کہ پروپیگنڈہ کا خرچ لیگ برداشت کرے۔ اس کام کے لیے پچاس ہزار کی رقم بھی طلب کی گئی جو لیگ کی استعداد سے باہر تھی“ (خواجہ رضی حیدر، قائد اعظم کے 72سال، نفیس اکیڈمی کراچی،1986ء صفحہ303)۔ واقعہ کی تفصیل تحریک پاکستان کے ممتاز راہ نما اور قائد اعظم کے دستِ راست مرزا ابوالحسن اصفہانی(1981-1902ء) نے بھی اپنی کتاب “Quaid-e-azam as I knew him”، اردو ترجمہ بعنوان ”قائدِ اعظم جناح میری نظر میں“ مطبوعہ روٹا پرنٹ ایجنسی کراچی، 1968ء کے صفحہ30پر تحریر فرمائی۔
تحریک پاکستان کے طالب علم راہ نمااور کالم نویس ضیاء الاسلام زبیر ی تحریر کرتے ہیں ”سید عطا اللہ شاہ بخاری اور اس قسم کے دوسرے لوگ فنِ خطابت کے امام تھے۔ ہندو کانگریس نے ان کے فن ِ خطابت ہی کی وجہ سے ان کو بھاری قیمت کے عوض خرید رکھا تھا“(پر وفیسر ڈاکٹر جلال الدین احمد نوری، ”فاضل ِ بریلوی کا سیاسی کردار،صفحہ146، بحوالہ روزنامہ نوائے وقت26اگست1971ء)۔
دیوبند اور بریلوی مکتب فکر میں تحریک ِ پاکستان کے حوالے سے ایک واضح فرق یہ ہے کہ بریلوی مکتب ِ فکر کے علماء شروع سے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کرتے رہے۔ یہ وہ قافلہ تھا جس نے 1857ء میں پھانسی کے پھندوں اور خون کے نذرانوں سے تحریک آزادی کی بنیاد رکھی جبکہ تحریک پاکستان میں شریک بعض علمائے دیوبند آخری دنوں میں تحریک میں شریک ہوئے۔
ممتاز کانگریسی لیڈر ابو الکلام آزاد(1958-1888) نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب India Wins Freedomتحریر فرمائی۔ یہ کتاب ان کے انتقال (22فروری1958ء) کے بعد 1958ء میں ہی چھپی۔کتاب کے کچھ ابواب ان کی وصیت کے مطابق 30سال بعد1988ء میں اس کتاب کے نئے ایڈیشن میں شامل کیے گئے۔ ان ابواب میں آزاد لکھتے ہیں ”مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ کانگریس کی قوم پرستی ابھی اس سطح تک نہیں پہنچی تھی،جہاں یہ فرقہ واریت سے بالا تر اور اقلیت و اکثریت سے بے نیاز ہو کر محض اہلیت کی بنیاد پر اپنے لیڈروں کا انتخاب کرسکتی“(بحوالہ اعتراز احسن، سندھ ساگر اور قیام ِ پاکستان، دوست پبلی کیشنز اسلام آباد،1999صفحہ418)۔
غرض یہ کہ کسی دینی، سماجی اور سیاسی پلیٹ فارم پر پاکستان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکی اور پاکستان1947ء کے رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں معرض وجود میں آگیا۔
معین نوری