وہ ائمہ جنہوں نے میلاد پر رد کیا ہے انکے فتوے میں نقص
وہ ائمہ جنہوں نے میلاد پر رد کیا ہے انکے فتوے میں نقص!
علامہ تاج الدین فکھانی مالکی کا میلاد رسولﷺ کو بدعت ضلالہ کہنے پر انکا رد امام محمد بن يوسف الصالحي الشامي (المتوفى: 942هـ) کے قلم سے!
جنہوں نے بھی متاخرین میں میلاد کی مجالس اور ضیافت کو بدعت ضلالہ میں شمار کیا ہے اسکی دو وجوہات ہیں ۔
یا تو ان تک اس عمل کے حوالے سے صحیح اخبار نہیں پہنچی یعنی جہلاء کا عمل پہنچا جس میں غیر شرعی امور تھے۔ اور اس پر اہل علم کے فتوے سے یہ لوگ لا علم تھے۔
اور
انکا فقہی علم جزیات سے حوالے سے بہت کمزور تھا ۔ اب اسکو درج ذیل مثال سے سمجھاتے ہیں۔
امام محمد بن یوسف صالحی علامہ تاج الدین مالکی کا فتویٰ پہلے نقل کرتے ہیں:
وزعم الإمام العلامة تاج الدين الفاكهاني المالكي- رحمه الله تعالى- أن عمل المولد بدعة مذمومة وألّف في ذلك كتابا قال فيه: الحمد لله الذي هدانا لاتباع سيد المرسلين، وأيّدنا بالهداية إلى دعائم الدّين، ويسّر لنا إتباع آثار السلف الصالحين، حتى امتلأت قلوبنا بأنواع علم الشرع وقواطع الحق المبين، وطهّر سرائرنا من حدث الحوادث والابتداع في الدين. أحمده على ما من به من أنوار اليقين، وأشكره على ما أسداه من التمسك بالحبل المتين، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا صلى الله عليه وسلم عبده ورسوله سيد الأولين والآخرين. صلى الله عليه وعلى آله وأصحابه وأزواجه أمهات المؤمنين صلاة دائمة إلى يوم الدين.
أما بعد: فقد تكرر سؤال جماعة من المباركين عن الاجتماع الذي يعمله بعض الناس في شهر ربيع الأول ويسمونه المولد: هل له أصلٌ في الشرع أو هو بدعة حدثت في الدين؟
وقصدوا الجواب عن ذلك مبيّناً والأيضاًح عنه معيّناً. فقلت وبالله التوفيق: ما أعلم لهذا المولد أصلاً في كتاب ولا سنة، ولا ينقل عمله عن أحد من علماء الأمة، الذين هم القدوة في الدين المتمسّكون بآثار الصالحين المتقدمين، بل هو بدعة أحدثها البطّالون، وشهوة نفس اعتنى بها الأكّالون، بدليل أنا أدرنا عليه الأحكام الخمسة قلنا: إما أن يكون واجباً، أو مندوباً، أو مباحاً، أو مكروهاًَ أو محرّماً. وليس بواجب إجماعاً، ولا مندوباً، لأن حقيقة المندوب ما طلبه الشرع من غير ذمّ على تركه، وهذا لم يأذن فيه الشرع ولا فعله الصحابة ولا التابعون المتديّنون فيما علمت. وهذا جوابي عنه بين يدي الله تعالى إن عنه سئلت. ولا جائز أن يكون مباحاً لأن الابتداع في الدين ليس مباحاً بإجماع المسلمين، فلم يبق إلا أن يكون مكروهاً أو حراماً وحينئذ يكون الكلام فيه في فصلين والتفرقة بين حالين: أحدهما: أن يعمله رجل من عين ماله لأهله وأصحابه وعياله لا يجاوزون ذلك الاجتماع على أكل الطعام ولا يقترفون شيئاً من الآثام فهذا الذي وصفناه بأنه بدعة مكروهة وشناعة إذ لم يفعله أحد من متقدّمي أهل الطاعة الذين هم فقهاء الإسلام وعلماء الأنام سرج الأزمنة وزين الأمكنة.
