سلفی عالم اور میلاد رسول

سلفی علماء کے ایک معتبر عالم گزرے ماضی قریب کے جنکا جزائر سے تعلق تھا۔

الشیخ عبد الحميد بن باديس (1307-1358ھ)
یہ میلاد رسول مناتے تھے اور اسکی تلقین بھی کرتے تھے۔
علامہ ابن باز نے جب اس مسلہ پر انکا رد کیا تو ابکی تصنیف سے شیخ ابن بادیس کے جو دلائل نقل کیے وہ بہت متاثر کن  اور عاشقان مصطفی کے لیے بڑے نفیس ہیں

جیسا کہ علامہ ابن باز انکا فتوی نقل کرتے ہیں:
بسم اللّه الرّحمن الرّحيم، وعلى اسم الجزائر الرّاسخة في إسلامها، المتمسّكة بأمجاد قوميتها وتاريخها ـ أفتتح الذّكرى الأولى بعد الأربعمائة والألف من ذكريات مولد نبي الإنسانيّة ورسول الرّحمة سيّدنا ومولانا محمّد بن عبد اللّه عليه وعلى آله الصّلاة والسّلام ـ في هذا النّادي العظيم الّذي هو وديعة الأمّة الجزائريّة عند فضلاء هذه العاصمة ووجهائها. لسنا وحدنا في هذا الموقف الشّريف لإحياء هذه الذّكرى العظيمة، بل يشاركنا فيها نحو خمسمائة مليون من البشر في أقطار المعمور كلّهم تخفق أفئدتهم فرحا وسرورا وتخضع أرواحهم إجلالا وتعظيما لمولد سيّد العالمين«، ثمّ واصل كلامه قائلا :
» ما الدّاعي إلى إحياء هذه الذّكرى ؟ المحبّة في صاحبها..إنّ الشّيء يحبّ لحسنه أو لإحسانه وصاحب هذه الذّكرى قد جمع ـ على أكمل وجه ـ بينهما« ثمّ ازداد تمسّكا بهذه البدعة والاستدلال لها فقال : » فمن الحقّ والواجب أن يكون هذا النّبيّ الكريم أحبّ إلينا من أنفسنا وأموالنا ومن النّاس أجمعين ولو لم يقل لنا في حديثه الشّريف : “لا يؤمن أحدكم حتّى أكون أحبّ إليه من ولده ووالده والنّاس أجمعين”، وكم فينا من يحبّه هذه المحبّة ولم يسمع بهذا الحديث ؟ فهذه المحبّة تدعونا إلى تجديد ذكرى مولده في كلّ عام.. ما الغاية من تجديد هذه الذّكرى ؟ استثمار هذه المحبّة…

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، اور الجزائر کے نام پر جو اپنے اسلام میں مضبوط اور اپنی قومی عظمتوں اور تاریخ سے وابستہ ہے، میں ایک ہزار چار سو ایک سال بعد نبیٔ انسانیت اور رسولِ رحمت حضرت محمد بن عبد اللّٰہ ﷺ کی ولادت کی یاد کا آغاز کرتا ہوں ـ اس عظیم مجلس میں جو الجزائر کی قوم کی امانت ہے اور اس دارالحکومت کے معزز افراد کے حوالے ہے۔ ہم اس شاندار موقع پر اس عظیم یاد کو تازہ کرنے میں تنہا نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کے پانچ سو ملین افراد ہمارے ساتھ ہیں جن کے دل خوشی اور مسرت سے دھڑکتے ہیں اور جن کی روحیں نبیٔ عالمین کی ولادت کی عظمت کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

اس یاد کو تازہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ صاحبِ ولادت سے محبت۔ کوئی چیز اس کی خوبصورتی یا اس کے احسان کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے اور اس ولادت کے صاحب نے دونوں خوبیوں کو کامل انداز میں جمع کر لیا ہے۔ پھر انہوں نے اس بدعت کو اپنانے اور اس کے جواز کے دلائل کو مزید بڑھایا اور کہا یہ حق اور واجب ہے کہ یہ عظیم نبی ہم کو اپنی جانوں، مالوں اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہو، چاہے آپ ﷺ نے ہمیں یہ نہ بھی کہا ہوتا کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔’
اور ہم میں کتنے لوگ ہیں جو آپ سے اس محبت کا اظہار کرتے ہیں بغیر یہ حدیث سنے؟ یہی محبت ہمیں ہر سال آپ ﷺ کی ولادت کو یاد کرنے پر مجبور کرتی ہے… اس یاد کو تازہ کرنے کا مقصد کیا ہے؟ اس محبت کو عملی جامہ پہنانا…

پھر علامہ ابن باز اسکا رد اسی روایتی سلفی طریقے پر کرتے ہیں کہ  میلاد بدعت ہے اور ہر بدعت ضلال ہے تو یہ عمل ضلال ہے وغیرہ وغیرہ

[الرد الوافي على من زعم أن بن باديس]
التّحذير من البدع [للشيّخ العالم العلاّمة “عبد العزيز بن باز”]