وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 25
sulemansubhani نے Sunday، 29 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاذۡكُرِ اسۡمَ رَبِّكَ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۞
ترجمہ:
اور آپ اپنے رب کے نام کا صبح اور پچھلے پہر ذکر کریں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ اپنے رب کے نام کا صبح اور پچھلے پہر ذکر کریں۔ اور رات کے کچھ وقت میں اس کے لیے سجدہ کریں، اور رات کے طویل حصہ میں اس کے لیے تسبیح کریں۔ بیشک یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں، اور بھاری دن اپنے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ہم نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ مضبوط بنائے ہیں اور ہم جب چاہیں گے ان کے بدلے میں اور لوگ لے آئیں گے۔ ( الدھر : ٢٨۔ ٢٥ )
صبح اور پچھلے پہر اللہ کے ذکر کرنے سے مراد پانچ نمازیں ہیں یا اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنا
الدھر : ٢٥ کی تفسیر میں دو قول ہیں : ایک یہ ہے کہ صبح اور پچھلے پہر اپنے رب کے نام کے ذکر سے مراد نماز پڑھنا ہے اور ” بکرہ “ سے مراد فجر کی نماز ہے اور ” اصیلا “۔ ( پچھلے پہر) سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں اور ” ومن الیل فاسجدہ لہ “ ( الدھر : ٢٦) سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور ” سبحہ لیلاطویلا۔ “ (الدھر : ٢٦) سے مراد تہجد کی نماز ہے۔
اس میں اختلاف ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تہجد ہمیشہ فرض رہی یا ابتداء میں یہ نماز فرض تھی، بعد میں اس کی) فرضیت منسوخ ہوگئی، اس کی تفصیل سورة المزمل میں بیان ہوچکی ہے۔
اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اپنے رب کے نام کے ذکر سے مراد نماز نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا نام کا ذکر کرنا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ دن اور رات کے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، خواہ وہ زبان سے ذکر کرے یا دل سے ذکر کرے۔
قرآن مجید اور احادیث سے اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرنے کی ترغیب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللہ ذِکْرًا کَثِیْرًا۔ وَّسَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا۔ (الاحزاب : ٤١۔ ٤٢ )
اے ایمان والو ! اللہ کا بہت زیادہ ذکر کرو۔ اور صبح کو اور پچھلے پہر اس کی پاکیزگی بیان کرو۔
اللہ تعالیٰ کا ذکر کی فضیلت میں حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت عبد اللہ بن بسر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اسلام کے احکام مجھ پر بہت زیادہ ہیں، پس آپ مجھے ایسی چیز بتایئے جس کو میں پلے باندھ لوں، آپ نے فرمایا : تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہر وقت تر رہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٨٣)
حضرت ابو سعید الخدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا : قیامت کے دن کس بندہ کا درجہ سب سے افضل ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والے مردوں کا اور زیادہ ذکر کرنے والی عورتوں کا، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا اس کا درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے بھی افضل ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص کفار اور مشرکین سے جہاد کرے حتیٰ کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون سے رنگین ہوجائے پھر بھی اللہ کا ذکر کرنے والوں کا درجہ اس سے زیادہ ہوگا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٦)
حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو تمہارے اس عمل کے متعلق نہ بتائوں جو تمہارے رب کے نزدیک سب سے زیادہ افضل، سب سے زیادہ پاکیزہ اور سب سے زیادہ بلند درجے والا ہے اور تمہارے لیے سونے اور چاندی کو خرچ کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور وہ تمہارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمہارا اپنے دشمنوں سے مقابلہ ہو، تم ان کی گردنوں پر وار کرو، وہ تمہاری گردنوں پر وار کریں، صحابہ نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا : وہ عمل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے، حضرت معاذ بن جبل (رض) نے کہا : اللہ کے ذکر سے زیادہ کوئی چیز اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٣٧٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٦٠، مسند احمد ج ٥ ص ١٩٥)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ (رض) دونوں گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگ بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر طمانیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا اپنے پاس والوں میں ذکر فرماتا ہے۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٠٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٩١)
حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے پاس گئے اور ان سے پوچھا تم یہاں کس لیے بیٹھے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کررہے ہیں اور اس نعمت پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے ہم کو اسلام کی ہدایت دی اور ہم پر اسلام کا احسان فرمایا، آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم صرف اس لیے بیٹھے ہو، انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم صرف اس لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا میں نے تم پر کسی جھوٹ کی تہمت کی بناء پر تم سے حلف نہیں لیا تھا لیکن ابھی میرے پاس حضرت جبریل آئے ہیں اور انہوں نے مجھے یہ خبر دی کہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہا ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٠١، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٤٤١ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لو کسی مجلس میں بیٹھیں اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں اور نہ اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوٰۃ پڑھیں تو وہ مجلس ان کے لیے ہلاکت ہوگی، اگر اللہ چاہے گا تو ان کو عذاب دے گا اور اگر وہ چاہے گا تو ان کو بخش دے گا، یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٧٩، مسند احمد ج ٢ ص ٤٤٠ )
تبیان القرآن سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 25