پیر معروف حسین شاہ رحمہ اللہ اور ان کے نمک حرام
پیر معروف حسین شاہ رحمہ اللہ اور ان کے نمک حرام
افتخار الحسن رضوی
حال ہی میں پیر سید معروف حسین شاہ نوشاہی رحمہ اللہ کا بریڈفورڈ ، برطانیہ میں انتقال ہوا۔ یہ وہ پہلے پاکستانی (کشمیری) سُنی تھے جنہوں نے برطانیہ میں بریلوی فکر والے مسلمانوں کو منظم کیا اور انہیں برطانیہ میں ایک آواز بخشی۔ وہ ۱۹۶۰ کے آس پاس برطانیہ پہنچے، محنت مزدوری کی اور فیکٹریوں میں کام کرتے کرتے مساجد و مدارس کا انتظام کیا۔ وہ دن بھر محنت کرتے، راتوں میں خدمت خلق، مساجد و مدارس کا انتظام اور وعظ و نصیحت کرتے۔ وہ نوشاہی سلسلہ سے تھے لیکن شیخ الاسلام مولانا احمد رضا خان رحمہ اللہ کی فکر کا عملی نمونہ تھے۔ وہ فرد و مرد شناس تھے، انہوں نے ہند و پاک سے سینکڑوں علماء و خطباء اور واعظین کو برطانیہ تک پہنچایا۔ ان کی دعوت و مدد سے برطانیہ پہنچنے والوں میں قائد ملت مولانا شاہ احمد نورانی، زینتِ قرطاس و قلم مولانا ارشد القادری، مولانا قمر الزمان خان اعظمی سمیت درجنوں جید بزرگ شامل ہیں۔ سید محمد عرفان شاہ مشہدی بھی ان ہی کی مسجد میں اب تک خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔
پیر صاحب کی شخصیت کا یہ خاصہ و طرہ امتیاز تھا کہ انہوں نے کسی بھی عالم کے سلسلہ طریقت و انداز فکر سے اختلاف کیے بغیر اس کی علمی و فنی صلاحیت کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سلاسل کے علماء ان کے حلقے میں شامل رہے۔ شاید آپ نہ جانتے ہوں کہ آج آپ جس فتاوٰی رضویہ کا سہارا لیتے ہیں اس کے ابتدائی ایڈیشن، طباعت و ترتیب میں پیر صاحب رحمہ اللہ ہی کی مالی مدد شامل تھی اور وہ ایک خطیر رقم تھی۔ مفتی عبد القیوم ہزاروی، سید احمد سعید شاہ کاظمی، علامہ غلام رسول سعیدی ، آستانہ عالیہ محدثِ اعظم پاکستان، اشرفی و برکاتی مشائخ، رضوی علماء سمیت متعدد بڑے نام ان کے حلقہ احباب میں شامل رہے۔ ان بزرگوں نے اپنے دینی کام حضرت پیر صاحب کی مدد سے آگے بڑھائے، کلی یا جزوی طور پر ان کی تصنیفات، تحقیقات اور تبلیغی سرگرمیوں میں پیر صاحب رحمہ اللہ کی مدد شامل رہی۔
پیر معروف شاہ رحمہ اللہ امام احمد رضا کی فکر پر اس قدر سختی سے پابند تھی کی رفض و تفضیل کی ہلکی سی بو بھی اپنے آس پاس برداشت نہ کرتے اور یوں ہی خارجی و ناصبی فکر اور استدلال کا رد بھی کرتے رہے۔ پیر صاحب اپنی نجی مجالس میں کئی بار کہا کرتے کہ جس پر نیکی کرو اس کے شر سے بچو۔ یہ ان کا دردِ دل تھا۔ کئی علماء و مشائخ ایسے تھے جنہوں نے انہیں کی مدد سے برطانوی ویزے حاصل کیے، بعد میں انہی کے مقابل آ کھڑے ہوئے اور کردار کشی تک کرنے لگے۔ الکاسب حبیب اللہ کے مصداق اس فردِ فرید کے ساتھ زیادتیوں کا یہ سلسلہ ان کی زندگی کے آخری ایام میں خوب بڑھ چڑھ کر سامنے آیا۔ وہ ضعیف و بیمار تھے، ان کے دستر خوان پر پلنے والے، ان کی تنخواہ سے کچن چلانے والوں نے ان کے خلاف ہرزہ سرائی کی کہ پیر صاحب رافضی ہو چکے ہیں۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ سید عرفان شاہ صاحب ان کی مسجد میں خطبہ جمعہ کیوں دیتے ہیں۔ یک جنبش قلم سے خروج لگانے والے ان نابالغوں نے حضرت پیر صاحب کی پیرانہ سالہ، ضعف اور قوت نافذہ کی عدم موجودگی بھی نہ دیکھی۔ ایک عرصے سے پیر صاحب رحمہ اللہ جمعیت تبلیغ الاسلام کے اتنظامی معاملات سے دور اور بستر علالت پر تھے۔ احسان فراموشی میں لاثانی اس طبقے نے ان کے وصال پر فتوے لکھے کہ حضرت کی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں اور وجہ فقط یہ کہ جس عالم کو یہ رافضی سمجھتے ہیں وہ ان کی مسجد میں خطبہ جمعہ کیوں دیتے ہیں!!!
یہ کیڑے مکوڑے، عقل و حکمت سے محروم، احسان فراموش، یتیم الفکر، ابنائے دہر و ظُلمات یکسر بھول گئے کہ وہ سر تا پا بلکہ ان کے جسم پر موجود ایک ایک بال اسی معروف حسین شاہ کا مقروض ہے جس پر طعن کرنے کے لیے وہ باہم باؤلے ہوئے پڑے ہیں اور تشنؔج و قولنج کے دورے پہ دورہ پڑے جا رہا تھا۔ ان کی آنے والی نسلیں بھی سید معروف شاہ رحمہ اللہ کے احسانات کے بدلے نہیں اتار سکیں گی۔ یہ چیخ رہے تھے کہ جو اس کے جنازے میں شریک ہو وہ اہل السنہ سے خارج ہو گا اور پھر اگلے ہی روز ویسٹ گیٹ بریڈ فورڈ میں ہم نے برطانیہ کے تمام بڑے مشائخ کو ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوتے دیکھا۔ علماء و مشائخ ان کی خدمات پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا، ان کو مکمل عزت و پروٹوکول کے ساتھ سفر آخرت پر روانہ کیا۔ اکابر سنی وبریلوی علماء کی شرکت کے بعد ان سگانِ آوارہ کی زبانیں کند ہو گئی اور کسی نے ان سنی بریلوی علماء کے تجدید ایمان و نکاح کا فتوٰی نہیں دیا۔ ملا کا دین اور ہے رسول اللہ ﷺ کا دین اور ہے۔ یہ ہوائے نفس کے پروردے جب زبان ہلاتے ہیں تو نہ خوف خدا نہ شرم نبی ۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جو پیر صاحب رحمہ اللہ کے چہلم میں شریک ہوئے اور آپس میں یہ کہتے پائے گئے کہ ایک تصویر بنوا کر واپس نکل آئیں گے تاکہ سند رہے تاہم شریک مجلس نہ ہوں گے کہ ہماری بریلویت بھی محفوظ رہے۔ میں کئی بار برطانوی امن پسند علماء سے گزارش کر چکا ہوں کہ ایسے شریر و شیطان صفت لوگوں کو اپنے اتحاد و اتفاق سے کچل ڈالیں اور ان فتنہ پروروں کو قانونی انداز میں نمٹا دیں۔
