كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 20
sulemansubhani نے Monday، 23 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ ۞
ترجمہ:
ہرگز نہیں ! بلکہ تم جلد ملنے والی چیز سے محبت رکھتے ہو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہرگز نہیں ! بلکہ تم جلد ملنے والی چیز سے محبت رکھتے ہو۔ اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ اس دن بہت چہرے تر و تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔ اور بہت چہرے مر جھائے ہوئے ہوں گے۔ وہ یہ گمان کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا۔ ( القیامہ : ٢٥۔ ٢٠ )
القیامہ : ٢١۔ ٢٠ میں کفار مکہ سے خطاب ہے اور جلد ملنے والی چیز سے مراد، دنیا اور اس کی زیب وزینت ہے، اس آیت میں کفار کی دنیا سے محبت کرنے پر مذمب کی ہے اور ان کو اس لیے زجر و توبیخ کی ہے تاکہ وہ اپنی اس روش سے باز آجائیں، اور آخرت سے مراد جنت ہے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو تبلیغ فرما لیتے تھے اور آخرت میں دوزخ کے عذاب سے ڈراتے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ کی توحید اور میری رسالت پر ایمان لے آئو اور نیک کام کرو اور برے کام چھوڑ دو نہ تم صرف عذاب نار سے محفوظ رہو گے بلکہ جنت اور آخرت کی دیگر دائمی نعمتوں کے مستحق ہو جائو گے لیکن وہ شرک اور کفر اور دنیا کے عارضی مفاد کی خاطر جنت اور آخرت کی دیگر دائمی نعمتوں کو چھوڑ دیتے تھے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 20