والثاني: أن تدخله الجناية وتشتد به العناية حتى يعطي أحدهم الشيء ونفسه تتبعه وقلبه يؤلمه ويوجعه لما يجد من ألم الحيف، وقد قال العلماء رحمهم الله تعالى: أخذ المال بالحياء كأخذه بالسيف، لا سيّما إن انضاف إلى ذلك شيء من الغناء من البطون الملأى بآلات الباطل من الدّفوف والشّبّابات واجتماع الرجال مع الشباب المرد والنساء الغانيات إما مختلطات بهن أو متشرّفات والرقص بالتثنّي والانعطاف والاستغراق في اللهو ونسيان يوم المخاف، وكذلك النساء إذا اجتمعن على انفرادهن رافعات أصواتهن بالتّهنيك والتّطريب في الإنشاد والخروج في التلاوة والذكر المشروع والأمر المعتاد، غافلات عن قوله تعالى: إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصادِ وهذا الذي لا يختلف في تحريمه اثنان، ولا يستحسنه ذو المروءة الفتيان، وإنما يحلو ذلك بنفوس موتى القلوب وغير المستقيلين من الآثام والذنوب، وأزيدك أنهم يرونه من العبادات لا من الأمور المنكرات المحرّمات. فإنا لله وإنا إليه راجعون، بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ! ولله درّ شيخنا القشيري رحمه الله تعالى حيث يقول فيما أجازناه:
قد عرف المنكر واستنكر ال … معروف في أيّامنا الصّعبة
وصار أهل العلم في وهدةٍ … وصار أهل الجهل في رتبه
حادوا عن الحقّ فما للّذي … سادوا به فيما مضى نسبه
فقلت للأبرار أهل التّقى … والدّين لما اشتدّت الكربه
لا تنكروا أحوالكم قد أتت … نوبتكم في زمن الغربة!
ولقد أحسن الإمام أبو عمرو بن العلاء رحمه الله تعالى حيث يقول: لا يزال الناس بخير ما تعجّب من العجب!.
هذا مع أن الشهر الذي ولد فيه صلى الله عليه وسلم وهو ربيع الأول هو بعينه الشهر الذي توفي فيه، فليس الفرح بأولى من الحزن فيه. وهذا ما علينا أن نقول ومن الله تعالى نرجو حسن القبول.
هذا جميع ما أورده الفاكهاني- رحمه الله تعالى- في كتابه المذكور.
امام علامہ تاج الدین الفاکہانی المالکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا کہ میلاد کی محفل منانا ایک مذموم بدعت ہے اور اس موضوع پر انہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں کہا: “الحمد للہ جس نے ہمیں سید المرسلین کی پیروی کی ہدایت دی، اور ہمیں دین کے ستونوں کی طرف رہنمائی دی، اور ہمیں صالحین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دی، یہاں تک کہ ہمارے دل شرعی علوم اور حق کے واضح دلائل سے بھر گئے، اور ہمارے باطن کو بدعتوں اور دین میں نئے معاملات سے پاک کر دیا۔ میں اس پر شکر کرتا ہوں جس نے ہمیں یقین کی روشنیوں سے نوازا اور مضبوط رسی کو پکڑنے کی توفیق عطا کی۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جو اولین اور آخرین کے سردار ہیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ کی آل، صحابہ، ازواج مطہرات جو کہ مومنوں کی مائیں ہیں، پر ہمیشہ درود و سلام ہو۔
اما بعد: بعض مبارک لوگوں نے مجھ سے بارہا اس اجتماع کے بارے میں سوال کیا جو کچھ لوگ ربیع الاول کے مہینے میں مناتے ہیں اور اسے میلاد کا نام دیتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی شرعی اصل ہے یا یہ دین میں نئی ایجاد کردہ بدعت ہے؟ انہوں نے مجھ سے اس کا واضح اور مخصوص جواب مانگا۔ تو میں نے اللہ کی توفیق سے کہا: مجھے کتاب و سنت میں اس میلاد کا کوئی اصل نہیں معلوم، اور نہ ہی اس کے عمل کو کسی بھی امت کے علما سے منقول ہے، جو دین میں مقتدی اور صالحین کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔ بلکہ یہ ایک بدعت ہے جسے بے کار لوگوں نے ایجاد کیا، اور یہ نفس کی خواہش ہے جس پر نفع اٹھانے والے لوگوں نے توجہ دی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم اس پر شرعی احکام کے پانچ درجے نافذ کرتے ہیں، یعنی واجب، مستحب، مباح، مکروہ، یا حرام۔ یہ کسی بھی حال میں واجب نہیں ہے، اور نہ ہی مستحب ہے، کیونکہ مستحب وہ ہوتا ہے جس کا شریعت نے بغیر ملامت کے حکم دیا ہو۔ اور اس کا نہ تو شریعت میں حکم دیا گیا ہے، اور نہ ہی صحابہ اور تابعین میں سے کسی نے اسے کیا، جتنا مجھے علم ہے۔ یہ میرا جواب ہے، اور اگر اللہ کے سامنے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو یہی کہوں گا۔ اور یہ جائز نہیں کہ اسے مباح قرار دیا جائے، کیونکہ دین میں بدعت اجماع امت کے مطابق مباح نہیں ہے۔ لہذا اس کے مکروہ یا حرام ہونے کے بارے میں بات ہوگی۔
