قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 12
sulemansubhani نے Sunday، 10 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَالُوۡا تِلۡكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۞
ترجمہ:
وہ کہتے ہیں : پھر تو یہ بڑے خسارے کی واپسی ہوگی۔
النزعت : 12 میں فرمایا : وہ کہتے ہیں کہ پھر تو بڑے خسارے کی واپسی ہوگی۔
” نخرۃ “ کا معنی اور خسارہ کی تفسیر میں دو قول
حسن بصری نے کہا : اس قول سے مشرکین نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کیا ہے، یعنی ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا اور دوسرے مفسرین نے کہا : مشرکین کے قول کا معنی یہ ہے کہ جیسا کہ مسلمانوں کا گمان ہے اگر ہم کو دوبارہ زندہ کیا گیا تو یہ دوسری زندگی مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہوگی کیونکہ مشرکین کا گمان یہ تھا کہ جس طرح وہ دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں، آخرت میں بھی اسی طرح عیش و عشرت میں ہوں گے اور مسلمان جس طرح دنیا میں تنگی سے گزر بسر کررہے ہیں، اس سے دوسری زندگی مسلمانوں کے لیے خسارہ کا باعث ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک کافر کا یہ قول نقل فرمایا ہے :
وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃًلا وَّلَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْہَا مُنْقَلَبًا۔ (الکہف : ٦٣ )
اور میں یہ گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تو میں اس ( دنیا) سے بہتر لوٹنے کی جگہ پائوں گا۔
پس مشرکین یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں دنیا کی جن نعمتوں سے نوازا ہے، اس کی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا درجہ اور مرتبہ مسلمانوں میں بہت بڑا اور بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء پر تو معیشت تنگ کر دے اور اپنے دشمنوں پر معیشت کو وسیع کر دے اور جب ان پر دنیا میں معیشت کشادہ کی گئی تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ وہی دنیا اور آخرت میں فضلیت والے ہیں اور جو انکے مخالف ہیں، وہی خسارے والے ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 12
[…] ہیں حتیٰ کہ وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں :” تِلْکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ۔ “ ( النازعات : ۱۲) پھر تو آخرت کی طرف لوٹنا بہت خسارہ والا ہوگا اور ہمارے […]