كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوۡ ضُحٰٮهَا – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 46
sulemansubhani نے Monday، 18 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَاَنَّهُمۡ يَوۡمَ يَرَوۡنَهَا لَمۡ يَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوۡ ضُحٰٮهَا ۞
ترجمہ:
گویا کہ وہ جس دن اس کو دیکھیں گے تو ان کو محسوس ہوگا کہ وہ ( دنیا میں) صرف دن کے آخری حصے میں ٹھہرے تھے یا دن کے اول حصے میں ؏
النزعت : 46 میں فرمایا : گویا کہ وہ جس دن اس کو دیکھیں گے تو ان کو محسوس ہوگا کہ وہ ( دنیا میں) صرف دن کے آخری حصے میں ٹھہرے تھے یا دن کے اول حصے میں۔
کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَ لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَۃً مِّنْ نَّہَارٍط (الاحقاف : ٥٣ )
یہ ( کفار) جس دن اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو ( ان کو یوں لگے گا) کہ وہ ( دنیا میں) دن کی ایک گھڑی ہی ٹھہرے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جس عذاب کا کافروں نے انکار کیا تھا جب ان کو اس عذاب میں مبتلا کیا جائے گا تو ان کو یوں محسوس ہوگا کہ وہ ہمیشہ سے اس عذاب میں رہے ہیں اور دنیا میں تو انہوں نے صرف دن کا تھوڑا سا وقت گزارا تھا۔
سورۃ النزعت کا اختتام
الحمد للہ علی احسانہ ! آج ٨١ رجب ٦٢٤١ ھ /٤٢ اگست ٥٠٠٢ ء، بروز بدھ سورة النزعت کی تفسیر مکمل ہوگئی، ١١ اگست ٥٠٠٢ ء کو اس سورت کی تفسیر کی ابتداء کی تھی، اس طرح تیرہ دنوں میں اس کی تفسیر اپنے اختتام کو پہنچی۔ اے بار الٰہ ! جس طرح آپ نے یہاں تک پہنچا دیا ہے باقی سورتوں کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں، اور میری مغفرت فرمادیں۔
واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدالمرسلین سیدنا محمد وعلیٰ آلہ و اصحابہ وازواجہ وذریاتہ اجمعین۔
القرآن – سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 46