پہلی صورت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی ذاتی مال سے اپنے اہل و عیال اور احباب کے لیے اجتماع کرے، اور وہ صرف کھانا کھانے کے لیے جمع ہوں، اور کوئی گناہ نہ کریں، تو یہ ایک مکروہ بدعت ہے کیونکہ یہ دین کے فقہا اور علماء، جو زمانے کے چراغ اور جگہوں کی زینت تھے، میں سے کسی نے نہیں کیا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر اس میں ناجائز کام شامل ہوں، جیسے لوگوں سے زبردستی مال لینا، یا موسیقی اور غیر شرعی چیزیں شامل ہوں، تو یہ حرام ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ شرم کے ساتھ مال لینا تلوار کے زور پر مال لینے کی طرح ہے، خاص طور پر جب اس میں گانا بجانا اور نوجوان لڑکوں اور عورتوں کا اختلاط ہو، یا عورتوں کا علیحدہ ہو کر گانے گانا ہو، تو یہ بالکل حرام ہے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
مزید برآں، میلاد کی محفل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبادت میں شامل ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک ممنوع عمل ہے۔ بے شک اسلام غریب شروع ہوا تھا اور پھر غریب ہی لوٹ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے شیخ القشیری پر رحم فرمائے، انہوں نے کہا:
منکر کو پہچانا جانے لگا اور معروف کو ناپسند کیا گیا
ہمارے مشکل دنوں میں
علم والے ذلت میں پڑ گئے
اور جاہل لوگ مقام و مرتبے پر آ گئے۔
اس سب کے باوجود، جس مہینے میں نبی ﷺ پیدا ہوئے، اسی مہینے میں آپ ﷺ کا وصال بھی ہوا، تو خوشی منانے کا حق غم منانے سے زیادہ نہیں ہے۔ یہی ہمارا کہنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ہم اچھی قبولیت کی امید رکھتے ہیں۔”
یہ وہ تمام باتیں ہیں جو فاکہانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کی ہیں۔
اس اس فتوے میں جو فحش خطائیں ہیں اور بنیادی اصول سے ناواقفیت ہے علامہ تاج الدین مالکی کی اسکا رد کرتے ہوئے جواب دیتے ہیں:
وتعقبه الشيخ- رحمه الله تعالى- في فتاويه فقال: أمّا قوله: لا أعلم لهذا المولد أصلاً في كتاب ولا سنّة فيقال عليه: نفي العلم لا يلزم منه نفي الوجود، وقد استخرج له إمام الحفاظ أبو الفضل بن حجر أصلاً من السنة واستخرجت أنا له أصلاً ثانياً. قلت: وتقدم ذكرهما.
وقوله بل هو بدعة أحدثها البطّالون إلى قوله: «ولا العلماء المتدينون» يقال عليه: إنما أحدثه ملك عادل عالم وقصد به التقرب إلى الله تعالى، وحضر عنده فيه العلماء والصّلحاء من غير نكير منهم. وارتضاه ابن دحية- رحمه الله تعالى- وصنف له من أجله كتاباً، فهؤلاء علماء متديّنون رضوه وأقرّوه ولم ينكروه.
وقوله: «ولا مندوباً لأن حقيقة المندوب ما طلبه الشرع» يقال عليه: إن الطلب في المندوب تارةً يكون بالنصّ وتارة يكون بالقياس، وهذا وإن لم يرد فيه نص ففيه القياس على الأصلين الآتي ذكرهما.
وقوله: «ولا جائز أن يكون مباحاً لأن الابتداع في الدين ليس مباحاً بإجماع المسلمين» كلام غير مستقيم لأن البدعة لم تنحصر في الحرام والمكروه، بل قد تكون أيضاً مباحة ومندوبة وواجبة. قال النووي- رحمه الله تعالى- في «تهذيب الأسماء واللغات: البدعة في الشرع: هي ما لم يكن في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي منقسمة إلى حسنة وقبيحة» . وقال الشيخ عز الدين بن عبد السلام- رحمه الله تعالى- في القواعد: البدعة منقسمة إلى واجبة وإلى محرمة ومندوبة ومكروهة ومباحة. قال: والطريق في ذلك أن نعرض البدعة على قواعد الشّرع، فإذا دخلت في قواعد الإيجاب فهي واجبة، أو في قواعد التحريم فهي محرّمة، أو الندب فمندوبة، أو المكروه فمكروهة أو المباح فمباحة. وذكر لكل قسم من هذه الخمسة أمثلة منها: إحداث الرّبط والمدارس وكل إحسان لم يعهد في العصر الأول. ومنها التراويح والكلام في دقائق التصوّف وفي الجدل ومنها جمع المحافل للاستدلال في المسائل إن قصد بذلك وجه الله تعالى.
