اِذَا الشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Friday، 22 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِذَا الشَّمۡسُ كُوِّرَتۡ ۞
ترجمہ:
جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں بےکار چھوڑ دی جائیں گی۔ اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے۔ اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے۔ اور جب جانیں ملا دی جائیں گی۔ اور جب زندہ درگور ( لڑکی) سے سوال کیا جائے گا۔ وہ کس گناہ میں قتل کی گئی ؟۔ اور جب صحائف اعمال پھیلا دیئے جائیں گے۔ اور جب آسمان کھینچ لیا جائے گا۔ اور جب دوزخ کو بھڑکا یا جائے گا۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی۔ تو ہر شخص جان لے گا جو کام اس نے پیش کیا ہے۔ ( التکویر : ۱۴۔ ١)
” کورت “ کا معنی
ابتدائی تیرہ آیات میں بارہ چیزوں کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بارہ چیزیں قیامت کی علامات ہیں اور ان تیرہ آیات کا پہلی آیت پر عطف ہے اور معطوف اور معطوف علیہ مل کر شرط ہیں اور آیت : ۱۴ میں اس کی جزاء ہے، خلاصہ کلام اس طرح ہے کہ جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا اور باقی مذکورعلامات بھی واقع ہوجائیں گی تو ہر شخص جان لے گا جو کام اس نے پیش کیا ہے یعنی جو عمل اس نے آخرت کے لیے آگے بھیجا ہے، وہ کیا ہے۔
التکویر : ١ میں فرمایا : جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا۔
اس آیت میں ” کورت “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” تکویر “ ہے، حسن بصری نے کہا : اس کا معنی ہے : جب سورج کی روشنی ختم ہوجائے گی اور اس میں کوئی روشنی نہیں ہوگی۔ ( تفسیر مجاہد ص ٣٢٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ٥٢٤١ ھ)
مقاتل بن سلیمان متوفی ٠٥١ ھ نے کہا : جب اس کی روشنی نہیں رہے گی۔
(تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٥٥٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ٤٢٤١ ھ)
امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٠١٣ ھ مذکور الصدر تفسیر روایت کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
ابو صالح اور ابو یعلیٰ روایت کرتے ہیں : جب سورج کو پھینک دیا جائے گا۔
( جامع البیان رقم الحدیث : ٨١٢٨٢۔ ٧١٢٨٢، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)
پھر امام ابن جریر اپنا مختار لکھتے ہیں :
ہمارے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ کلام عرب میں ” تکویر “ کا معنی ہے : ایک چیز کے بعض اجزاء کو اس کے اوپر لپیٹنا، جیسے عمامہ کو سر کے اوپر لپیٹا جاتا ہے یا جیسے بڑی چادر میں کپڑے جمع کر کے اس چادر کو کپڑوں کے اوپر لپیٹا جاتا ہے، اسی طرح سورج کو لپیٹنے کا معنی یہ ہے کہ سورج کے بعض اجزاء کو بعض پر لپیٹ کر پھینک دیا جائے گا اور جب ایسا کیا جائے گا تو اس کی روشنی جاتی رہے گی۔ ( جامع البیان جز ٠٣ ص ٢٨، دارالفکر، بیروت، ٥١٤١ ھ)
اس اعتراض کا جواب کہ سورج اور چاند کو کس گناہ کی وجہ سے دوزخ میں ڈالا جائے گا ؟
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٥٥٨ ھ لکھتے ہیں :
امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورج اور چاند دونوں کو قیامت کے دن لپیٹ دیا جائے گا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٠٠٢٣) امام بزار اور دوسرے ائمہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ان کو لپیٹ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا، حسن بصری نے کہا : ان دونوں کا کیا گناہ ہے جو ان کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ؟ ابو سلمہ نے کہا : میں تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم اس پر اعتراض کررہے ہو کہ ان کا کیا گنا ہے ؟ امام بزار نے کہا : حضرت ابوہریرہ سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : سورج اور چاند کو دوزخ میں اس لیے پھینکا جائے گا تاکہ سورج اور چاند کی عبادت کرنے والے ان کا انجام دیکھ لیں۔
امام ابن وہب نے ” جمع الشمس والقمر “ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن سورج اور چاند کو جمع کر کے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور امام ابن ابی حاتم نے اس کو حضرت ابن عباس (رض) سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ سورج اور چاند کے دوزخ میں ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کو عذاب دیا جا رہا ہو لیکن اس سے ان لوگوں کو ذلیل کرنا مقصود ہے جو دنیا میں سورج اور چاند کی عبادت کرتے تھے تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ ان کی وہ عبادت باطل تھی، ایک قول یہ ہے کہ سورج اور چاند کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے، پھر ان کو آگ میں لوٹا دیا جائے گا، اور اسماعیلی نے کہا : ان کو دوزخ میں ڈالنے سے ان کو عذاب دینا لازم نہیں آتا کیونکہ دوزخ میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی ہوں گے، پتھر بھی ہوں گے اور بھی کئی چیزیں ہوں گی اور اہل دوزخ کو عذاب دینے کے لیے عذاب کے کئی آلات ہوں گے، لہٰذا سورج اور چاند کا عذاب یافتہ ہونا لازم نہیں آئے گا۔ ( فتح الباری ج ٦ ص ٣٤٤، دارالفکر، بیروت، ٠٢٤١ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 81 التكوير آیت نمبر 1