أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالسّٰبِحٰتِ سَبۡحًا ۞

ترجمہ:

اور ان کی قسم جو ( زمین و آسمان کے درمیان) تیرے پھیرتے ہیں.

النزعت : ٣ میں فرمایا اور ان کی قسم ( جو زمین اور آسمان کے درمیان) تیرتے پھرتے ہیں۔

” السابحات “ کے مصداق میں اقوال مفسرین

حضرت علی (رض) نے فرمایا :” السابحات “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو مؤمنین کی روحوں کے ساتھ تیرتے ہیں، الکلبی نے کہا : یہ وہ فرشتے ہیں جو مؤمنین کی روحوں کو قبض کرتے ہیں، جیسے کوئی شخص پانی میں تیرتا ہے تو کبھی پانی میں ڈبکی لگاتا ہے اور کبھی سطح آب پر ابھر آتا ہے اور مجاہد اور ابو صالح نے کہا : یہ وہ فرشتے ہیں جو بہت تیز رفتار گھوڑے کی طرح تیزی سے آسمان سے اترتے ہیں جیسے تیز رفتار گھوڑے کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تیرنے والا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں، قتادہ نے کہا : اس سے مراد ستارے، سورج اور چاند ہیں، اللہ سبحانہ فرماتا ہے۔rnَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔ (یٰسین : ٠٤) ہر ستارہ اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔

عطاء نے کہا : اس سے مراد کشتیاں ہیں۔

(الکشف والخفاء ج ٠١ ص ٤٢١، النکت والعیون ج ٦ ص ٣٩١، معالم التنزیل ج ٥ ص ٥٠٢، الجامع الاحکام القرآن جز، ٩١ ص ٧٤١ )

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 3