وروى البيهقي بإسناده في «مناقب الشافعي» عن الشافعي- رحمه الله تعالى- ورضي عنه قال: المحدثات من الأمور ضربان: أحدهما ما أحدث مما يخالف كتاباً أو سنة أو أثراً أو إجماعاً فهذه البدعة الضلالة والثاني: ما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا. وهذه محدثة غير مذمومة. وقد قال عمر- رضي الله تعالى عنه- في قيام شهر رمضان: نعمت البدعة هذه. يعني أنها محدثة لم تكن وإذا كانت ليس فيها ردّ لما مضى. هذا آخر كلام الشافعي.
فعرف بذلك منع قول الشيخ تاج الدين: «ولا جائز أن يكون مباحاً» إلى قوله: «وهذا الذي وصفناه بأنه بدعة مكروهة» الخ لأن هذا القسم مما أحدث وليس فيه مخالفة لكتاب ولا سنة ولا أثر ولا إجماع، فهي غير مذمومة كما في عبارة الشافعي وهو من الإحسان الذي، لم يعهد في العصر الأول، فإن إطعام الطعام الخالي من اقتراف الآثام إحسان، فهو من البدع المندوبة كما في عبارة ابن عبد السلام.
شیخ رحمہ اللہ نے اپنی فتاویٰ میں امام تاج الدین الفاکہانی رحمہ اللہ کے اعتراضات کا جواب دیا اور فرمایا: “جہاں انہوں نے کہا کہ میں اس میلاد کا کوئی اصل کتاب و سنت میں نہیں جانتا، تو اس پر کہا جاتا ہے کہ کسی چیز کا علم نہ ہونا اس کی موجودگی کی نفی نہیں کرتا۔ امام الحُفاظ ابو الفضل ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کے لیے سنت سے ایک اصل نکالا، اور میں نے بھی ایک دوسرا اصل نکالا ہے، اور پہلے ان دونوں کا ذکر ہو چکا ہے۔
جہاں انہوں نے کہا کہ ‘یہ ایک بدعت ہے جسے بے کار لوگوں نے ایجاد کیا’، اس پر کہا جاتا ہے کہ حقیقت میں یہ عمل ایک عادل بادشاہ نے شروع کیا تھا جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا تھا۔ اس میں علماء اور صالحین نے بھی شرکت کی اور کسی نے انکار نہیں کیا۔ ابن دحیہ رحمہ اللہ نے بھی اسے پسند کیا اور اس کے لیے ایک کتاب لکھی۔ پس یہ علماءِ دین تھے جنہوں نے اس عمل کو پسند کیا اور اسے تسلیم کیا۔
جہاں انہوں نے کہا کہ ‘یہ مستحب نہیں ہے کیونکہ مستحب وہ ہوتا ہے جس کا شریعت نے حکم دیا ہو’، اس پر کہا جاتا ہے کہ مستحب کا حکم کبھی نص سے ہوتا ہے اور کبھی قیاس سے۔ اور اگرچہ اس بارے میں نص موجود نہیں، لیکن اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ آئندہ ذکر ہونے والے دو اصولوں پر۔
جہاں انہوں نے کہا کہ ‘یہ مباح نہیں ہو سکتا کیونکہ دین میں بدعت اجماعِ امت کے مطابق مباح نہیں ہوتی’، یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ بدعت صرف حرام یا مکروہ نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات مباح، مستحب، اور واجب بھی ہوتی ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے ‘تهذيب الأسماء واللغات’ میں فرمایا ہے: ‘شرعی لحاظ سے بدعت وہ چیز ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہ تھی اور وہ اچھی اور بری میں تقسیم ہوتی ہے۔’ اور شیخ عز الدین بن عبد السلام رحمہ اللہ نے ‘القواعد’ میں کہا ہے: ‘بدعت واجب، حرام، مستحب، مکروہ، اور مباح میں تقسیم ہوتی ہے۔’ انہوں نے کہا کہ بدعت کو شرعی قواعد پر پیش کیا جائے، اگر وہ وجوب کے اصول میں داخل ہو تو وہ واجب ہوگی، یا اگر تحریم کے اصول میں ہو تو حرام ہوگی، یا استحباب کے اصول میں ہو تو مستحب، یا کراہت کے اصول میں ہو تو مکروہ اور اگر مباح کے اصول میں ہو تو مباح ہوگی۔ ہر ایک قسم کے لیے انہوں نے مثالیں دی ہیں، جیسے کہ مدارس اور رباط کی تعمیر اور دیگر بھلائی کے کام جو پہلے دور میں نہ تھے۔ اسی طرح تراویح کا قیام، تصوف کے دقیق مسائل پر بات چیت، اور دینی مسائل پر محافل منعقد کرنا، بشرطیکہ اس کا مقصد اللہ کی رضا ہو۔
