فَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 41
sulemansubhani نے Sunday، 17 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَاِنَّ الۡجَـنَّةَ هِىَ الۡمَاۡوٰىؕ ۞
ترجمہ:
پس بیشک جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔
جنت کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :
جنت کی صفات کے متعلق احادیث
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو قرآن مجید کی یہ آیات پڑھو :
فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین (السجدہ : ٨١)
سو کوئی نفس نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کن نعمتوں کو چھپا رکھا ہے۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٤٢٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٢٨٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٧٩١٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٢٣٤، سنن دارمی رقم الحدیث : ٨٢٨٢، مسند احمد ج ٢ ص ٣١٣)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ جنت کی نعمتوں میں رہے گا، وہ خوف زدہ نہیں ہوگا، اس کے کپڑے میلے ہوں گے نہ اس کی جوانی ختم ہوگی۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣٨٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٢٥٢، سنن دارمی رقم الحدیث : ٩١٨٢، مسند احمد ج ٢ ص ٧٣)
حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان آسمان اور زمین جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے بلند درجہ ہے، اسی سے جنت کے چار دریا نکلتے ہیں اور اس کے اوپر عرش ہے، پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٩٧٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٣٥٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٣٤)
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 41