اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 36
sulemansubhani نے Wednesday، 25 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَيَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ يُّتۡرَكَ سُدًىؕ ۞
ترجمہ:
کیا انسان نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انسان نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اس کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ کیا وہ حقیر پانی کا قطرہ نہ تھا جس کو ٹپکا جاتا ہے ؟۔ پھر وہ خون کا لوتھڑا ہوا پھر ( اللہ نے) اس کو پیدا فرمایا پھر اس کو درست بنایا۔ پھر اس سے دو جوڑے بنائے مرد اور عورت۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ؟ (القیامہ : ٤٠۔ ٣٦)
انسان کو عبث پیدا نہ فرمانا اور اس کے ضمن میں وقوع قیامت کی دلل
القیامہ : ٣٦ میں ” سدی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : مہمل، یعنی کیا انسان نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اس کو مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ اس کو نہ کسی کا حکم دیا جائے گا نہ کسی کام سے منع کیا جائے گا، نہ اس کو دنیا میں مکلف کیا جائے نہ آخرت میں اس سے اس کا اعمال کا حساب لیا جائے گا۔
اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : کیا انسان کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو ہرگز جمع نہیں کریں گے ؟ ( القیامہ : ٣) اور اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع اور انسان کے دوبارہ زندہ کیے جانے پر دو دلیلیں قائم فرمائیں، ان میں سے ایک دلیل یہ آیت ہے اور اس کی تقریر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں تصرف کرنے کے لیے اعصاب اور آلات دیئے ہیں اور صحیح اور غلط کا ادراک کرنے کے لیے عقل عطاء کی ہے، اب اگر اس نے انسان کو اپنی اطاعت اور عبادت کے حکم کا مکلف نہیں کیا اور اس کو برے کاموں سے باز رہنے کا مکلف نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی اطاعت اور عبادت نہ کرنے اور برے کاموں کے کرنے سے راضی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے، اس لیے ضروی ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکام کا مکلف مانا جائے، پھر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والوں اور نافرمانی کرنے والوں کے درمیان فرق ظاہر کرنے کے لیے قیامت کا قائم کرنا ضروری ہے تاکہ قیامت کے بعد حشر کے دن اطاعت گزاروں کو جزا دی جائے اور نافرمانوں کو سزا دی جائے۔
اور دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء سازی کائنات کو پیدا فرمایا ہے تو دوسری بار اسی کائنات کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کب مشکل ہے، جب کہ اس کو ہر چیز کا علم ہے، وہ جانتا ہے کہ انسان کے مرنے اور اس کے جسم کو بوسیدہ ہونے کے بعد اس کے جسم کے مختلف اور منتشر ذرات کہاں کہاں ہیں اور وہ ان ذرات کو جمع کرکے ان سے اسی جیسا انسان کھڑا کرنے پر قادر ہے اور اس دلیل کی طرف اشارہ اس سے اگلی آیت میں کیا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 36