أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الۡخَـآئِضِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور ہم لغو کاموں میں مشغول رہتے تھے۔

المدثر : ٤٥ میں فرمایا : اور ہم لغو کاموں میں مشغول رہتے تھے۔

لغو کاموں کی وضاحت

لغو کاموں سے مراد ایسے کام ہیں جن کا کوئی قابل ذکر نہ ہو، قرآن مجید کی اصطلاح میں لغو کاموں سے مراد ایسے کام ہیں جو شرعاً مذموم ہیں، اور ایسے اقوال اور افعال ہیں جو فی نفسہٖ باطل ہوں، شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان جو خلوت میں باتیں ہوتی ہیں اور جو امور عمل زوجیت سے متعلق ہوتے ہیں، اسی طرح اور بےشرمی کی باتیں بھی لغو باتوں میں داخل ہیں، قرآن مجید کی تفسیر اور احادیث کی شروح میں فلسفہ کی دور راز کار بحثیں کرنا اور قرآن اور حدیث کو یونانی فلسفہ کے مطابق کرنے کی کوشش کرنا بھی ہیں اس میں داخل ہیں، صحابہ کرام کی خانہ جنگیوں کا طویل ذکر کرنا اور کسی ایک فریق کی حمایت اور دوسرے کی مذمت کرنا بھی لغو کاموں میں داخل ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 45