يَسۡــٴَــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 42
sulemansubhani نے Monday، 18 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَسۡــٴَــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ۞
ترجمہ:
یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا۔ آپ کا اس کے ذکر سے کیا تعلق ہے ؟۔ آپ کے رب کی طرف ہی اس کی انتہاء ہے۔ آپ تو صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرتا ہے۔ گویا کہ وہ جس دن اس کو دیکھیں گے تو ان کو محسوس ہوگا کہ وہ ( دنیا میں) صرف دن کے آخری حصے میں ٹھہرے تھے یا دن کے اول حصے میں۔ (النزعت : 46۔ 42 )
کفار وقوع قیامت کا کیوں سوال کرتے تھے ؟
اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع کے امکان پر دلائل قائم فرمائے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے وقوع کی خبر دی، پھر قیامت کے دن رونما ہونے والے ہولناک اور دہشت ناک مناظر بیان فرمائے، پھر قیامت کے دن مؤمنوں اور کافروں کے انجام کی خبر دی اور اس کے بعد اب النزعت : ٢٤ میں فرمایا ہے : یہ لوگ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟
مشرکین قیامت کے وقوع کی خبر اور اس کے ہولناک مناظر کی خبریں سنتے تھے اور قیامت کے یہ نام بتائے گئے کہ وہ ” الطامۃ “ ( بہت بڑی مصیبت) ہے ” الصاحۃ “ ( ثابت شدہ حقیقت) ہے، ” الواقعۃ “ ( ضرور واقع ہونے والی) ہے، ” القارعۃ “ ( کھٹکھٹا کر خبر کرنے والی) ہے اور ” الساعۃ “ وغیرہا ہیں، اس لیے وہ تجسس سے پوچھتے تھے کہ وہ کب واقع ہوگی ؟ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت کے متعلق اس لیے سوال کرتے ہوں کہ وہ اس کو جلد طلب کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
یستجل بھا الذین لا یومنون بھا (الشوریٰ : ٨١) قیامت کے وقوع کی جلدی ان لوگوں کو ہے جو قیامت پر ایمان نہیں لاتے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 79 النازعات آیت نمبر 42