امام بیہقی نے ‘مناقب الشافعی’ میں امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ ‘نئے کام دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو کتاب، سنت، اثر یا اجماع کے خلاف ہو، اور یہ بدعت ضلالہ ہے۔ دوسرا وہ جو خیر میں ہو اور اس میں کسی کا اختلاف نہ ہو، اور یہ قابل تعریف بدعت ہے۔’ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قیام کے بارے میں فرمایا: ‘یہ کتنی اچھی بدعت ہے’، یعنی یہ ایک نیا عمل تھا جو پہلے نہیں تھا، اور اگر اس میں پہلے کیے گئے کسی کام کی مخالفت نہ ہو تو یہ اچھی بدعت ہے۔ یہ امام شافعی کا آخری قول ہے۔
اس سے امام تاج الدین کے قول ‘یہ مباح نہیں ہو سکتا’ کا رد ہو گیا، اور جہاں انہوں نے کہا کہ ‘یہ مکروہ بدعت ہے’، اس کا جواب یہ ہے کہ اس عمل میں کوئی کتاب، سنت، اثر یا اجماع کی مخالفت نہیں ہے، اس لیے یہ مذموم نہیں ہے، جیسا کہ امام شافعی کی عبارت میں مذکور ہے، اور یہ ابتدائی دور میں نہ ہونے کے باوجود بھلائی کے کاموں میں سے ہے۔ جیسے کہ ابن عبد السلام کے مطابق یہ مستحب بدعت ہے۔”
مزید لکھتے ہیں:
وقوله: والثاني الخ هو كلام صحيح في نفسه غير أن التحريم فيه إنما جاء من قبل هذه الأشياء المحرّمة التي ضمت إليه، لا من حيث الاجتماع لإظهار شعار المولد، بل لو وقع مثل هذه الأمور في الاجتماع لصلاة الجمعة مثلاً لكانت قبيحة شنيعة، ولا يلزم من ذلك تحريم أصل الاجتماع لصلاة الجمعة وهو واضح. وقد رأينا بعض هذه الأمور يقع في ليال من رمضان عند اجتماع الناس لصلاة التراويح فلا تحرم التراويح لأجل هذه الأمور التي قرنت بها، كلا بل نقول: أصل الاجتماع لصلاة التراويح سنّة وقربة وما ضمّ إليها من هذه الأمور قبيحٌ شنيع.
وكذلك نقول: أصل الاجتماع لإظهار شعائر المولد مندوبٌ وقربة. وما ضمّ إليه من هذه الأمور مذموم وممنوع. وقوله مع «أن الشهر الذي وقع فيه» الخ. جوابه أن يقال: إن ولادته صلى الله عليه وسلم أعظم النعم علينا ووفاته أعظم المصائب لنا، والشريعة حثّت على أظهار شكر النعم والصبر والسّكون والكتم عند المصائب. وقد أمر الشرع بالعقيقة عند الولادة وهي إظهار شكر وفرح بالمولود ولم يأمر عند الموت بذبح ولا غيره، بل نهى عن النّياحة وإظهار الجزع، فدلّت قواعد الشريعة على أنه يحسن في هذا الشهر إظهار الفرح بولادته صلى الله عليه وسلم دون إظهار الحزن فيه بوفاته صلى الله عليه وسلّم وقد قال ابن رجب- رحمه الله تعالى- في كتاب «اللطائف» في ذمّ الرافضة حيث اتخذوا يوم عاشوراء مأتماً لأجل قتل الحسين- رضي الله تعالى عنه- لم يأمر الله تعالى ولا رسوله صلى الله عليه وسلم باتخاذ أيام مصائب الأنبياء وموتهم مأتماً فكيف بمن هو دونهم؟
