اَلَمۡ نَخۡلُقۡكُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۙ – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 20
sulemansubhani نے Wednesday، 9 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ نَخۡلُقۡكُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍۙ ۞
ترجمہ:
کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟
المرسلات : ٢٤۔ ٢٠ میں فرمایا : کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟۔ پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ ایک مدت معین تک۔ پھر ہم نے اندازہ کیا سو ہم کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔
کفار قریش کو حیات بعد الموت پر قدرت سے ڈرانا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس نے تم کو ابتداء ً پیدا فرمایا ہے، سو وہ تم کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، سو جب وہ تم کو دوبارہ پیدا کرے گا پھر اس نے تم کو جو نعمتیں عطاء کی ہیں، ان کے مقابلہ میں تمہاری اطاعتوں اور عبادتوں کا حساب لے گا۔
اس نے تم کو حقیر پانی کی بوند سے پیدا فرمایا، پھر اس نے تم کو ایک محفوظ جگہ میں رکھا اور وہ جگہ رحم ہے کیونکہ جس پانی سے بچہ پیدا ہوتا ہے وہ پانی رحم میں رہتا ہے اور جس پانی سے بچہ پیدا نہیں ہوتا وہ رحم سے خارج ہوجاتا ہے، اور رحم میں وہ ایک معین مدت تک رہتا ہے اور وہ مدت وقت ولادت ہے اور کتنی مدت میں بچہ پیدا ہوتا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے، پھر فرمایا : پھر ہم نے اندازہ کیا سو ہم کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ بچہ کی پیدائش کے لیے جس مدت کا اندازہ فرماتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے، عام طور پر حمل کی مدت نو ماہ ہوتی ہے، اس مدت میں پیٹ میں بچہ بد تریج نشو و نما کے مراحل طے کرتا ہے اور اس کی ماں بہ تدریج اس کا بوجھ اٹھانے کی عادی ہوجاتی ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بڑی حکمت ہے، ورنہ اگر اسقرار نطفہ کے فوراً بعد ٤ پونڈ کا بچہ بن جاتا ہے تو عورت کو اچانک اس بوجھ کو اٹھانے میں بھی بڑی تکلیف ہوتی اور وضع حمل کے وقت بھی بہت تکلیف ہوتی، اخیر میں پھر فرمایا : اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہ تدریج پیدائش کی جو نعمت عطاء کی ہے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کی تصدیق کرتا۔
القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 20