اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِىۡ نَعِيۡمٍۚ سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 13
sulemansubhani نے Friday، 6 December 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِىۡ نَعِيۡمٍۚ ۞
ترجمہ:
بیشک نیکو کار ضرور ( جنت کی) نعمت میں ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک نیکو کار ضرور ( جنت کی) نعمت میں ہیں۔ اور بیشک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں۔ وہ روز جزاء کو اس میں پہنچیں گے۔ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے۔ اور آپ نے کیا سمجھا روز جزاء کیا ہے ؟۔ پھر آپ نے کیا سمجھا روز ِجزاء کیا ہے ؟۔ جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا، اور اس دن تمام احکام اللہ ہی کے ہوں گے۔ ( الانفطار : ١٩۔ ١٣)
الانفطار : ١٤۔ ١٣ میں فرمایا : بیشک نیکو کار ضرور ( جنت کی) نعمت میں ہیں۔ اور بیشک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں۔
’ ’ ابرار “ کا معنی اور مرتکب کبیرہ کو دائمی عذاب نہ ہونا
اس سے پہلی آیات میں بتایا تھا کہ کراماً کاتبین بنو آدم کے تمام اعمال لکھ رہے ہیں اور ان آیتوں میں ان عمل کرنے والوں کے اخروی اعمال کو بیان فرمایا ہے۔
ان آیتوں میں ” ابرار “ کا ذکر فرمایا ہے اور ” ابرار “ کا معی ہے : بر ( نیکی) کرنے والے اور ” بر “ کا بیان اس آیت میں ہے :
بر ( نیکی) صرف یہ نہیں ہے کہ تم مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف منہ کرلو بلکہ حقیقت میں نیکو کار وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخر پر اور فرشتوں پر اور کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو مال دے اور غلاموں کو آزاد کے اور پابندی سے نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور جب کوئی عہد کرے تو اس کو پورا کرے، تنگ دستی، دکھ درد اور جنگ کے وقت صبر کرے یہی وہ لوگ ہیں جو صادق ہیں اور یہی متقی ہیں۔ ( البقرہ : ١٧٧)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بر اور تقویٰ اور ابرارء اور متقین دونوں سے مراد احد ہے اور جو ان تمام اوصاف سے متصف ہو وہ نیکو کار اور متقی ہے۔
معتزلہ نے یہ کہا ہے کہ : اور بدکار ضرور دوزخ میں ہیں ( الانفطار : ١٤) اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے ( الانفطار : ١٦)
یہ آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ مرتکب گناہ کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، کیونکہ مرتکب کبیرہ فاجرہ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فجار ضرور دوزخ میں ہیں اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، لیکن ہمارے نزدیک مومن مرتکب کبیرہ فاجر نہیں ہے، فاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی تکذیب کرے جیسا کہ ان آیات سے واضح ہوتا ہے :
کَلَّ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا سِجِّیْنٌ۔ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (المطففین : ٧۔ ١١)
بے شک فجار کا صحیفہ اعمال میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ سبحین کیا ہے ؟۔ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔ وہ لوگ جو روز جزاء کی تکذیب کرتے ہیں۔
پس فجار کے عموم میں مؤمنین مرتکبین کبائر داخل نہیں ہیں اور اگر بالفرض مومن مرتکب کبیرہ کو دوزخ میں داخل کیا جائے تو وہ تھوڑا عرصہ تطہیر کے لیے دوزخ میں داخل ہوگا، بعد میں اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے یا اللہ تعالیٰ کے فضل محض سے دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 13