جہاں تک دوسرا پہلو (اجتماع میں پائی جانے والی مذموم چیزیں) ہے، وہ اپنی جگہ درست ہے، مگر یہاں جو حرام کہا جا رہا ہے، وہ ان حرام چیزوں کی وجہ سے ہے جو اس اجتماع میں شامل کر دی گئی ہیں، نہ کہ مولد کے اجتماع کی اصل بنیاد پر۔ اگر ان ہی حرام چیزوں کا وقوع کسی اور اجتماع جیسے نماز جمعہ کے دوران ہو، تو وہ بھی قبیح اور مذموم ہوگا، لیکن اس سے نماز جمعہ کا اجتماع حرام نہیں ہوگا، اور یہ بات واضح ہے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ ایسے امور رمضان کی راتوں میں تراویح کے دوران بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں، مگر اس سے تراویح کی نماز حرام نہیں ہوتی بلکہ ہم کہتے ہیں کہ تراویح کا اجتماع سنت اور نیکی ہے، اور جو چیزیں اس میں شامل کر دی گئی ہیں وہ قبیح اور مذموم ہیں۔
اسی طرح ہم یہ کہتے ہیں کہ مولد کے شعائر کو ظاہر کرنے کے لیے اجتماع مندوب اور نیکی ہے، اور جو بری چیزیں اس میں شامل کر دی گئی ہیں وہ مذموم اور ممنوع ہیں۔
اور جہاں تک یہ کہا گیا ہے کہ “جس مہینے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اسی مہینے میں آپ کی ولادت ہوئی، تو خوشی کا اظہار غم پر مقدم کیوں؟” اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہمارے لیے سب سے بڑی نعمت ہے، اور آپ کی وفات سب سے بڑی مصیبت۔ شریعت نے ہمیں نعمتوں پر شکر اور مصیبتوں پر صبر کا حکم دیا ہے۔
شریعت نے ولادت کے وقت عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ شکر اور خوشی کا اظہار ہو، جبکہ وفات کے وقت نہ تو کسی جانور کی قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ کسی اور چیز کا، بلکہ نیاش اور ماتم سے منع کیا ہے۔ اس سے شریعت کے اصول واضح ہوتے ہیں کہ اس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانا بہتر ہے نہ کہ وفات پر غم کا اظہار کرنا۔
ابن رجب رحمہ اللہ نے “کتاب اللطائف” میں روافض کی مذمت کی ہے، کیونکہ وہ عاشوراء کے دن کو امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے ماتم کا دن بنا لیتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کی وفات کے دن کو ماتم منانے کا حکم نہیں دیا، تو پھر کسی اور کے لیے کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
اور پھر امام محمد بن یوسف صالحی نے جید علمائے وقت سے محفل میلاد کی تائید میں فتاوے نقل کیے ۔
وقال الشيخ الإمام جمال الدين بن عبد الرحمن بن عبد الملك الشهير (3) بالمخلّص الكتاني- رحمه الله تعالى- مولد رسول الله صلى الله عليه وسلم مبجّل مكرّم، قدّس يوم ولادته وشرّف وعظم، وكان وجوده صلى الله عليه وسلم مبدأ سبب النجاة لمن اتبعه وتقليل حظّ جهنم لمن أعدّ لها لفرحه بولادته صلى الله عليه وسلم وتمّت بركاته على من اهتدى به، فشابه هذا اليوم يوم الجمعة من حيث أن يوم الجمعة لا تسعّر فيه جهنم، هكذا ورد عنه صلى الله عليه وسلم فمن المناسب إظهار السرور وإنفاق الميسور وإجابة من دعاه ربّ الوليمة للحضور.
وقال الإمام العلامة ظهير الدين جعفر التزمنتيّ- رحمه الله تعالى-: هذا الفعل لم يقع في الصّدر الأول من السلف الصالح مع تعظيمهم وحبهم له إعظاماً ومحبةً لا يبلغ جمعنا الواحد منهم ولا ذرّة منه، وهي بدعة حسنة إذا قصد فاعلها جمع الصالحين والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم وإطعام الطعام للفقراء والمساكين، وهذا القدر يثاب عليه بهذا الشرط في كل وقت، وأما جمع الرعاع وعمل السّماع والرقص وخلع الثياب على القوّال بمروديّته وحسن صوته فلا يندب بل يقارب أن يذمّ، ولا خير فيما لم يعمله السلف الصالح، فقد
قال صلى الله عليه وسلم: «لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها» .
