أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَنۡتَ عَنۡهُ تَلَهّٰى‌ ۞

ترجمہ:

تو آپ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے.

عبس : 10 میں فرمایا : تو آپ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔

حسن بصری نے کہا : آپ نے جو مؤمنین سے پیٹھ پھیری اور کافروں کی طرف توجہ کی یہ میرا حکم نہ تھا، ابوبکر اصم نے کا : اب مذکورہ دس آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوف ہوا کہ کہیں آپ کا منصب رسالت زائل نہ ہوجائے، پھر بعد کی آیت سے آپ کو اطمینان ہوا۔ اس آیت میں ” تلھی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ایک سے اعراض کر کے دوسرے کے ساتھ مشغول ہونا۔

آپ کو جو یہ خوف ہوا کہ کہیں آپ کا منصب رسالت زائل نہ ہوجائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اللہ سے بہت زیادہ ڈرتے تھے، آپ کو خیال ہوا کہ میرا مومن سے پیٹھ پھیرنا شاید اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے، بعد کی آیات سے آپ کو تسلی ہوئی، پھر آپ کا یہ خوف زائل ہوگیا اور آپ کو اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے ناراض نہیں ہوا۔

القرآن – سورۃ نمبر 80 عبس آیت نمبر 10