بَلۡ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 52
sulemansubhani نے Wednesday، 11 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بَلۡ يُرِيۡدُ كُلُّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ اَنۡ يُّؤۡتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ۞
ترجمہ:
بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ کھلے ہوئے آسمانی صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں.
المدثر : ٥٢ میں فرمایا : بلکہ ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ کھلے ہوئے آسمانی صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں۔
مشرکین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا تھا کہ ہم میں سے کوئی شخص آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائے گا حتیٰ کہ ہم میں سے ہر شخص کے پاس آسمان سے ایک کتاب نہ آجائے اور اس میں یہ لکھا ہو کہ یہ رب العلمین کی جانب سے فلاں بن فلاں کے نام ہے اور اس میں یہ تحریر ہو کہ ہم تمہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کا حکم دیتے ہیں، اور اس کی نظیر قرآن مجید کی یہ آیت ہے :rnَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰـبًا نَّقْرَؤُہٗ (بنی اسرائیل : ٩٣)
ہم اس وقت تک ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہم آپ پر کوئی کتاب نازل نہ کریں جس کو ہم خود پڑھیں۔
ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ اگر ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صادق ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ ہم میں سے ہر شخص کو ایک صحیفہ لا کردیں، جس میں اس شخص کے نجات یافتہ ہونے کی تصریح ہو۔
ایک قول یہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہمیں یہ خبر پہنچتی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ہر شخص جب صبح کو اٹھتا تھا تو اس کی پیشانی پر اس کے گناہ اور اس کا کفارہ، لکھا ہوا ہوتا تھا، اگر ہمارے ساتھ بھی ایسا ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔
القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 52