وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُۙ – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 28
sulemansubhani نے Wednesday، 25 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّظَنَّ اَنَّهُ الۡفِرَاقُۙ ۞
ترجمہ:
اور وہ گمان کرے گا کہ یہ جدائی کی ساعت ہے.
القیامہ : ٢٨ میں فرمایا : اور وہ گمان کرے گا کہ یہ جدائی کی ساعت ہے۔
اس آیت میں ” ظن “ کا لفظ ہے جس کا معنی ہے : گمان اور بسا اوقات ظن کا لفظ یقین کے معنی میں ہوتا ہے اور اس آیت میں بھی ظن کا لفظ یقین کے معنی میں ہے، یعنی جب تک انسان کی روح اس کے بدن کے ساتھ متعلق رہتی ہے تو وہ دنیا سے شدید محبت کی وجہ سے دنیا کی زندگی سے محبت کرتا رہتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
کَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَۃَ ۔ (القیامہ : ٢٠) ہرگز نہیں ! بلکہ تم جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہو۔
اور انسان کی امید دنیا سے منقطع نہیں ہوتی تاوقتیکہ اس کی روح اس کے گلے تک نہ پہنچ جائے، پھر اس کو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے والا ہے۔
امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح ایسا جوہر ہے جو قائم بنفسہ ہے اور بدن کی موت کے بعد باقی رہتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روح کے فراق اور اس کی جدائی کو موت فرمایا ہے اور روح کی صفت باقی رہنا ہے اور صفت اپنے موصوف کے وجود کا تقاضا کرتی ہے۔