فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الۡكُبۡرٰى سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 34
sulemansubhani نے Sunday، 17 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الۡكُبۡرٰى ۞
ترجمہ:
پس جب بڑی مصیبت آجائے گی
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب بڑی مصیبت آجائے گی۔ اس دن انسان اپنی کوشش یاد کرے گا۔ اور ہر دیکھنے والے کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی۔ سو جس نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو بیشک دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ اور رہا جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس امارہ کو اس کی خواہش سے روکا۔ پس بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ ( الزعت :34-41
” طامۃ “ کا معنی
النزعت : ٤٣ میں فرمایا : پس جب بڑی مصیبت آجائیگی۔
اس آیت میں ” طامۃ “ کا لفظ ہے، یہ لفظ ” طم “ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے : کسی چیز کا اتنا زیادہ ہونا کہ وہ چھا جائے اور سب پر غالب آجائے، اس آیت میں اس سے مراد قیامت ہے کیونکہ ہنگامہ قیامت ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
(مختار الصحاح ص ٩٤٢ )
تبیان القرآن سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 34