وَقِيۡلَ مَن ۜ رَاقٍۙ – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 27
sulemansubhani نے Wednesday، 25 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَقِيۡلَ مَن ۜ رَاقٍۙ ۞
ترجمہ:
اور کہا جائے گا : کوئی دم کرنے والا ہے ؟
القیامہ : ٢٧ میں فرمایا : اور کہا جائے گا : کوئی دم کرنے والا ہے ؟۔
” راق “ کا معنی
اس آیت میں ” راق “ کا لفظ ہے، اس کے دو معنی ہیں : ایک یہ کہ یہ ” راقیۃ “ کا اسم فاعل ہے، یعنی دم کرنے والا، کچھ کلمات پڑھ کر پھونک مارنے والا، اور اس کا دوسرا معنی ہے : یہ ” رقیی “ کا اسم فاعل ہے، اس کا معنی ہے : اوپر چڑھنے والا، قرآن مجید میں ہے :
اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَآئِط وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰـبًا نَّقْرَؤُہٗ (بنی اسرائیل : ٩٣)
(کفار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا :) یا آپ آسمان میں چڑھ جائیں اور ہم تو آپ کے چڑھنے کا بھی اس وقت تک ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک آپ ہم پر کوئی کتاب نازل نہ کریں جس کو ہم خود پڑھ لیں۔
اگر ” راق “ سے مراد دم کرنے والا ہو تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب موت انسان کے گلے تک پہنچ جائے تو وہ انسان خود یا اس کے رشتہ دار اس کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی طبیب یا دم کرنے والے اور جھاڑ پھونک کرنے والے کو طلب کرتے ہیں۔
اور اگر ” راق “ کا معنی اوپر چڑھنے والا ہو تو اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اس کافر کی روح کو اوپر لے جائیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : فرشتے کافر کے قرب کو ناپسند کرتے ہیں تو ملک الموت فرشتوں سے کہیں گے : تم میں سے کون اس کی روح کو لے کر اوپر چڑھے گا ؟ الکلبی نے کہا : بندہ کی موت کے وقت رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جمع ہوتے ہیں اور جب بندہ کی روح اس کے گلے کی ہڈی تک پہنچ جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں : اس کی روح کو کون اوپر لے جائے گا ؟
القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 27