فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 51
sulemansubhani نے Wednesday، 11 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ۞
ترجمہ:
جو شیر سے بھاگ رہے ہیں۔
المدثر : ٥١ میں ” قسورۃ “ کا لفظ ہے، اس کا اطلاق شیر پر کیا جاتا ہے ” قسر “ کا معنی قہر اور غلبہ ہے اور شیر دوسرے جنگلی جانوروں پر قہر اور غلبہ کرتا ہے، اس لیے اس کو ” قسورۃ “ کہا جاتا ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب جنگلی گدھا شیر کو دیکھ لیتا ہے تو بہت تیز بھاگتا ہے، اس طرح جب مشرکین سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھتے ہیں تو بھاگتے ہیں۔
” القسورۃ “ تیر اندازوں کی اس جماعت کو بھی کہتے ہیں جو شکار کے لیے نکلتی ہے، لوگوں کے ٹھہرنے اور ان کے شور وغل کو بھی کہتے ہیں اور رات کے اندھیرے کو بھی کہتے ہیں۔
علامہ زمخشری نے کہا ہے کہ مشرکین کو گدھوں سے جو تشبیہ دی اس میں ان کی حماقت پر متنبہ فرمایا ہے اور جب کوئی شخص کسی دشمن سے ڈر کر بھاگتا ہے تو اس کی واضح ترین مثال جنگلی گدھوں کا شیر سے ڈر کر بھاگنا ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 51