وقال الشيخ نصير الدين أيضاً: ليس هذا من السّنن، ولكن إذا أنفق في هذا اليوم وأظهر السرور فرحاً بدخول النبي صلى الله عليه وسلم في الوجود واتخذ السماع الخالي عن اجتماع المردان وإنشاد ما يثير نار الشهوة من العشقيات والمشوّقات للشهوات الدنيويّة كالقدّ والخدّ والعين والحاجب، وإنشاد ما يشوّق إلى الآخرة ويزهد في الدنيا فهذا اجتماع حسن يثاب قاصد ذلك وفاعله عليه، إلا أن سؤال الناس ما في أيديهم بذلك فقط بدون ضرورة وحاجة سؤالٌ مكروه، واجتماع الصّلحاء فقط ليأكلوا ذلك الطعام ويذكروا الله تعالى ويصلّوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم يضاعف لهم القربات والمثوبات.
وقال الإمام الحافظ أبو محمد عبد الرحمن بن إسماعيل المعروف بأبي شامة في كتابه: «الباعث على إنكار البدع والحوادث» قال الربيع: قال الشافعي- رحمه الله تعالى ورضي عنه-: المحدثات من الأمور ضربان: أحدهما ما أحدث مما يخالف كتاباً أو سنة أو أثراً أو إجماعاً، فهذه البدعة الضلالة. والثانية: ما أحدث من الخير مما لا خلاف فيه لواحد من هذا فهي محدثة غير مذمومة، وقد قال عمر- رضي الله تعالى عنه- في قيام رمضان نعمت البدعة هذه. يعني أنها محدثة لم تكن. وإذا كانت فليس فيها ردّ لما مضى. قال الشيخ الإمام العلامة صدر الدين موهوب بن عمر الجزري [ (2) ] الشافعي رحمه الله تعالى: هذه بدعة لا بأس بها ولا تكره البدع إلا إذا راغمت السّنة، وأما إذا لم تراغمها فلا تكره، ويثاب الإنسان بحسب قصده في إظهار السرور والفرح بمولد النبي صلى الله عليه وسلم.
وقال في موضع آخر: هذا بدعة، ولكنها بدعة لا بأس بها، ولكن لا يجوز له أن يسأل الناس بل إن كان يعلم أو يغلب على ظنه أن نفس المسؤول تطيب بما يعطيه فالسؤال لذلك مباح أرجو أن لا ينتهي إلى الكراهة.
وقال الحافظ- رحمه الله تعالى-: أصل عمل المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة، ولكنها مع ذلك قد اشتملت على محاسن وضدّها، فمن تحرّى في عمله المحاسن وتجنّب ضدّها كان بدعة حسنة ومن لا فلا. قال: وقد ظهر لي تخريجها على أصل ثابت، وهو ما
ثبت في الصحيحين من أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة فوجد اليهود يصومون عاشوراء فسألهم فقالوا: هذا يومٌ أغرق الله فيه فرعون وأنجى فيه موسى فنحن نصومه شكرا لله تعالى. فقال: «أنا أحق بموسى منكم. فصامه وأمر بصيامه» .
وقال شيخ القراء الحافظ أبو الخير ابن الجزري [ (1) ] رحمه الله تعالى: قد رئي أبو لهب بعد موته في النوم فقيل له: ما حالك؟ فقال: في النار إلا أنه يخفّف عني كل ليلة اثنين وأمصّ من بين إصبعيّ هاتين ماءً بقدر هذا- وأشار لرأسي إصبعيه- وإن ذلك بإعتاقي لثويبة عند ما بشّرتني بولادة محمد صلى الله عليه وسلم وبإرضاعها له. فإذا كان أبو لهب الكافر الذي نزل القرآن بذمّه جوزي في النار لفرحه ليلة مولد محمد صلى الله عليه وسلّم فما حال المسلم الموحّد من أمة محمد صلّى الله عليه وسلم ببشره بمولده وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته؟ لعمري إنما يكون جزاؤه من الله الكريم أن يدخله بفضله جنة النعيم.
