أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰٮهَا ۞

ترجمہ:

اور پہاڑوں کو اس زمین میں نصب کردیا۔

 

الزعت : 33۔ 32 میں فرمایا : اور پہاڑوں کو اس زمین میں نصیب کردیا۔ تم کو اور تمہارے چوپایوں کو فائدہ پہنانے کے لیے۔

” ارساھا “ کا معنی

اس آیت میں ” ارسیٰ “ کا لفظ ہے، یہ ” رسو “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : لنگر باندھنا، ثابت رکھنا اور میخ ٹھوکنا۔

یعنی پہاڑوں کو زمین میں نصب کردیا تاکہ وہ اپنی جگہ سے بل نہ سکے، اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ پہاڑوں کا اپنی جگہ قائم رہنا ان کی اپنی طبیعت کا تقاضا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے قائم کرنے کی وجہ سے ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 32