برطانیہ و یورپ میں درجنوں ایسی مساجد موجود ہیں جو سید معروف شاہ رحمہ اللہ کی کوشش و محنت سے بنی ہیں اور وہاں روزانہ سینکڑوں ہزاروں لوگ سجدہ کرتے ہیں۔ وہ اللہ کا دوست، رسول اللہ ﷺ کا وفادار، اپنے اجداد کا سپوت ایسے مراکز بنا گیا ہے کہ اس کے کھاتے میں ہرروز حسنات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کی تعمیر کی گئی مساجد بریڈ فورڈ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ کمیونٹی سینٹرز، تدفین و جنازہ کے انتطامات کے لیے کمیٹیز، تحفیظ القرآن کے مراکز ان کی بخشش کا سامان ہیں۔ ان کے دو بیٹے اپنے والد کا مشن سنبھالے ہوئے ہیں اور حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ ان کے بڑے صاحبزادے سید محمد احسن شاہ نے مسند سنبھالی ہے اور وہ خود تمام مساجد کو دیکھ رہے ہیں۔ کسی بھی والد کے لیے یہ خوشی و فخر کا باعث ہوتا ہے کہ اس کی اولاد اس کی جانشینی کا حق ادا کرے۔ ان کے صاحبزادے درس و تدریس میں دلچسپی رکھتے ہیں، پیر صاحب کے خلفاء و معاونین اور مخلصین بھی کوشاں ہیں۔ اللہ کریم ان کے لیے آسانی فرمائے۔
جمعیت تبلیغ الاسلام کی اتنظامیہ کو چاہیے کہ اپنی مساجد و مراکز کو قرآن و سنت کے دروس کا مرکز بنائے، روایتی خطابات، نعروں اور گروہی آپسی اختلافات کا مرکز نہ بننے دے بلکہ اجتماعی سُنی فکر پروان چڑھائیں۔ ہند و پاک میں جاری رافضی ناصبی گیم کو یہاں تک نہ پہنچنے دیں۔ یونیورسٹیز اور بین الاقوامی جامعات کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائیں۔ اجتماعی و آفاقی فکر والے سنجیدہ گفتگو اور ابحاث کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو اپنا منبر و محراب سونپیں۔
پیر صاحب کے چہلم کے وقت میں نے بعض دوستوں کو تجویز پیش کی تھی کہ ان کی حیات پر ایک ڈاکومنٹری بننی چاہیے اور میں اس میں معاونت کے لیے تیار ہوں تاکہ نوجوان نسل کو بتا سکیں کہ ابتدائی دور میں تبلیغِ دین کس قدر مشکل کام تھا اور اس مردِ عظیم نے کس قدر محنت سے یہاں جگہ بنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ عرب ممالک میں دینی علوم پڑھانے والی یونیورسٹیز میں پیر صاحب رحمہ اللہ کا ذکر ہوتا رہا لیکن انہیں مسلکی بنیاد پر نظر انداز کیا گیا، نتیجتاً مخالف فکر کے لوگ عرب شیوخ کے برطانیہ میں پارٹنز بن گئے۔ حال ہی میں لیڈز یونیورسٹی میں ایک عرب استاذ نے بھی یہی ذکر کیا۔ چند روز قبل ہم ان عرب اساتذہ کو ویسٹ گیٹ مسجد میں اپنے ساتھ لے گئے تھے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ پیر صاحب رحمہ اللہ نے کس محنت و لگن کے ساتھ برطانیہ میں مساجد قائم کی ہیں۔ برطانیہ میں موجود ہر مرکز و مسجد کو ملکی سیاسی و سماجی اہداف سامنے رکھ کر اپنی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے نہ کہ چند شریروں سے ڈر کر اپنے معاملات و انتظامات خراب کریں۔
اللہ کریم حضرت پیر صاحب کے درجات بلند فرمائے، ان کے جانشین بہترین کام کریں اور جمعیت تبلیغ الاسلام کے مراکز شاد و آباد رہیں۔
افتخار الحسن رضوی
بریڈفورڈ، انگلستان
۲۲ ربیع الاول ۱۴۴۶ بمطابق ۲۵ ستمبر ۲۰۲۴
#Bradford #IHRizvi