شیخ امام جمال الدین بن عبد الرحمن بن عبد الملک المعروف بالمخلص الکتانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد مبارک ہے اور محترم و مکرم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن مقدس اور محترم قرار دیا گیا ہے، اور اس دن کی عظمت کو بڑھایا گیا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش دنیا کے لیے نجات کا ذریعہ بنی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں جهنم کا عذاب بھی کم کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات ہر اس شخص پر مکمل ہوئیں جو آپ کی پیروی کرتا ہے، اور یہ دن جمعہ کے دن کے مشابہ ہے، جس دن جهنم نہیں جلائی جاتی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ لہٰذا، اس دن خوشی ظاہر کرنا، حسب استطاعت خرچ کرنا اور دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا مناسب ہے۔”
امام علامہ ظہیر الدین جعفر التزمنتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “یہ عمل (میلاد کا انعقاد) صحابہ کرام کے دور میں نہیں ہوا، حالانکہ ان کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور تعظیم بے مثال تھی، جو ہم میں سے کسی کا ان سے موازنہ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ‘بدعتِ حسنہ’ ہے، بشرطیکہ اس کا مقصد صالحین کو جمع کرنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا، اور فقراء و مساکین کو کھانا کھلانا ہو۔ یہ عمل اس شرط کے ساتھ ہر وقت باعث اجر ہے۔ تاہم، عام لوگوں کو جمع کرنا، سماع، رقص اور گانے والوں کے سامنے انعامات کی تقسیم، یہ سب ناقابل تعریف ہیں۔ اس لیے جو چیز سلف صالحین نے نہیں کی، اس میں خیر نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘اس امت کے آخری حصے کی اصلاح اسی طریقے سے ہو گی جس سے اس کے ابتدائی حصے کی اصلاح ہوئی تھی’۔”
شیخ نصیر الدین بھی فرماتے ہیں: “یہ سنت میں سے نہیں ہے، لیکن اگر اس دن خوشی کے اظہار کے لیے خرچ کیا جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر خوشی منائی جائے، اور سماع بغیر کسی غیر شرعی چیزوں کے ہو، تو یہ ایک حسن اجتماع ہے اور اس کا قصد کرنے والا اجر پائے گا۔”
امام ابو شامة رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الباعث علی إنکار البدع والحوادث میں فرمایا: “امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ‘محدثات دو قسم کی ہوتی ہیں؛ ایک وہ جو کتاب، سنت یا اجماع کی مخالفت کرتی ہے، وہ بدعت ضلالہ ہے۔ دوسری وہ جو خیر پر مبنی ہے اور اس میں کوئی مخالفت نہیں، وہ بدعت غیر مذمومہ ہے’۔”
علامہ صدر الدین الجزری الشافعی رحمہ اللہ نے کہا: “یہ ایک بدعت ہے، لیکن ایسی بدعت ہے جس میں کوئی قباحت نہیں، اور انسان کا نیت کے مطابق اجر ملتا ہے، خاص طور پر میلاد کی خوشی میں۔”
امام حافظ ابو محمد عبد الرحمن بن اسماعیل ابو شامة فرماتے ہیں: “اصل میں میلاد کا عمل بدعت ہے، کیونکہ یہ سلف صالحین سے منقول نہیں، لیکن اس میں اچھائیاں اور برائیاں دونوں پائی جاتی ہیں۔ جس نے اچھائی کو اختیار کیا اور برائی سے بچا، اس کا عمل ایک اچھی بدعت ہو گا۔”
شیخ القراء حافظ ابو الخیر ابن الجزری رحمہ اللہ نے کہا: “ابو لہب کو خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا: تمہاری کیا حالت ہے؟ اس نے جواب دیا: میں جہنم میں ہوں، لیکن ہر پیر کی رات میرا عذاب کم کر دیا جاتا ہے اور میں اپنی انگلیوں کے درمیان سے پانی چوستا ہوں، کیونکہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جس نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشخبری سنائی تھی اور اس نے انہیں دودھ پلایا تھا۔”
لہٰذا، اگر ابو لہب جیسے کافر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں عذاب میں تخفیف ملتی ہے، تو ایک مسلمان جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی مناتا ہے اور اپنی طاقت کے مطابق اس محبت میں خرچ کرتا ہے، اس کا اجر کیا ہو گا؟ بلاشبہ، اللہ کے فضل سے اس کا اجر جنت ہو گا۔
[ سبل الهدى والرشاد، في سيرة خير العباد، الشامي (المتوفى: 942هـ)]
جبکہ ہم سابقہ تحاریر سے ثابت کر چکے کہ میلاد منانے کا عمل تو
پانچویں صدی ہجری سے شروع تھا ۔
جیسا کہ امام محمد ملا نے یہ عمل کیا بقول امام ابو شامہ کے
اور
اندلس میں امام ابو عباس نے اس کو منانے کا احتمام کروایا جو کہ چوتھی صدی کے اختتام میں پیدا ہوئے تھے۔
اور عرب میں شاہ ملک مظفر نے احتمام کیا ۔
اور سینکڑوں محدثین نے اسکی تائید میں کتب تصنیف کی ہیں۔
لہذا اس عمل میلاد پر چند ایک گنتی کے علماء کے شاذ فتوے کی کوئی وقعت نہیں۔
جبکہ انکے سامنے خیر القرون کے مجتہد امام شافعی کھڑے ہینَ
تحریر: اسد الطحاوی